Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جبر پر اشعار

جبر ایک صورتحال ہے جس

کا اختیار سے تضاد کا رشتہ ہے ۔ دنیا میں انسان جس قدر خود مختار ہے اور اس کے اعمال وافعال اس کی مرضی کے مطابق ہیں اسی قدر وہ مجبور بھی ہے ۔ بعض لوگوں کے نزدیک تو اختیار کی تمام صورتیں بھی جبر ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں ۔ جو کچھ ہم سوچتے ہیں اور کرتے ہیں وہ بھی دراصل ایک مخفی جبر ہے جسے ہم اختیار کا نام دے دیتے ہیں ۔ یہ جبر خود ہمارے داخل کا پیدا کیا ہوا بھی ہوتا ہے اور سماجی، سیاسی، تاریخی، مذہبی اور تہذیبی صورتوں کا بھی ۔ یہ شاعری جبر کی انہیں تمام صورتوں کا تخلیقی بیان ہے ۔

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

مظفر رزمی

زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں

ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں

فانی بدایونی

میں ہوں بھی اور نہیں بھی عجیب بات ہے یہ

یہ کیسا جبر ہے میں جس کے اختیار میں ہوں

منیر نیازی

کھلی فضا مجھے عزیز ہے پر اس کو کیا کروں

بچھا ہوا زمیں سے آسماں تک ایک جال ہے

آل احمد سرور

موسم کی بے رخی کا یہ کیسا اثر ہوا

پھولوں کی نرم شاخ بھی تلوار ہو گئی

ڈاکٹر اعجاز رسول

بس یہ اک خانہ پری ہے کرتے رہیے دستخط

پوچھیے مت کیا خطا ہے اس دیار میر میں

جاوید ہمایوں
بولیے