جو پورے ہونے سے رہ گئے تھے وہ خواب رکھے ہوئے ہیں گھر میں
یقین مانو پرانی رت کے گلاب رکھے ہوئے ہیں گھر میں
-
موضوعات : خواباور 1 مزید
تھا شاخ پر گلاب بڑی شان سے مگر
جوڑے میں تیرے اور طرحدار ہو گیا
-
موضوع : زلف
کھل رہے ہیں گلاب زخموں کے
شکریہ آپ کی نوازش کا
-
موضوع : زخم
کلی چٹخ کے لبوں کے مزاج تک پہنچی
گلاب ٹوٹ کے سرخیٔ گال تک آئے
-
موضوعات : روماناور 2 مزید
میں نے اظہار محبت میں اسے پھول دیا
اور وہ رکھ کے کتابوں میں کہیں بھول گئی
انہیں سے تازگیٔ ذہن ہے نصیب مجھے
گلاب چہرے ہمیشہ نظر میں رہتے ہیں
گلاب کاغذ میں گم ہیں ایسے
حسین منظر سراب میں گم
تمہارا لمس معطر تمہارا جسم بہار
یہی تو بحث گلابوں کے روبرو ٹھہری
-
موضوعات : ادااور 2 مزید