Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تسنیم عابدی کے اشعار

250
Favorite

باعتبار

خدا کے نام پہ جس طرح لوگ مر رہے ہیں

دعا کرو کہ اکیلا خدا نہ رہ جائے

جنگوں میں تھی میں مال غنیمت کے طور پہ

میرے لئے کبھی مجھے بانٹا نہیں گیا

ہم کو خود میں قیام کرنا تھا

ورنہ رستے پڑے تھے قدموں میں

اس بار مدینے میں ہی در آیا تھا کوفہ

اس بار کیا ہم نے سفر اور طرح کا

کچھ چاندنی اداس تھی کچھ دل بھی تھا اداس

کل رات کرب ذات بھی حد سے سوا ہوا

شہر آشوب میں کردار نئے ہیں لیکن

یہ کہانی ہمیں پہلے بھی سنائی گئی ہے

تو اک پیادے کو شہ مات دینا چاہتا ہے

میں ہار مان گئی اپنی چال رہنے دے

رائگانی کی عجب شکل دکھائی گئی ہے

ایک تصویر جو پانی پہ بنائی گئی ہے

اس بار ہوا کن کا اثر اور طرح کا

اس بار ہے امکان بشر اور طرح کا

سکوت عصر میں گونجی ہوئی اذان ہوں میں

بہت سے کرسی نشینوں کے درمیان ہوں میں

اک اذاں اور نماز کا وقفہ

زندگی کتنی مختصر پائی

شکست عہد تمنا کی کیا شکایت ہو

ہمارے خواب ہی ہم سے گریز پا نکلے

میں راکھ ہونے کو ہوں تو مری چمک پہ نہ جا

چراغ بجھنے سے پہلے بھڑکنے لگتا ہے

ہمارے شعر نغمے اور سجدے

ادا جو ہو نہ پائے کیا ہوئے وہ

سوچا نہیں گیا کبھی سمجھا نہیں گیا

تاریخ میں کبھی مجھے لکھا نہیں گیا

ہے تماشے کا اختتام یہی

جب تماشا بنے تماشائی

کوئی کیا بتائے کہ زیست میں نہ کشش رہی نہ مزا رہا

جو گزر گیا وہ شباب تھا جو بکھر گیا وہ جمال تھا

دشت دل میں کبھی اک ناقہ سوار آیا تھا

آج تک مجھ میں بہت گرد اڑا کرتی ہے

صبح بے نور ہے شام بے کیف ہے کیسی حالت میں ہے مبتلا زندگی

روز و شب میں کہاں لطف باقی رہا ایسے جینے میں کیا ہے مزا زندگی

سب چلے جائیں گے اک بے نام منزل کی طرف

گھر کی تختی کی جگہ کتبے لگے رہ جائیں گے

جھیل میں بس ایک کنکر پھینک کر

دائرے کی گونج میں سنتی رہی

Recitation

بولیے