تسنیم عابدی کے اشعار
خدا کے نام پہ جس طرح لوگ مر رہے ہیں
دعا کرو کہ اکیلا خدا نہ رہ جائے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جنگوں میں تھی میں مال غنیمت کے طور پہ
میرے لئے کبھی مجھے بانٹا نہیں گیا
ہم کو خود میں قیام کرنا تھا
ورنہ رستے پڑے تھے قدموں میں
اس بار مدینے میں ہی در آیا تھا کوفہ
اس بار کیا ہم نے سفر اور طرح کا
کچھ چاندنی اداس تھی کچھ دل بھی تھا اداس
کل رات کرب ذات بھی حد سے سوا ہوا
شہر آشوب میں کردار نئے ہیں لیکن
یہ کہانی ہمیں پہلے بھی سنائی گئی ہے
تو اک پیادے کو شہ مات دینا چاہتا ہے
میں ہار مان گئی اپنی چال رہنے دے
رائگانی کی عجب شکل دکھائی گئی ہے
ایک تصویر جو پانی پہ بنائی گئی ہے
اس بار ہوا کن کا اثر اور طرح کا
اس بار ہے امکان بشر اور طرح کا
سکوت عصر میں گونجی ہوئی اذان ہوں میں
بہت سے کرسی نشینوں کے درمیان ہوں میں
شکست عہد تمنا کی کیا شکایت ہو
ہمارے خواب ہی ہم سے گریز پا نکلے
میں راکھ ہونے کو ہوں تو مری چمک پہ نہ جا
چراغ بجھنے سے پہلے بھڑکنے لگتا ہے
سوچا نہیں گیا کبھی سمجھا نہیں گیا
تاریخ میں کبھی مجھے لکھا نہیں گیا
کوئی کیا بتائے کہ زیست میں نہ کشش رہی نہ مزا رہا
جو گزر گیا وہ شباب تھا جو بکھر گیا وہ جمال تھا
دشت دل میں کبھی اک ناقہ سوار آیا تھا
آج تک مجھ میں بہت گرد اڑا کرتی ہے
صبح بے نور ہے شام بے کیف ہے کیسی حالت میں ہے مبتلا زندگی
روز و شب میں کہاں لطف باقی رہا ایسے جینے میں کیا ہے مزا زندگی
سب چلے جائیں گے اک بے نام منزل کی طرف
گھر کی تختی کی جگہ کتبے لگے رہ جائیں گے
جھیل میں بس ایک کنکر پھینک کر
دائرے کی گونج میں سنتی رہی