ADVERTISEMENT

اشعار پرروشنی

روشنی اور تاریکی شاعری

میں صرف دو لفظ نہیں ہیں بلکہ ان دونوں لفظوں کا استعاراتی اور علامتی بیان زندگی کی بے شمار صورتوں پر محیط ہے ۔ روشنی کو موضوع بنانے والے ہمارے اس انتخاب کو پڑھ کر آپ حیران رہ جائیں گے کہ ایک لفظ شاعری میں جا کر کس طرح اپنے معنی کی سطح پر نئی نئی صورتیں اختیارکرلیتا ہے ۔ شاعری میں روشنی زندگی کی مثبت قدروں کی علامت بھی ہے اور تاریکی کی معصومیت کو ختم کرکے نئی بے چینیوں اور پریشانیوں کو جنم دینے کا ذریعہ بھی ۔

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے

عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

فرحت احساس

اندھیروں کو نکالا جا رہا ہے

مگر گھر سے اجالا جا رہا ہے

فنا نظامی کانپوری

نہیں ہے میرے مقدر میں روشنی نہ سہی

یہ کھڑکی کھولو ذرا صبح کی ہوا ہی لگے

بشیر بدر

روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا

کچھ دیئے ایسے جلے ہر سو اندھیرا ہو گیا

آزاد گلاٹی
ADVERTISEMENT

بہت سکون سے رہتے تھے ہم اندھیرے میں

فساد پیدا ہوا روشنی کے آنے سے

عالم خورشید

گھر سے باہر نہیں نکلا جاتا

روشنی یاد دلاتی ہے تری

فضیل جعفری

روشندان سے دھوپ کا ٹکڑا آ کر میرے پاس گرا

اور پھر سورج نے کوشش کی مجھ سے آنکھ ملانے کی

حمیرا رحمان

خود ہی پروانے جل گئے ورنہ

شمع جلتی ہے روشنی کے لیے

صنم پرتاپ گڑھی
ADVERTISEMENT

روشنی مجھ سے گریزاں ہے تو شکوہ بھی نہیں

میرے غم خانے میں کچھ ایسا اندھیرا بھی نہیں

اقبال عظیم

دلیل تابش ایماں ہے کفر کا احساس

چراغ شام سے پہلے جلا نہیں کرتے

شکیل بدایونی

الفت کا ہے مزہ کہ اثرؔ غم بھی ساتھ ہوں

تاریکیاں بھی ساتھ رہیں روشنی کے ساتھ

اثر اکبرآبادی

کہیں کوئی چراغ جلتا ہے

کچھ نہ کچھ روشنی رہے گی ابھی

ابرار احمد
ADVERTISEMENT

روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا

اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم تر دیکھنا

حمایت علی شاعر

نمود صبح سے شب کی وہ تیرگی تو گئی

یہ اور بات کہ سورج میں روشنی کم ہے

سید نواب افسر لکھنوی

دیتے نہیں سجھائی جو دنیا کے خط و خال

آئے ہیں تیرگی میں مگر روشنی سے ہم

انجم رومانی

منظروں سے بہلنا ضروری نہیں گھر سے باہر نکلنا ضروری نہیں

دل کو روشن کرو روشنی نے کہا روشنی کے لئے ایک تازہ غزل

عرفان ستار
ADVERTISEMENT

روشنی جب سے مجھے چھوڑ گئی

شمع روتی ہے سرہانے میرے

اصغر ویلوری

نئی سحر کے حسین سورج تجھے غریبوں سے واسطہ کیا

جہاں اجالا ہے سیم و زر کا وہیں تری روشنی ملے گی

ابو المجاہد زاہد

گھٹن تو دل کی رہی قصر مرمریں میں بھی

نہ روشنی سے ہوا کچھ نہ کچھ ہوا سے ہوا

خالد حسن قادری

روشنی کی اگر علامت ہے

راکھ اڑتی ہے کیوں شرارے پر

خالد ملک ساحل
ADVERTISEMENT