Umair Manzar's Photo'

عمیر منظر

1974 | لکھنؤ, انڈیا

عمیر منظر

غزل 6

اشعار 11

ساتھی مرے کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے

میں زندگی کے ناز اٹھانے میں رہ گیا

بڑھتے چلے گئے جو وہ منزل کو پا گئے

میں پتھروں سے پاؤں بچانے میں رہ گیا

مرحلے اور آنے والے ہیں

تیر اپنا ابھی کمان میں رکھ

یہ تو سچ ہے کہ وہ ستم گر ہے

در پر آیا ہے تو امان میں رکھ

یہ میرے ساتھی ہیں پیارے ساتھی مگر انہیں بھی نہیں گوارا

میں اپنی وحشت کے مقبرے سے نئی تمنا کے خواب دیکھوں

کتاب 22

آڈیو 5

بنا کے وہم و گماں کی دنیا حقیقتوں کے سراب دیکھوں

جب انسان کو اپنا کچھ ادراک ہوا

خود کو ہر روز امتحان میں رکھ

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

"لکھنؤ" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے