Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Saleem Ansari's Photo'

سلیم انصاری

1962 | جالندھر, انڈیا

سلیم انصاری کے دوہے

234
Favorite

باعتبار

جرم محبت کی ملی ہم کو یہ پاداش

اپنے کاندھے پر چلے لے کر اپنی لاش

آنگن کے اک پیڑ کی ٹھنڈی میٹھی چھاؤں

شہر میں جیسے آ گیا چل کر میرا گاؤں

راتیں جنگل کی طرح اور دن ریگستان

میری جیون یاترا کیسے ہو آسان

میرے چاروں اور تھے طرح طرح کے لوگ

پھر بھی مجھ کو لگ گیا تنہائی کا روگ

خوش فہمی کی دھوپ میں روشن جھوٹی آس

اندھیارے میں رینگتا ہر سچ کا وشواس

اس سے بڑھ کر اور کیا رشتوں پر دشنام

بھائی آیا پوچھنے مجھ سے میرا نام

مندر مسجد توڑیئے لیکن رہے خیال

شیشے میں وشواس کے پڑ جائے نہ بال

میں نے جس کی آنکھ سے دیکھے اپنے خواب

اب اس کا احساس بھی میرے لیے عذاب

یادوں کے سرمائے پر خود سے مانگوں بیاج

یوں اپنی تنہائی کا جشن مناؤں آج

رفتہ رفتہ گھل گئی میری سوچ کی برف

یعنی میں خود ہو گیا اپنے ہاتھوں صرف

سورج ڈوبا اور پھر اترے کالے سائے

پیڑوں کی آواز پر پنچھی واپس آئے

Recitation

بولیے