راجیندر منچندا ،بانی

  • 1932-1981
  • دھلی

جدید اردو غزل کی طاقت ور ترین آوازوں میں شامل

جدید اردو غزل کی طاقت ور ترین آوازوں میں شامل

Editor Choiceمنتخب Popular Choiceمقبول
غزلصنف
0 ا ,آسماں کا سرد سناٹا پگھلتا جائے_گا0
0 ا ,اک گل_تر بھی شرر سے نکلا0
0 ا ,بہت کچھ منتظر اک بات کا تھا0
0 ا ,پی چکے تھے زہر_غم خستہ_جاں پڑے تھے ہم چین تھا0
0 ا ,دلوں میں خاک سی اڑتی ہے کیا نہ جانے کیا0
0 ا ,دمک رہا تھا بہت یوں تو پیرہن اس کا0
0 ا ,دن کو دفتر میں اکیلا شب بھرے گھر میں اکیلا1
0 ا ,ذرا سا امکان کس قدر تھا0
0 ا ,صد_سوغات سکوں فردوس ستمبر آ0
0 ا ,عجیب تجربہ تھا بھیڑ سے گزرنے کا0
0 ا ,عکس کوئی کسی منظر میں نہ تھا0
0 ا ,علی_بن_متقی رویا0
0 ا ,غائب ہر منظر میرا0
0 ا ,قدم زمیں پہ نہ تھے راہ ہم بدلتے کیا0
0 ا ,کہاں تلاش کروں اب افق کہانی کا0
0 ا ,لباس اس کا علامت کی طرح تھا1
0 ا ,مجھ سے اک اک قدم پر بچھڑتا ہوا کون تھا0
0 ا ,مجھے پتہ تھا کہ یہ حادثہ بھی ہونا تھا0
0 ا ,میں اس کی بات کی تردید کرنے والا تھا0
0 ا ,میں چپ کھڑا تھا تعلق میں اختصار جو تھا1
0 ا ,نہ منزلیں تھیں نہ کچھ دل میں تھا نہ سر میں تھا0
0 ا ,وہ بات بات پہ جی بھر کے بولنے والا0
0 ا ,وہ جسے اب تک سمجھتا تھا میں پتھر، سامنے تھا0
0 ت ,بجائے ہم_سفری اتنا رابطہ ہے بہت0
0 تیرگی بلا کی ہے میں کوئی صدا لگاؤں0
0 چمکتی آنکھ میں صحرا دکھائی صاف دیتا ہے0
0 ر ,چھپی ہے تجھ میں کوئی شے اسے نہ غارت کر0
0 سر سبز موسموں کا نشہ بھی مرے لئے0
0 ف ,سفر ہے مرا اپنے ڈر کی طرف0
0 گزر رہا ہوں سیہ اندھے فاصلوں سے میں0
0 ل ,سیاہ_خانۂ_امید_رائیگاں سے نکل0
0 ل ,محراب نہ قندیل نہ اسرار نہ تمثیل0
0 ن ,اک ڈھیر راکھ میں سے شرر چن رہا ہوں میں0
0 ن ,پیہم موج_امکانی میں1
0 ن ,تجھے ذرا دکھ اور سسکنے والا میں0
0 ن ,چلی ڈگر پر کبھی نہ چلنے والا میں0
0 ن ,دوستو کیا ہے تکلف مجھے سر دینے میں0
0 ن ,دیکھتا تھا میں پلٹ کر ہر آن0
0 ن ,رہی نہ یارو آخر سکت ہواؤں میں0
0 ن ,سر_بہ_سر ایک چمکتی ہوئی تلوار تھا میں0
0 ن ,سیر_شب_لامکاں اور میں1
0 ن ,شعلہ ادھر ادھر کبھی سایا یہیں کہیں0
0 ن ,گھنی_گھنیری رات میں ڈرنے والا میں0
0 ن ,موڑ تھا کیسا تجھے تھا کھونے والا میں0
0 ن ,نہ جانے کل ہوں کہاں ساتھ اب ہوا کے ہیں0
0 ن ,ہری سنہری خاک اڑانے والا میں0
0 نہ حریفانہ مرے سامنے آ میں کیا ہوں0
0 ھ ,یہ ذرا سا کچھ اور ایک_دم بے_حساب سا کچھ1
0 و ,اے لمحو میں کیوں لمحۂ_لرزاں ہوں بتاؤ0
0 ی ,آج اک لہر بھی پانی میں نہ تھی1
0 ے ,آج تو رونے کو جی ہو جیسے0
0 ی ,ادھر کی آئے_گی اک رو ادھر کی آئے_گی0
0 ی ,پھر وہی تو ساتھ میرے پھر وہی بستی پرانی0
0 ے ,تمام راستہ پھولوں بھرا ہے میرے لیے0
0 ی ,چاند کی اول کرن منظر_بہ_منظر آئے_گی0
0 ی ,خاک و خوں کی وسعتوں سے با_خبر کرتی ہوئی1
0 ے ,دل میں خوشبو سی اتر جاتی ہے سینے میں نور سا ڈھل جاتا ہے0
0 ے ,زماں مکاں تھے مرے سامنے بکھرتے ہوئے1
0 ے ,شفق شجر موسموں کے زیور نئے نئے سے0
0 ی ,صدائے_دل عبادت کی طرح تھی0
0 ی ,فضا کہ پھر آسمان بھر تھی1
0 ی ,کوئی بھولی ہوئی شے طاق_ہر_منظر پہ رکھی تھی0
0 ے ,مرے بدن میں پگھلتا ہوا سا کچھ تو ہے0
0 ے ,مست اڑتے پرندوں کو آواز مت دو کہ ڈر جائیں_گے0
0 ے ,ہم ہیں منظر سیہ آسمانوں کا ہے0
0 ی ,ہمیں لپکتی ہوا پر سوار لے آئی0
seek-warrow-w
  • 1
arrow-eseek-e1 - 66 of 66 items