تازہ غزلیں

اردو غزلوں کا وسیع ذخیرہ


غزل
اب ترے ہجر میں یوں عمر بسر ہوتی ہے
آباد اب نہ ہوگا مے خانہ زندگی کا
ابر بے وجہ نہیں دشت کے اوپر آئے
ابھی اشکوں میں خوں شامل نہیں ہے
ابھی تمام آئنوں میں ذرہ ذرہ آب ہے
اپنی کیفیتیں ہر آن بدلتی ہوئی شام
اپنی نظروں کو بھی دیوار سمجھتا ہوگا
اٹھ جا کہ اب یہ موقع ہاتھوں سے جا رہے گا
اٹھ صبح ہوئی مرغ چمن نغمۂ سرا دیکھ
اثر مری زبان میں نہیں رہا
آج ہے دہر میں کیا اک نئی آفت کے سوا
اجڑے نگر میں شام کبھی کر لیا کریں
اچھا ہے کوئی تیر با نشتر بھی لے چلو
اچھی نبھی بتان ستم آشنا کے ساتھ
ادھر آئے تو اسے پاس بلا کر دیکھیں
ادھر چراغ جل گئے ادھر چراغ جل گئے
اڑنا تو بہت اڑنا افلاک پہ جا رہنا
اس سے رشتہ ہے ابھی تک میرا
اس شہر کے یہیں کہیں ہونے کا رنگ ہے
اس طرح کرتے ہیں کچھ لوگ بڑائی اس کی
اس طرح مہ رخوں کو پشیماں کریں گے ہم
اس قدر ہستئ موہوم سے شرماتا ہوں
اس نے دیکھا تھا عجب ایک تماشا مجھ میں
اسم سارے بھول بیٹھا شعبدہ گر کس طرح
آسماں سورج ستارے بحر و بر کس کے لیے
اسی باعث تو دنیا کی مصیبت غم نہیں ہوتی
اسے بھی ہاتھ ملتے دیکھنا ہے
اسی لباس اسی پیرہن میں رہنا ہے
اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرے
اسیر حافظہ ہو آج کے جہان میں آؤ
اشارے کیا نگہ ناز دل ربا کے چلے
اشعار کی تخلیق میں جلتا ہے جگر کیوں
اشک آنکھوں میں بھرے بیٹھے ہو
اضطراب خاک امجد میں کہیں رہتا ہے وہ
اظہار عقیدت میں کہاں تک نکل آئے
اک تو ہی برباد نہیں
اک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اک شمع کی صورت میں منظور کیا جاؤں
اک فضا شوخ سی گنگنانے لگی
اک فنا کے گھاٹ اترا ایک پاگل ہو گیا
اک قطرۂ معنی سے افکار کا دریا ہو
اگر چاہوں جھٹک کر توڑ دوں زنجیر تنہائی
اگر ہر چیز میں اس نے اثر رکھا ہوا ہے
ان آنکھوں سے آب کچھ نہ نکلا
ان سے اظہار شکایات کروں یا نہ کروں
انا کو باندھتا رہتا ہوں اپنے شعروں میں
انقلاب دہر رک رک کر جواں بنتا گیا
آنکھ میں آنسو ٹھہرا ہے
آنکھ میں کتنے طلسمات‌ جہاں پاؤ گے
آنکھوں سے برستے اشکوں کی برسات پہ رونا آتا ہے
آنکھوں میں نئے رنگ سجانے نہیں اترے
آوازوں کے جنگل میں سنائی نہیں دیتا
اور نہ کھٹکا کر بابا
اوروں کی طرح سے اب نہ ٹالو
آیا نہ آب رفتہ کبھی جوئبار میں
ایسا نہیں کوئی کہ شناسا کہیں جسے
ایسے ہی دن تھے کچھ ایسی شام تھی
ایک سجدہ خوش گلو کے آگے سہواً ہو گیا
ایک میری جاں میں اور اک لہر صحراؤں میں تھی
آئنہ بھی آئینہ گر سے الجھتا رہ گیا
بات ایک جیسی ہے ہجو یا قصیدہ لکھ
بت پرستی نے کیا عاشق یزداں مجھ کو
بت یہاں ملتے نہیں ہیں یا خدا ملتا نہیں
بتوں کا ذکر کر واعظ خدا کو کس نے دیکھا ہے
بدن سے جاں نکلنا چاہتی ہے
بدن کو اپنی بساط تک تو پسارنا تھا
بدن یار کی بو باس اڑا لائے ہوا
برائے نام سہی کوئی مہربان تو ہے
بڑی تمنا ہے جاؤں سوئے ستم کسی دن
بس ایک وقت کا خنجر مری تلاش میں ہے
بکھرتی خاک میں کوئی خزانہ ڈھونڈھتی ہے
بلا سے برق نے پھونکا جو آشیانے کو
بلند و پست حقیقت سے آشنا نہ ہوا
بہ خدا ہیں تری ہندو بت مے خوار آنکھیں
بہار آتی ہے لیکن سر میں وہ سودا نہیں ہوتا
بہت دھوکا کیا خود کو مگر کیا کر لیا میں نے
بھٹک جائے گا دل عیاریٔ ادراک سے نکلیں
بھولنے والے تجھے یاد کیا ہے برسوں
بوسیدہ عمارات کو مسمار کیا ہے
بے حقیقت دوریوں کی داستاں ہوتی گئی
بے نیاز دہر کر دیتا ہے عشق
بیٹھے ہیں عید کو سب یار بغل میں لے کر
پتھر بنا کر عرش سے پھینکا گیا تھا ایک میں
پرانے پیڑ کو موسم نئی قبائیں دے
پنجوں کے بل کھڑے ہوئے شب کی چٹان پر
پھر زبان عشق چشم خونفشاں ہونے لگی
پھر شعلۂ گل موج صبا چاہیے یارو
پھر مجھے کون و مکاں دشت و بیاباں سے لگے
پھول ہنسے اور شبنم روئی آئی صبا مسکائی دھوپ
تارے ہماری خاک میں بکھرے پڑے رہے
تجھے کیسے علم نہ ہو سکا بڑی دور تک یہ خبر گئی
تصور میں کوئی آیا سکون قلب و جاں ہو کر
تلاش قبر میں یوں گھر سے ہم نکل کے چلے (ردیف .. ل)
تم خود ہی محبت کی ہر اک بات بھلا دو
تم سے جب بچھڑے تو کتنے رابطے رکھے گئے
تمیز فرزند ارض و ابن فلک نہ کرنا
تھا وہ جنگل کہ نگر یاد نہیں
تھیں اک سکوت سے ظاہر محبتیں اپنی
تو کیوں پاس سے اٹھ چلا بیٹھے بیٹھے
تو نہیں تو زندگی آزار ہے تیرے بغیر
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 397 items