Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اقبال ڈے پر اشعار

علامہ اقبال کے یوم ولادت

کے موقع پر ان کی ادبی تخلیقات کا مطالعہ کریں

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں

تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اپنی نااہلی کا اعتراف کرکے عاجزی دکھاتا ہے، مگر ساتھ ہی اپنے شوقِ دید اور ثابت قدم انتظار کو دلیل بناتا ہے۔ محبوب سے التجا ہے کہ قابلیت نہ سہی، سچی طلب تو پرکھ لے۔ یہاں دید محض ملاقات نہیں بلکہ قرب کی علامت ہے۔ اصل جذبہ تڑپتی ہوئی امید اور وفادار آرزو ہے۔

علامہ اقبال

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں خودی سے مراد باوقار، بیدار اور باارادہ شخصیت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان اپنے باطن کو محنت، یقین اور کردار سے اتنا بلند کرے کہ وہ تقدیر کے سامنے مجبور نہ رہے۔ “خدا کا پوچھنا” ایک استعارہ ہے جو انسانی اختیار اور ذمہ داری کی عظمت دکھاتا ہے۔ جذباتی مرکز خود اعتمادی اور مقصدیت کی دعوت ہے۔

علامہ اقبال

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

Interpretation: Rekhta AI

شاہین بلند حوصلے اور خوددار طبیعت کی علامت ہے، جس کی پہچان رُک جانا نہیں بلکہ اوپر اٹھتے رہنا ہے۔ شاعر تسکین اور ٹھہراؤ سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ “اور بھی ہیں” یہ بتاتا ہے کہ منزلیں ختم نہیں ہوتیں، نئے افق کھلتے رہتے ہیں۔ جذبہ امید اور مسلسل جدوجہد کا ہے۔

علامہ اقبال

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں حوصلہ اور بلند ہمتی کی تلقین ہے کہ جو حد ہمیں آخری لگتی ہے وہ بھی ایک پڑاؤ ہے، انجام نہیں۔ “ستارے” ظاہری بلندی اور حدود کی علامت ہیں اور ان سے آگے نئی جہتیں ہیں۔ دوسرے مصرعے میں عشق کو مسلسل کسوٹی بنایا گیا ہے: سچی محبت ہر مرحلے پر نئی آزمائش مانگتی ہے۔ لہجہ امید بھی ہے اور عزم بھی کہ سفر ابھی جاری ہے۔

علامہ اقبال

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

Interpretation: Rekhta AI

یہاں “طائرِ لاہوتی” بلند انسانی روح اور خودی کی علامت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ایسا رزق جو انسان کی پروازِ فکر، ہمت اور آزادی کو کم کر دے، وہ زندگی سے بھی بدتر ہے۔ جذباتی مرکز یہ ہے کہ عزتِ نفس اور بلند مقصد کے لیے تنگی قبول کر لو، مگر وہ آسائش نہ لو جو پر کاٹ دے۔

علامہ اقبال

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں

مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں عاشق کی طلب انتہائی اور بے حد ہے: وہ عشق کا صرف حصہ نہیں بلکہ اس کی انتہا چاہتا ہے۔ دوسرے مصرع میں وہ خود اپنی خواہش کی جسارت کو سادگی کہہ کر مان لیتا ہے۔ “انتہا” کمالِ محبت اور مکمل سرسپردگی کی علامت ہے، اور “سادگی” میں خود آگہی کی لطیف طنز بھی جھلکتی ہے۔ جذبات کا مرکز آرزو، وفاداری اور عاجزی ہے۔

علامہ اقبال

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا

نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کہتا ہے کہ محبت کا اصل حکم نگاہ ہی سناتی ہے، الفاظ ثانوی ہیں۔ نگاہ کی شوخی دل میں کھنچاؤ، اعتماد اور رغبت جگاتی ہے اور اسی سے دل متاثر ہوتا ہے۔ اگر یہ چمک اور چھیڑ چھاڑ بھری کیفیت نہ ہو تو دلبری بے رنگ اور بے اثر ہو جاتی ہے۔

علامہ اقبال

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اپنی گفتگو کے انداز کو سادہ اور کم رنگ مانتا ہے، مگر اسے یقین ہے کہ بات کی سچائی اپنا اثر دکھا سکتی ہے۔ یہاں “دل میں اتر جانا” قبولیت اور اندر تک پہنچنے کا استعارہ ہے۔ جذبہ انکساری کا بھی ہے اور امید کا بھی کہ پیغام بناوٹ سے نہیں، معنی سے دل میں جگہ بناتا ہے۔

علامہ اقبال

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر

مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر

Interpretation: Rekhta AI

علامہ اقبال یہاں سختی کی دو صورتیں دکھاتے ہیں: ایک مادی سختی کہ ہیرے کا جگر بھی کبھی نرمی سے کٹ جائے، اور دوسری باطنی سختی کہ نادان کی ضد پر شیریں گفتگو کارگر نہیں ہوتی۔ ہیرے کا “جگر” انتہائی مضبوطی کی علامت ہے اور “کلامِ نرم” دانائی بھری نصیحت۔ شعر کا مرکزی تاثر یہ ہے کہ بےسمجھی کے آگے نرمی بےبس ہو جاتی ہے۔

علامہ اقبال

عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے

عشق بیچارہ نہ زاہد ہے نہ ملا نہ حکیم

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں اقبال عقل کو عیار دکھاتے ہیں جو فائدے کے لیے روپ بدلتی اور دلیلوں سے خود کو درست ثابت کر لیتی ہے۔ اس کے مقابلے میں عشق کو سادہ اور بے ساختہ کہا گیا ہے جو کسی لقب یا ظاہری مذہبی/علمی حیثیت کے پردے میں نہیں چھپتا۔ اصل بات اخلاصِ دل اور اندرونی وابستگی کی ہے، نہ کہ چالاک عقل کی۔

علامہ اقبال

اسی اقبالؔ کی میں جستجو کرتا رہا برسوں

بڑی مدت کے بعد آخر وہ شاہیں زیر دام آیا

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر طویل جستجو اور باطنی بالیدگی کی تمنا کا بیان ہے۔ “اقبال” یہاں عروجِ نصیب اور بلند ہمتی کی علامت بن جاتا ہے، جبکہ “شاہیں” آزاد، بلند پرواز قوتِ ارادہ کی تمثیل ہے۔ “زیرِ دام” آنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسلسل محنت کے بعد وہ مقصد یا کیفیت آخر انسان کی گرفت میں آ جاتی ہے۔ احساسِ شعر میں بے قراری سے اطمینان اور فتح تک کا سفر جھلکتا ہے۔

علامہ اقبال
بولیے