noImage

شمس فرخ آبادی

آنکھیں دھوکا دے گئیں پاؤں چھوڑ گئے ساتھ

سبھی سہارے دور ہیں کس کا پکڑیں ہاتھ

بھلے برے برتاؤ کا ہے اتنا سا راز

گونجے پلٹ کے جس طرح گنبد کی آواز

ایک بگولہ سانس کا ہوا جسے تیرائے

ہوا ہوا میں جا ملے بس ماٹی رہ جائے

بچھڑے ہوؤں کے آج پھر خط کچھ ایسے آئے

جیسے پٹری ریل کی دور پہ اک ہو جائے