قاتل پر شاعری

کلاسیکی شاعری میں قاتل محبوب ہے ۔ اسی لئے محبوب کی بھوؤں کو تلوار اور پلکوں کو نیزہ سے تشبیہ عام ہے ۔ وہ اپنے انہیں اوزاروں ، جلوؤں اور اداؤں سے اپنے عاشقوں کا قتل کرتا ہے ۔ جدید شاعری میں قاتل عشق کے دائرے سے باہر نکل آیا ہے اور وہ اپنی تمام تر سماجی صورتوں کے ساتھ شاعری میں برتا گیا ہے ۔ معیاری شعروں کا ہمارا یہ انتخاب آپ کو پسند آئے گا۔

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

After she had slain me then from torture she forswore

Alas! the one now quickly shamed was not so before

After she had slain me then from torture she forswore

Alas! the one now quickly shamed was not so before

مرزا غالب

جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے

ہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے

جاں نثاراختر

خدا کے واسطے اس کو نہ ٹوکو

یہی اک شہر میں قاتل رہا ہے

مظہر مرزا جان جاناں

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

ساحر لدھیانوی

قاتل نے کس صفائی سے دھوئی ہے آستیں

اس کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے

اقبال عظیم

میرے ہونے میں کسی طور سے شامل ہو جاؤ

تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ

عرفان صدیقی

یوں نہ قاتل کو جب یقیں آیا

ہم نے دل کھول کر دکھائی چوٹ

فانی بدایونی

قتل ہو تو میرا سا موت ہو تو میری سی

میرے سوگواروں میں آج میرا قاتل ہے

Today amongst my mourners, my murderer too grieves

A death, a murder as was mine, all lovers should attain

Today amongst my mourners, my murderer too grieves

A death, a murder as was mine, all lovers should attain

امیر قزلباش

یہ سچ ہے چند لمحوں کے لئے بسمل تڑپتا ہے

پھر اس کے بعد ساری زندگی قاتل تڑپتا ہے

خوشبیر سنگھ شادؔ

شہر کے آئین میں یہ مد بھی لکھی جائے گی

زندہ رہنا ہے تو قاتل کی سفارش چاہیئے

حکیم منظور

کون پرساں ہے حال بسمل کا

خلق منہ دیکھتی ہے قاتل کا

شیخ علی بخش بیمار