صبح پر اشعار
صبح کا وقت اپنی شفافیت
، تازگی ، خوشگوار فضا، پرندوں کی چہچہاہٹ اور کئی وجہوں سے سب کو پسند ہوتا ہے اور اپنی ان صفات کے حوالے سے اس کا استعمال شاعری میں بھی ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ صبح کی آمد کئی علامتی جہتیں بھی رکھتی ہے ایک سطح پر یہ سیاہ رات کے خلاف جنگ کے بعد کی صبح بھی ہے اور ایک نئی جدوجہد کے آغاز کا ابتدائیہ بھی ۔ ہمارے اس انتخاب میں آپ صبح کو اور کئی رنگوں میں دیکھیں گے
نئی صبح پر نظر ہے مگر آہ یہ بھی ڈر ہے
یہ سحر بھی رفتہ رفتہ کہیں شام تک نہ پہنچے
-
موضوع : شام
ہم ایسے اہل نظر کو ثبوت حق کے لیے
اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھی
کون سی بات نئی اے دل ناکام ہوئی
شام سے صبح ہوئی صبح سے پھر شام ہوئی
اب آ گئی ہے سحر اپنا گھر سنبھالنے کو
چلوں کہ جاگا ہوا رات بھر کا میں بھی ہوں
روشندان سے دھوپ کا ٹکڑا آ کر میرے پاس گرا
اور پھر سورج نے کوشش کی مجھ سے آنکھ ملانے کی
رونے والے ہوئے چپ ہجر کی دنیا بدلی
شمع بے نور ہوئی صبح کا تارا نکلا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں ہجر کے دکھ کی کیفیت یکایک بدلتی دکھائی گئی ہے: آہ و زاری کے بعد ایک سنّاٹا چھا جاتا ہے۔ شمع کا بے نور ہونا رات کی اداسی اور دل کی تھکن کی علامت ہے۔ سحر کے تارے کا نکلنا نئے وقت کے آغاز کا اشارہ ہے—غم باقی ہے مگر منظر رات سے صبح کی طرف پلٹ گیا ہے۔
صبح سویرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن
راتوں رات چلا جائے جس کو جانا ہے
آ ہی پہنچی اک دریچے سے شعاع آفتاب
میں یہ سمجھا تھا شب غم کی سحر کوئی نہیں
-
موضوعات : امیداور 1 مزید
ہجر کی شب کو یاں تئیں تڑپا
کہ ہوا صبح ہوتے میرا وصال
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں ہجر کی رات کی شدید اذیت بیان ہوئی ہے جس میں عاشق کی تڑپ حد کو پہنچ جاتی ہے۔ “یاں تئیں” شدت اور انجام تک پہنچنے کا اشارہ ہے۔ صبح کا آنا امید اور راحت کی علامت بن کر آتا ہے، اور اسی لمحے وصال کا مفہوم مکمل ہو جاتا ہے۔ یوں دکھ سے سکون تک کا سفر ایک ہی شعر میں سمٹ آتا ہے۔
-
موضوعات : وصالاور 1 مزید
سحر کے ساتھ ہوگا چاک میرا دامن ہستی
برنگ شمع بزم دہر میں مہماں ہوں شب بھر کا
-
موضوعات : شمعاور 1 مزید