شاہد کمال

غزل 38

اشعار 4

جنگ کا شور بھی کچھ دیر تو تھم سکتا ہے

پھر سے اک امن کی افواہ اڑا دی جائے

  • شیئر کیجیے

تیر مت دیکھ مرے زخم کو دیکھ

یار یار اپنا عدو میں گم ہے

اس عاجزی سے کیا اس نے میرے سر کا سوال

خود اپنے ہاتھ سے تلوار توڑ دی میں نے

ریت پر وہ پڑی ہے مشک کوئی

تیر بھی اور کمان سا کچھ ہے

"لکھنؤ" کے مزید شعرا

  • مصحفی غلام ہمدانی مصحفی غلام ہمدانی
  • جرأت قلندر بخش جرأت قلندر بخش
  • حیدر علی آتش حیدر علی آتش
  • میر حسن میر حسن
  • امداد علی بحر امداد علی بحر
  • عزیز بانو داراب وفا عزیز بانو داراب وفا
  • عرفان صدیقی عرفان صدیقی
  • ولی اللہ محب ولی اللہ محب
  • یگانہ چنگیزی یگانہ چنگیزی
  • وزیر علی صبا لکھنؤی وزیر علی صبا لکھنؤی