مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اپنی نااہلی کا اعتراف کرکے عاجزی دکھاتا ہے، مگر ساتھ ہی اپنے شوقِ دید اور ثابت قدم انتظار کو دلیل بناتا ہے۔ محبوب سے التجا ہے کہ قابلیت نہ سہی، سچی طلب تو پرکھ لے۔ یہاں دید محض ملاقات نہیں بلکہ قرب کی علامت ہے۔ اصل جذبہ تڑپتی ہوئی امید اور وفادار آرزو ہے۔
-
موضوعات : انتظاراور 2 مزید
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں خودی سے مراد باوقار، بیدار اور باارادہ شخصیت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان اپنے باطن کو محنت، یقین اور کردار سے اتنا بلند کرے کہ وہ تقدیر کے سامنے مجبور نہ رہے۔ “خدا کا پوچھنا” ایک استعارہ ہے جو انسانی اختیار اور ذمہ داری کی عظمت دکھاتا ہے۔ جذباتی مرکز خود اعتمادی اور مقصدیت کی دعوت ہے۔
-
موضوعات : ترغیبیاور 3 مزید
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شاہین بلند حوصلے اور خوددار طبیعت کی علامت ہے، جس کی پہچان رُک جانا نہیں بلکہ اوپر اٹھتے رہنا ہے۔ شاعر تسکین اور ٹھہراؤ سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ “اور بھی ہیں” یہ بتاتا ہے کہ منزلیں ختم نہیں ہوتیں، نئے افق کھلتے رہتے ہیں۔ جذبہ امید اور مسلسل جدوجہد کا ہے۔
-
موضوعات : ترغیبیاور 1 مزید
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں حوصلہ اور بلند ہمتی کی تلقین ہے کہ جو حد ہمیں آخری لگتی ہے وہ بھی ایک پڑاؤ ہے، انجام نہیں۔ “ستارے” ظاہری بلندی اور حدود کی علامت ہیں اور ان سے آگے نئی جہتیں ہیں۔ دوسرے مصرعے میں عشق کو مسلسل کسوٹی بنایا گیا ہے: سچی محبت ہر مرحلے پر نئی آزمائش مانگتی ہے۔ لہجہ امید بھی ہے اور عزم بھی کہ سفر ابھی جاری ہے۔
-
موضوعات : ترغیبیاور 2 مزید
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
Interpretation:
Rekhta AI
یہاں “طائرِ لاہوتی” بلند انسانی روح اور خودی کی علامت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ایسا رزق جو انسان کی پروازِ فکر، ہمت اور آزادی کو کم کر دے، وہ زندگی سے بھی بدتر ہے۔ جذباتی مرکز یہ ہے کہ عزتِ نفس اور بلند مقصد کے لیے تنگی قبول کر لو، مگر وہ آسائش نہ لو جو پر کاٹ دے۔
-
موضوع : مشہور اشعار
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عاشق کی طلب انتہائی اور بے حد ہے: وہ عشق کا صرف حصہ نہیں بلکہ اس کی انتہا چاہتا ہے۔ دوسرے مصرع میں وہ خود اپنی خواہش کی جسارت کو سادگی کہہ کر مان لیتا ہے۔ “انتہا” کمالِ محبت اور مکمل سرسپردگی کی علامت ہے، اور “سادگی” میں خود آگہی کی لطیف طنز بھی جھلکتی ہے۔ جذبات کا مرکز آرزو، وفاداری اور عاجزی ہے۔
-
موضوعات : سادگیاور 4 مزید
فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ محبت کا اصل حکم نگاہ ہی سناتی ہے، الفاظ ثانوی ہیں۔ نگاہ کی شوخی دل میں کھنچاؤ، اعتماد اور رغبت جگاتی ہے اور اسی سے دل متاثر ہوتا ہے۔ اگر یہ چمک اور چھیڑ چھاڑ بھری کیفیت نہ ہو تو دلبری بے رنگ اور بے اثر ہو جاتی ہے۔
-
موضوعات : دلاور 2 مزید
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اپنی گفتگو کے انداز کو سادہ اور کم رنگ مانتا ہے، مگر اسے یقین ہے کہ بات کی سچائی اپنا اثر دکھا سکتی ہے۔ یہاں “دل میں اتر جانا” قبولیت اور اندر تک پہنچنے کا استعارہ ہے۔ جذبہ انکساری کا بھی ہے اور امید کا بھی کہ پیغام بناوٹ سے نہیں، معنی سے دل میں جگہ بناتا ہے۔
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال یہاں سختی کی دو صورتیں دکھاتے ہیں: ایک مادی سختی کہ ہیرے کا جگر بھی کبھی نرمی سے کٹ جائے، اور دوسری باطنی سختی کہ نادان کی ضد پر شیریں گفتگو کارگر نہیں ہوتی۔ ہیرے کا “جگر” انتہائی مضبوطی کی علامت ہے اور “کلامِ نرم” دانائی بھری نصیحت۔ شعر کا مرکزی تاثر یہ ہے کہ بےسمجھی کے آگے نرمی بےبس ہو جاتی ہے۔
عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے
عشق بیچارہ نہ زاہد ہے نہ ملا نہ حکیم
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں اقبال عقل کو عیار دکھاتے ہیں جو فائدے کے لیے روپ بدلتی اور دلیلوں سے خود کو درست ثابت کر لیتی ہے۔ اس کے مقابلے میں عشق کو سادہ اور بے ساختہ کہا گیا ہے جو کسی لقب یا ظاہری مذہبی/علمی حیثیت کے پردے میں نہیں چھپتا۔ اصل بات اخلاصِ دل اور اندرونی وابستگی کی ہے، نہ کہ چالاک عقل کی۔
اسی اقبالؔ کی میں جستجو کرتا رہا برسوں
بڑی مدت کے بعد آخر وہ شاہیں زیر دام آیا
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر طویل جستجو اور باطنی بالیدگی کی تمنا کا بیان ہے۔ “اقبال” یہاں عروجِ نصیب اور بلند ہمتی کی علامت بن جاتا ہے، جبکہ “شاہیں” آزاد، بلند پرواز قوتِ ارادہ کی تمثیل ہے۔ “زیرِ دام” آنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسلسل محنت کے بعد وہ مقصد یا کیفیت آخر انسان کی گرفت میں آ جاتی ہے۔ احساسِ شعر میں بے قراری سے اطمینان اور فتح تک کا سفر جھلکتا ہے۔
-
موضوعات : iqbalاور 1 مزید