Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

قاسم علی خان آفریدی

قاسم علی خان آفریدی کے اشعار

382
Favorite

باعتبار

لب شیریں سے اگر ہو نہ تیرا لب شیریں

کوہ کن تو بھی تو اب دامن کہسار نہ چھوڑ

مجھے خوشی کہ گرفتار میں ہوا تیرا

تو شاد ہو کہ ہے ایسا شکار اسیر مرا

شیخ مجھ کو نہ ڈرا اپنی مسلمانی تھام

ہم فقیروں کا کسی رنگ سے ایمان نہ جائے

بس نہیں چلتا ہے ورنہ اپنے مر جانے کے ساتھ

پھینک دیتے کھود کر دنیا کی سب بنیاد ہم

نرگسی چشم دکھا کر کے وہ وحشت زدہ یار

یہ گیا وہ گیا جس طرح غزال آپ سے آپ

خدا کو سجدہ کر کے مبتذل زاہد ہوا اب تو

تو جا کر مہ جبیں کے آستاں پہ جبہ سائی کر

یار کا کوچہ ہے مسجود خلایق دیکھ لے

سنگ ہے کعبہ میں مورت دیر میں ہے مشترک

ہے جدا سجدہ کی جا ہندو مسلماں کی مگر

فہم والوں کے تئیں دیر و حرم دونوں ایک

عجب طرح کی ہے دنیا برنگ بو قلموں

کہ ہے ہر ایک جداگانہ الاماں تنہا

کام ہے مطلب سے چاہے کفر ہووے یا کہ دیں

جا پہنچنا ہے کسی صورت سے اپنے یار تک

شراب ساقیٔ کوثر سے لیجو آفریدیؔ

یہ بادہ نوشئ دنیا ہے تجھ کو ننگ شراب

ناصحا وعظ جو کہتا تھا تجھے بن دیکھے

دیکھتے ہی تجھے پھر جان کو کھوتے دیکھا

مارا جاوے گا بھاگ اے ناصح

دیکھ یہ نازنیں سوار آیا

عشق ہے اے دل کٹھن کچھ خانۂ خالہ نہیں

رکھ دلیرانہ قدم تا تجھ کو ہو امداد داد

Recitation

بولیے