aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

زخم پر اشعار

سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے

چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے

محسن نقوی

اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے

آج تک سلگتے ہیں زخم رہ گزاروں کے

ساحر لدھیانوی

خاموشی کے ناخن سے چھل جایا کرتے ہیں

کوئی پھر ان زخموں پر آوازیں ملتا ہے

امیر امام

میں تیرے ہدیۂ فرقت پہ کیسے نازاں ہوں

مری جبیں پہ ترا زخم تک حسین نہیں

آکاش عرش

شاخ مژگاں پہ مہکنے لگے زخموں کے گلاب

پچھلے موسم کی ملاقات کی بو زندہ ہے

شاہد کمال

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے