Shakeel Jamali's Photo'

شکیل جمالی

1958 | دلی, انڈیا

سنجیدہ فکر کے عوامی شاعر

سنجیدہ فکر کے عوامی شاعر

شکیل جمالی

غزل 29

نظم 1

 

اشعار 23

ابھی روشن ہوا جاتا ہے رستہ

وہ دیکھو ایک عورت آ رہی ہے

جھوٹ میں شک کی کم گنجائش ہو سکتی ہے

سچ کو جب چاہو جھٹلایا جا سکتا ہے

شدید گرمی میں کیسے نکلے وہ پھول چہرہ

سو اپنے رستے میں دھوپ دیوار ہو رہی ہے

عمر کا ایک اور سال گیا

وقت پھر ہم پہ خاک ڈال گیا

  • شیئر کیجیے

میں نے ہاتھوں سے بجھائی ہے دہکتی ہوئی آگ

اپنے بچے کے کھلونے کو بچانے کے لیے

کتاب 5

 

ویڈیو 10

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

شکیل جمالی

شکیل جمالی

شکیل جمالی

Shakil Jamali is a Poet from Delhi. He is reading his ghazals at a Nashist organized by Rekhta. شکیل جمالی

شکیل جمالی

Shakil Jamali is a Poet from Delhi. He is reading his ghazals at a Nashist organized by Rekhta. شکیل جمالی

اشک پینے کے لیے خاک اڑانے کے لیے

شکیل جمالی

اگر ہمارے ہی دل میں ٹھکانا چاہئے تھا

شکیل جمالی

پیٹ کی آگ بجھانے کا سبب کر رہے ہیں

شکیل جمالی

سب کے ہوتے ہوئے لگتا ہے کہ گھر خالی ہے

شکیل جمالی

لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیں

شکیل جمالی

لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیں

شکیل جمالی

آڈیو 9

آ ہی جائے_گی سحر مطلع_امکاں تو کھلا

اگر ہمارے ہی دل میں ٹھکانا چاہئے تھا

الفاظ نرم ہو گئے لہجے بدل گئے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

"دلی" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے