Hakeem Manzoor's Photo'

حکیم منظور

1937

حکیم منظور

غزل 29

اشعار 16

ہر ایک آنکھ کو کچھ ٹوٹے خواب دے کے گیا

وہ زندگی کو یہ کیسا عذاب دے کے گیا

گرے گی کل بھی یہی دھوپ اور یہی شبنم

اس آسماں سے نہیں اور کچھ اترنے کا

مجھ میں تھے جتنے عیب وہ میرے قلم نے لکھ دیئے

مجھ میں تھا جتنا حسن وہ میرے ہنر میں گم ہوا

شہر کے آئین میں یہ مد بھی لکھی جائے گی

زندہ رہنا ہے تو قاتل کی سفارش چاہیئے

ہم کسی بہروپئے کو جان لیں مشکل نہیں

اس کو کیا پہچانیے جس کا کوئی چہرا نہ ہو

کتاب 7

 

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے