رند شاعری

اردو کی کلاسیکی شاعری میں جو بنیادی لفظیات ہیں ان میں سے ایک رند بھی ہے ۔ عاشق شرابِ عشق سے سرشار ہوتا ہے اور اس کی کیفیت رندوں والی ہوتی ہے ۔ رندی کا ایک تصور تصوف سے بھی جا ملتا ہے ۔یہ آپ ہمارے اس انتخاب میں ایک رند عاشق کی کتھا پڑھیں گے ۔

ابھی رات کچھ ہے باقی نہ اٹھا نقاب ساقی

ترا رند گرتے گرتے کہیں پھر سنبھل نہ جائے

انور مرزاپوری

رند مسجد میں گئے تو انگلیاں اٹھنے لگیں

کھل اٹھے میکش کبھی زاہد جو ان میں آ گئے

افتخار عارف

رند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائے

جس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے

اصغر گونڈوی

ساقی نے نگاہوں سے پلا دی ہے غضب کی

رندان ازل دیکھیے کب ہوش میں آئیں

فگار اناوی

بیٹھتا ہے ہمیشہ رندوں میں

کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے

بیخود بدایونی

مے کدہ ہے شیخ صاحب یہ کوئی مسجد نہیں

آپ شاید آئے ہیں رندوں کے بہکائے ہوئے

حبیب موسوی

ابھی آتے نہیں اس رند کو آداب مے خانہ

جو اپنی تشنگی کو فیض ساقی کی کمی سمجھے

آل احمد سرور

مے نہ ہو بو ہی سہی کچھ تو ہو رندوں کے لئے

اسی حیلہ سے بجھے گی ہوس جام شراب

حکیم محمد اجمل خاں شیدا

رندوں کو وعظ پند نہ کر فصل گل میں شیخ

ایسا نہ ہو شراب اڑے خانقاہ میں

حبیب موسوی

واعظو چھیڑو نہ رندوں کو بہت

یہ سمجھ لو کہ پیے بیٹھے ہیں

جلیل مانک پوری

واعظ خطا معاف کہ رندان مے کدہ

دل کے سوا کسی کا کہا مانتے نہیں

کرم حیدرآبادی

رند مشرب کوئی بیخودؔ سا نہ ہوگا واللہ

پی کے مسجد ہی میں یہ خانہ خراب آتا ہے

بیخود دہلوی

توبہ کی رندوں میں گنجائش کہاں

جب یہ آئے گی نکالی جائے گی

مبارک عظیم آبادی

رندوں کو پابندیٔ دنیا کہاں

کشتیٔ مے کو نہیں لنگر کی چاہ

منیرؔ  شکوہ آبادی

کچھ طرح رندوں نے دی کچھ محتسب بھی دب گیا

چھیڑ آپس میں سر بازار ہو کر رہ گئی

بیخود دہلوی

یہ رند دے گئے لقمہ تجھے تو عذر نہ مان

ترا تو شیخ تنور و شکم برابر ہے

بقا اللہ بقاؔ