تحفہ پر اشعار

تحفے پر یہ شعری انتخاب آپ کے لئے ہماری طرف سے ایک تحفہ ہی ہے ۔ آپ اسے پڑھئے اور عام کیجئے ۔ عام زندگی میں تحفہ لینے اور دینے سے رشتے پروان چڑھتے ہیں ، تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور نئے جذبوں کی آبیاری ہوتی ہے ۔ لیکن عاشق اور معشوق کے درمیان تحفہ لینے اور دینے کی صورتیں ہی کچھ اور ہیں ۔ ہمارا یہ شعری انتخاب آپ کو اور بھی کئی دلچسپ جہتوں تک لے جائے گا ۔

اثر یہ تیرے انفاس مسیحائی کا ہے اکبرؔ

الہ آباد سے لنگڑا چلا لاہور تک پہنچا

اکبر الہ آبادی

اس مہرباں نظر کی عنایت کا شکریہ

تحفہ دیا ہے عید پہ ہم کو جدائی کا

نامعلوم

اور کچھ تحفہ نہ تھا جو لاتے ہم تیرے نیاز

ایک دو آنسو تھے آنکھوں میں سو بھر لائیں ہیں ہم

میر حسن

چاہیئے کیا تمہیں تحفے میں بتا دو ورنہ

ہم تو بازار کے بازار اٹھا لائیں گے

عطا تراب

آج بھی شاید کوئی پھولوں کا تحفہ بھیج دے

تتلیاں منڈلا رہی ہیں کانچ کے گلدان پر

شکیب جلالی

ہم تحفے میں گھڑیاں تو دے دیتے ہیں

اک دوجے کو وقت نہیں دے پاتے ہیں

فریحہ نقوی

چند الفاظ کے موتی ہیں مرے دامن میں

ہے مگر تیری محبت کا تقاضا کچھ اور

عامر عثمانی

کئی طرح کے تحائف پسند ہیں اس کو

مگر جو کام یہاں پھول سے نکلتا ہے

رانا عامر لیاقت

میں تحفہ لے کے آیا ہوں تمناؤں کے پھولوں کا

لٹانے کو بہار زندگانی لے کے آیا ہوں

صوفی تبسم

میں نے بھیجی تھی گلابوں کی بشارت اس کو

تحفۃً اس نے بھی خوشبوئے وفا بھیجی ہے

حامد سروش

چند خوشبو کے دیے ساتھ میں لے آئے ہیں

شاخ گل دامن سوغات میں لے آئے ہیں

نامعلوم

تحفہ اک کمسن کے لئے ہے

ان کلیوں کا رنگ ہو ہلکا

حبیب خان