سلیم فگار کے اشعار
شاخ در شاخ تری یاد کی ہریالی ہے
ہم نے شاداب بہت دل کا شجر رکھا ہے
وہ چاند ٹوٹ گیا جس سے رات روشن تھی
چمک رہے تھے فلک پر جو سب ستارے گئے
کہیں آنکھیں کہیں بازو کہیں سے سر نکل آئے
اندھیرا پھیلتے ہی ہر طرف سے ڈر نکل آئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اندھیرے کو نگلتا جا رہا ہوں
دیا ہوں اور جلتا جا رہا ہوں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
لفظ لے کر خیال کی وسعت
شعر کی تازگی کی سمت گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ