تازہ غزلیں

اردو غزلوں کا وسیع ذخیرہ


غزل
اب آر پار دھیان کی مشعل کہاں ہے زیب
اب ان سے اور تقاضائے بادہ کیا کرتا
اب جو اٹھیں گے تو کاندھوں پہ اٹھانا ہوگا
اب طبیعت کہاں روانی میں
ابر چھایا تھا فضاؤں میں تری باتوں کا
ابر کا سر پہ سائباں بھی تو ہو
آبلہ ہے کہ گھاؤ جو بھی ہے
اپنے سائے کو بھی اسیر بنا
اپنے کو آغاز کو انجام میں پایا ہم نے
اپنی ہی صدا سنوں کہاں تک
اتنے پر مغز ہیں دلائل کیا
اتنی فرصت نہیں اس پیکر پندار کے پاس
اٹھا بھی دل سے اگر میری چشم تر میں رہا
اٹھے جس بزم سے تم غم کا سماں چھوڑ آئے
آج تجھے کیوں چپ سی لگی ہے
اس جہاں سے کوئی بھی سودا نہ کر
اس کی پہلے سے تھی نظر شاید
اسے کیا رات دن جو طالب دیدار پھرتے ہیں
آشفتگی پھر آج منا لے گئی مجھے
اک برق تپاں کودے بجلی سی چمکے جائے
اک نشتر نظر کے طلب گار ہم بھی ہیں
آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا
آگہی کے در کھلے تو زندگی اچھی لگی
الفاظ ہیں یہ سارے اسی کی زبان کے
امید ٹوٹی ہوئی خاک داں میں روشن ہے
ان کی آرائش سے میرے کام بن جائیں گے کیا
آنکھ ہر شب کو اندھیروں کی قبا دھوتی ہے
آنکھ ہے اک کٹورا پانی کا
آنکھیں کھلی کھلی ہیں نظر لے گیا کوئی
اول غزل عبادت کی
اے آسماں کرم اتنا زمین پر کر دے
اے بجھے رنگوں کی شام اب تک دھواں ایسا نہ تھا
اے دل نہ عقیدہ ہے دوا پر نہ دعا پر
اے زمانے تری رفتار سے ڈر لگتا ہے
اے سخنور طرح گماں ہوں میں
ایسی بھی صورت حالات نہ سمجھی جائے
ایسی مشکل میں نہ جاں تھی پہلے
ایک اک کر کے سبھی لوگ بچھڑ جاتے ہیں
ایک ایسے مکاں میں ٹھہرے ہیں
ایک ایک گھڑی اس کی قیامت کی گھڑی ہے
ایک تماشا اور دکھایا جا سکتا تھا
ایک سے جذبے خون میں سرخی ایک ہی تھی
ایک مدت سے ادھورا ہے سراپا اپنا
ایک مقتول جفا دو ظلم کے قابل نہ تھا
آئینۂ عبرت ہے مرا دل بھی جگر بھی
با وفا کوئی کوئی ہوتا ہے
بات کریں یوں منہ نہ کھولیں
باد شمال چلنے لگی انگ انگ میں
بچھڑ کے بھی ملا رسوائیوں کا قہر تجھے
بدلتی رت پہ ہواؤں کے سخت پہرے تھے
بڑے شباب پہ درد فراق مستی ہے
بستی میں قتل عام کی کوشش نہ بن سکا
بکھرا بکھرا ہستی کا شیرازہ ہے
بلا ہی عشق لیکن ہر بشر قابل نہیں ہوتا
بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
بنے بنائے ہوئے راستوں پہ جا نکلے
بہاروں کی طرح در بولتا ہے
بہت خوددار ہے گھٹنوں کے بل چل کر نہیں آتا
بہت دنوں سے کسی کے گلو کا پیاسا ہے
بھول جاتے ہیں تقدس کے حسیں پل کتنے
بے گھری کا اپنی یہ اظہار کم کر دیجیے
پردہ رہا کہ جلوۂ وحدت نما ہوا
پلکوں پہ بھلا کب یہ ٹھہرنے کے لئے تھے
پھر وہی بات ہو گئی ہوگی
پھول خوشبو سے جدا ہے اب کے
پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیا
پیار کا میرے تو حساب تو دے
تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے
تخت نشینوں کا کیا رشتہ تہذیب و آداب کے ساتھ
ترجمانیٔ غم زیست کا موسم بھی نہیں
تری سمت جانے کا راستہ نہیں ہو رہا
تری نگاہ کے جادو بکھرتے جاتے ہیں
تکلف ہے مراد دل کا دل پر بار ہو جانا
تم آ گئے ہو تو کیوں انتظار شام کریں
تمہارے جسم کی خوشبو گلوں سے آتی ہے
تنہا شجر کے درد کا احساس دے گیا
تھے سب کے ہاتھ میں خنجر سوال کیا کرتا
تیرگی نام ہے دل والوں کے اٹھ جانے کا
تیری آغوش میں نڈھال ہوں میں
تیز مجھ پر جو ستم گر کی چھری ہوتی ہے
ٹوٹ کر عالم اجزا میں بکھرتے ہی رہے
ٹوٹتے جسم کے مہتاب بکھر جا مجھ میں
جانے وہ کون تھا اور کس کو صدا دیتا تھا
جائز ہے اس کا قتل ہمارے حساب سے
جب تری چاہ میں دامان جنوں چاک ہوا
جب جب رفاقتوں سے گزرنا پڑا مجھے
جب نہ گنبد نہ صدا رقص میں ہو
جبیں پہ دھوپ سی آنکھوں میں کچھ حیا سی ہے
جسموں کی چڑھتی دھوپ کا جب قہر اتر گیا
جلوہ ساماں ہے رنگ و بو ہم سے
جنوں کے باب میں یوں خود کو تمہارا کر کے
جہان فکر میں مثل ہوا چلتا رہا ہوں میں
جو بھیگی رات تو آسیب کے لشکر نکل آئے
جو تری نظر میں پنہاں نہ یہ اعتبار ہوتا
چاندنی چھٹکی ہوئی ہو تو غزل ہوتی ہے
چاندنی رات ہے تاروں کا سماں باقی ہے
چاہے جنت نہ ملے چاہے خدائی نہ ملے
چراغ دید جلاؤ کہ خواب لرزاں ہیں
چمن کا ذکر کیا اب تو خدا کو یاد کرتے ہیں
چھن گئے خود سے تمہارے ہو گئے
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 292 items