سلیم انصاری کے دوہے
جرم محبت کی ملی ہم کو یہ پاداش
اپنے کاندھے پر چلے لے کر اپنی لاش
آنگن کے اک پیڑ کی ٹھنڈی میٹھی چھاؤں
شہر میں جیسے آ گیا چل کر میرا گاؤں
میرے چاروں اور تھے طرح طرح کے لوگ
پھر بھی مجھ کو لگ گیا تنہائی کا روگ
خوش فہمی کی دھوپ میں روشن جھوٹی آس
اندھیارے میں رینگتا ہر سچ کا وشواس
اس سے بڑھ کر اور کیا رشتوں پر دشنام
بھائی آیا پوچھنے مجھ سے میرا نام
مندر مسجد توڑیئے لیکن رہے خیال
شیشے میں وشواس کے پڑ جائے نہ بال
میں نے جس کی آنکھ سے دیکھے اپنے خواب
اب اس کا احساس بھی میرے لیے عذاب
یادوں کے سرمائے پر خود سے مانگوں بیاج
یوں اپنی تنہائی کا جشن مناؤں آج
رفتہ رفتہ گھل گئی میری سوچ کی برف
یعنی میں خود ہو گیا اپنے ہاتھوں صرف
سورج ڈوبا اور پھر اترے کالے سائے
پیڑوں کی آواز پر پنچھی واپس آئے