رخسار پر شاعری

شاعری میں محبوب کے جسمانی اعضا کے بیان والا حصہ بہت دلچسپ اور رومان پرور ہے ۔ یہاں آپ محبوب کے رخسار کا بیان پڑھ کر خود اپنے بدن میں ایک جھرجھری سی محسوس کرنے لگیں گے ۔ ہم یہاں نئی پرانی شاعری سے رخسار کو موضوع بنانے والے کچھ اچھے شعروں کا انتخاب آپ کے لئے پیش کر رہے ہیں ۔

سو دیکھ کر ترے رخسار و لب یقیں آیا

کہ پھول کھلتے ہیں گل زار کے علاوہ بھی

احمد فراز

ان کے رخسار پہ ڈھلکے ہوئے آنسو توبہ

میں نے شبنم کو بھی شعلوں پہ مچلتے دیکھا

ساحر لدھیانوی

پوچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو

سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں

wipe not the droplets from your face, let beauty's lustre grow

drops of dew when flowers grace, enhance their freshness so

wipe not the droplets from your face, let beauty's lustre grow

drops of dew when flowers grace, enhance their freshness so

قمر جلالوی

اب میں سمجھا ترے رخسار پہ تل کا مطلب

دولت حسن پہ دربان بٹھا رکھا ہے

The import of this spot upon your face I now detect

The treasure of your beauty does this sentinel protect

The import of this spot upon your face I now detect

The treasure of your beauty does this sentinel protect

قمر مرادآبادی

مدت سے اک لڑکی کے رخسار کی دھوپ نہیں آئی

اس لئے میرے کمرے میں اتنی ٹھنڈک رہتی ہے

بشیر بدر

حاجت نہیں بناؤ کی اے نازنیں تجھے

زیور ہے سادگی ترے رخسار کے لیے

حیدر علی آتش

عارضوں پر یہ ڈھلکتے ہوئے آنسو توبہ

ہم نے شعلوں پہ مچلتی ہوئی شبنم دیکھی

lord forbid that tears on your cheeks do flow

like dewdrops agonizing on embers all aglow

lord forbid that tears on your cheeks do flow

like dewdrops agonizing on embers all aglow

جوشؔ ملسیانی

رخسار پر ہے رنگ حیا کا فروغ آج

بوسے کا نام میں نے لیا وہ نکھر گئے

حکیم محمد اجمل خاں شیدا

چاہتا ہے اس جہاں میں گر بہشت

جا تماشا دیکھ اس رخسار کا

ولی محمد ولی

جو ان کو لپٹا کے گال چوما حیا سے آنے لگا پسینہ

ہوئی ہے بوسوں کی گرم بھٹی کھنچے نہ کیوں کر شراب عارض

احمد حسین مائل

نکھر گئے ہیں پسینے میں بھیگ کر عارض

گلوں نے اور بھی شبنم سے تازگی پائی

your cheeks with perspiration are all aglow anew

these flowers are now fresher laden with the dew

your cheeks with perspiration are all aglow anew

these flowers are now fresher laden with the dew

غلام ربانی تاباں

جانے کس دم نکل آئے ترے رخسار کی دھوپ

مدتوں دھیان ترے سایۂ در پر رکھا

احمد مشتاق

قامت تری دلیل قیامت کی ہو گئی

کام آفتاب حشر کا رخسار نے کیا

حیدر علی آتش

ترے رخسار سے بے طرح لپٹی جائے ہے ظالم

جو کچھ کہیے تو بل کھا الجھتی ہے زلف بے ڈھنگی

شیخ ظہور الدین حاتم

دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا

ہے مطالعہ مطلع انوار کا

ولی محمد ولی

اس کے رخسار دیکھ جیتا ہوں

عارضی میری زندگانی ہے

ناجی شاکر

رخسار کے عرق کا ترے بھاؤ دیکھ کر

پانی کے مول نرخ ہوا ہے گلاب کا

شیخ ظہور الدین حاتم