آسان اورپسندیدہ کلام

آسان اور پسندیدہ کلام کا ذخیرہ



غزل
,غیر کی خاطر سے تم یاروں کو دھمکانے لگے (ردیف .. )
ا ,اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا
ا ,اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس (ردیف .. ا)
ا ,اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والا
ا ,اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا
ا ,اب کے بارش میں تو یہ کار_زیاں ہونا ہی تھا
ا ,ابھی بچھڑا ہے وہ کچھ روز تو یاد آئے_گا
ا ,ابھی کسی کے نہ میرے کہے سے گزرے_گا
ا ,اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہنا
ا ,اپنے آنچل میں چھپا کر مرے آنسو لے جا
ا ,اپنے بعد حقیقت یا افسانہ چھوڑا تھا
ا ,اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں_گا
ا ,اپنے ہم_راہ خود چلا کرنا
ا ,اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوا
ا ,اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
ا ,آج بھی دشت_بلا میں نہر پر پہرا رہا
ا ,آج پھر گردش_تقدیر پہ رونا آیا
ا ,اجالا دے چراغ_رہ_گزر آساں نہیں ہوتا
ا ,اچانک دل_ربا موسم کا دل_آزار ہو جانا
ا ,اچھا ہوا میں وقت کے محور سے کٹ گیا
ا ,اچھا ہے وہ بیمار جو اچھا نہیں ہوتا
ا ,اداسی کا سمندر دیکھ لینا
ا ,آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا
ا ,اس بھری دنیا میں کوئی بھی ہمارا نہ ہوا
ا ,اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے_گا
ا ,اس کو نہ خیال آئے تو ہم منہ سے کہیں کیا
ا ,اس کے پرتو سے ہوا ہے زعفرانی رنگ کا
ا ,اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا
ا ,اس نے سوچا بھی نہیں تھا کبھی ایسا ہوگا
ا ,اس وسعت_کلام سے جی تنگ آ گیا
ا ,آسماں سا مجھے گھر دے دینا
ا ,اسے شوق_غوطہ_زنی نہ تھا وہ کہاں گیا
ا ,اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
ا ,آغاز تو ہوتا ہے انجام نہیں ہوتا
ا ,اک آس تو ہے کوئی سہارا نہیں تو کیا
ا ,اک کھلونا ٹوٹ جائے_گا نیا مل جائے_گا
ا ,اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا
ا ,آگ کے درمیان سے نکلا
ا ,اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے_گا
ا ,اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے_گا
ا ,الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
ا ,انداز ہو_بہو تری آواز_پا کا تھا
ا ,انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھا
ا ,انشاؔ_جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
ا ,آنکھ نے دھوکہ کھایا تھا یا سایا تھا
ا ,آنکھوں سے کسی خواب کو باہر نہیں دیکھا
ا ,آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا
ا ,آنے والی تھی خزاں میدان خالی کر دیا
ا ,اے آرزوئے_قتل ذرا دل کو تھامنا
ا ,اے دل_بے_قرار چپ ہو جا
ا ,اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
ا ,ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتا
ا ,ایک سایہ مرا مسیحا تھا
ا ,ایک عالم ہے یہ حیرانی کا جینا کیسا
ا ,ایک قطرہ اشک کا چھلکا تو دریا کر دیا
ا ,ایک کتاب سرہانے رکھ دی ایک چراغ ستارا کیا
ا ,آئنہ سامنے رکھو_گے تو یاد آؤں_گا
ا ,بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
ا ,برباد_محبت کی دعا ساتھ لیے جا
ا ,برپا ترے وصال کا طوفان ہو چکا
ا ,بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا
ا ,بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
ا ,بکھر گیا ہے جو موتی پرونے والا تھا
ا ,بہار آئی کسی کا سامنا کرنے کا وقت آیا
ا ,بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کا
ا ,بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا
ا ,بہت دن سے تمہیں دیکھا نہیں تھا
ا ,بھیگی ہوئی آنکھوں کا یہ منظر نہ ملے_گا
ا ,بے_خیالی میں یوں_ہی بس اک ارادہ کر لیا
ا ,پاؤں پڑتا ہوا رستہ نہیں دیکھا جاتا
ا ,پرتو_ساغر_صہبا کیا تھا
ا ,پھر آس دے کے آج کو کل کر دیا گیا
ا ,پھول سونگھے جانے کیا یاد آ گیا
ا ,پھول کھلتے ہیں تالاب میں تارا ہوتا
ا ,پی لی تو کچھ پتہ نہ چلا وہ سرور تھا
ا ,پیار جادو ہے کسی دل میں اتر جائے_گا
ا ,تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہو سکتا
ا ,تجھ سے وعدہ عزیز_تر رکھا
ا ,تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا
ا ,تحلیل موسموں میں کر کے عجب نشہ سا
ا ,تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھا
ا ,ترے سامنے تو سمجھ رہا تھا کہ پھول تھا
ا ,تکلف چھوڑ کر میرے برابر بیٹھ جائے_گا
ا ,تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا
ا ,تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیا
ا ,تم مل گئے تو کوئی گلہ اب نہیں رہا
ا ,تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا
ا ,تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
ا ,تھوڑی دیر کو جی بہلا تھا
ا ,تو پھول کی مانند نہ شبنم کی طرح آ
ا ,تو مری ابتدا تو مری انتہا میں سمندر ہوں تو ساحلوں کی ہوا
ا ,تیری عنایتوں کا عجب رنگ ڈھنگ تھا
ا ,تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں_گا
ا ,جاتے جاتے یہ نشانی دے گیا
ا ,جانے والے مجھے کچھ اپنی نشانی دے جا
ا ,جب تک نگار_داشت کا سینہ دکھا نہ تھا
ا ,جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
ا ,جب ہوا عرفاں تو غم آرام_جاں بنتا گیا
ا ,جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا
ا ,جدا ہوئے وہ لوگ کہ جن کو ساتھ میں آنا تھا