ظریف لکھنوی
غزل 11
نظم 1
اشعار 6
علم میں جھینگر سے بڑھ کر کامراں کوئی نہیں
چاٹ جاتا ہے کتابیں امتحاں کوئی نہیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
ظریفؔ اب فائدہ کیا شاعروں کو سردی کھانے سے
غزل ہم پڑھ چکے گھر جائیں کیوں بیکار بیٹھے ہیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
مے کو جو اصطلاح میں کہتے ہیں دخت رز
وہ مغبچہ ہے رندوں کا سالا کہیں جسے
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ہمیں بتلا نہ دیں عاشق جو ہیں روئے کتابی پر
سبق ہے کیا کوئی معشوق جس کو یاد کرتے ہیں
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
زلف کے جال میں معشوق کا سر ہے خود بھی
قیدیوں مژدہ کہ صیاد تہ دام آیا
- پسندیدہ انتخاب میں شامل کیجیے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے