شاداب رضی(محمد رضی احمد) اردو کے ممتاز شاعر، محقق اور نقاد تھے، جو کلاسیکی اور جدید ادبی روایت سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ وہ **12 جنوری 1955 کو شیخ پورہ، بہار** میں پیدا ہوئے اور اپنی علمی و ادبی خدمات کے باعث اردو دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔
انہوں نے **پٹنہ یونیورسٹی** سے اردو میں **ایم اے (گولڈ میڈلسٹ)** اور **ٹی ایم بھاگلپور یونیورسٹی** سے **ڈی لِٹ** کی سند حاصل کی۔ تدریسی میدان میں بھی نمایاں رہے اور **ٹی ایم بھاگلپور یونیورسٹی میں صدرِ شعبۂ اردو** کے عہدے پر فائز رہے۔
ان کی شاعری میں **غزل، نظم، ماہیے، دوہے اور رباعیات** کے رنگ نمایاں ہیں، جن میں فکری گہرائی اور فنی پختگی صاف جھلکتی ہے۔
بحیثیت محقق و نقاد، ان کی کتاب **"اردو تنقید میں نئے رجحانات: بہار کے حوالے سے"** اردو تنقید میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین **شعر و حکمت، فکر و تحقیق، سبرس، آج کل، نیا دور، ایوانِ اردو، شاعر، خبرنامہ، اوراق، زبان و ادب، اردو ادب، ادیب، علی گڑھ میگزین** جیسے معروف جرائد میں شائع ہوتے رہے۔
**13 ستمبر 2020 کو بھاگلپور، بہار** میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کی علمی و ادبی خدمات آج بھی اردو ادب کے قارئین کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔