بندگی پر شاعری

بندگی اپنے سیدھے سے مفہوم میں خدا اور بندے کے بیچ کے رشتے کی صورت کا نام ہے ۔ شاعری میں اس رشتے کی کشمکش اور اس کے سکھ دکھ کو طرح طرح سے موضوع بنایا گیاہے ۔ بندہ کبھی بندگی کے بار تلے دب جاتا ہے اور کبھی بندگی میں بھی اپنی خودبینی اور آزادہ روی کی راہیں تلاش کرتا ہے ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا انتخاب بندگی کی انہیں الجھی ہوئی کیفیتوں کا بیان ہے ۔

بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔ

کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں

احمد فراز

عاشقی سے ملے گا اے زاہد

بندگی سے خدا نہیں ملتا

داغؔ دہلوی

دل ہے قدموں پر کسی کے سر جھکا ہو یا نہ ہو

بندگی تو اپنی فطرت ہے خدا ہو یا نہ ہو

جگر مراد آبادی

رہنے دے اپنی بندگی زاہد

بے محبت خدا نہیں ملتا

مبارک عظیم آبادی

تو میرے سجدوں کی لاج رکھ لے شعور سجدہ نہیں ہے مجھ کو

یہ سر ترے آستاں سے پہلے کسی کے آگے جھکا نہیں ہے

رفیق راز

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی

بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

مرزا غالب

جواز کوئی اگر میری بندگی کا نہیں

میں پوچھتا ہوں تجھے کیا ملا خدا ہو کر

شہزاد احمد

بندگی کا مری انداز جدا ہوتا ہے

میرا کعبہ میرے سجدوں میں چھپا ہوتا ہے

نامعلوم

یہی ہے زندگی اپنی یہی ہے بندگی اپنی

کہ ان کا نام آیا اور گردن جھک گئی اپنی

ماہر القادری

صدق و صفائے قلب سے محروم ہے حیات

کرتے ہیں بندگی بھی جہنم کے ڈر سے ہم

شکیل بدایونی

قبول ہو کہ نہ ہو سجدہ و سلام اپنا

تمہارے بندے ہیں ہم بندگی ہے کام اپنا

مبارک عظیم آبادی

دوستی بندگی وفا و خلوص

ہم یہ شمع جلانا بھول گئے

انجم لدھیانوی

شاہوں کی بندگی میں سر بھی نہیں جھکایا

تیرے لیے سراپا آداب ہو گئے ہم

تابش دہلوی

اپنی خوئے وفا سے ڈرتا ہوں

عاشقی بندگی نہ ہو جائے

بیخود بدایونی

بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم

الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا

مرزا غالب

کیسے کریں بندگی ظفرؔ واں

بندوں کی جہاں خدائیاں ہیں

صابر ظفر

خلوص ہو تو کہیں بندگی کی قید نہیں

صنم کدے میں طواف حرم بھی ممکن ہے

مضطر حیدری