تازہ غزلیں

اردو غزلوں کا وسیع ذخیرہ


غزل
اب احترام ہی کہیے اسے کہ ڈر کے گئے
اب اور دم نہ گھٹے روشنی کا کمرے میں (ردیف .. و)
اب بھی اپنا خیال رکھا ہے
اب تک تو یہی پتا نہیں ہے
اب چھت پہ کوئی چاند ٹہلتا ہی نہیں ہے
اب حسن و عشق کے بھی قصے بدل گئے ہیں
ابھی سمجھائیں کیا تم کو ابھی تم عشق میں ہو
آپ دینے کو کیا نہیں دیتے
آپ سے دل لگانا ضروری نہیں
اپنا سوچا ہوا اگر ہو جائے
اپنی آنکھوں کو امیدوں سے سجائے رکھنا
اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا
آتا ہے نظر اور ہی منظر ہے کوئی اور
اتنا بھی اے خدا مجھے مشہور تو نہ کر
اتنے بیدار زمانے میں یہ سازش بھری رات (ردیف .. ی)
اتنی ہوا نہ واعظ دیں دار باندھئے
اٹھا جو دست ستم قتل بے نوا کے لئے
اٹھا کر برق و باراں سے نظر منجدھار پر رکھنا
آج کے ماحول میں انسانیت بدنام ہے
اجلی اجلی برف کے نیچے پتھر نیلا نیلا ہے
اچانک سامنے وہ آ گیا تو
اخترؔ کو تو ریئے میں بھی ہے عار کیا کرے
آخر ہم نے طور پرانا چھوڑ دیا
آخری بار اندھیرے کے پجاری سن لیں
آدھوں کی طرف سے کبھی پونوں کی طرف سے
اردی و دے سے پرے سود و زیاں سے آگے
اس بھول میں نہ رہ کہ یہ جھونکے ہوا کے ہیں
اس سے پہلے کہ کہانی سے کہانی نکلے
اس سے خوابوں میں سامنا ہوگا
اس کا کوئی مجھے پتہ ہی نہیں
آسماں پر بنے تھے چہرے سے
اسی طرح اگا تھا اور اسی طرح سے ڈھل گیا
اسے کہنا محبت دل کے تالے توڑ دیتی ہے (ردیف .. م)
افسانۂ غم یوں بھی دل زار کہا ہے
افسوس تمہیں کار کے شیشے کا ہوا ہے
افسوں پہلی بارش کا
اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا
اک حقیقت ہوں اگر اظہار ہو جاؤں گا میں
اک ذرا تم سے شناسائی ہوئی
اک طرف پیار تو اک سمت انا رکھی ہے
اک عجب ہم نے ماجرا دیکھا
اک نگری سبز امنگوں کی (ردیف .. ا)
آکاش پہ بادل چھائے تھے
اگر تجھ سے ہوں تو پھر اور کیا ہوں
اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ تو میں تمہارا
الجھنوں میں ہی الجھتی زندگانی رہ گئی
امارت ہو کہ غربت بولتی ہے
ان سنی کرتا نہیں اس کو سنا کر دیکھنا
انجام عشق مانا اکثر برا ہوا ہے
انسانیت نہ جس میں ہو وہ آدمی نہیں
آنکھ سے نکلا تو اک سیل رواں ہو جائے گا
آنکھ ہو اور کوئی خواب نہ ہو
آنکھوں پہ شب رقم بھی نہیں کر سکوں گا میں
آنکھوں میں جو ایک خواب سا ہے
آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا
آنکھیں ملا رہے ہیں وہی آسمان سے
انگلی فگار کوئی نہ خوں میں قلم ہوا
انور شعورؔ دن میں کہیں رات میں کہیں
آہ بارگہہ حسن میں جلووں کا اثر دیکھ
اور کیا رہ گیا ہے ہونے کو
اور ہوا دوں دل میں آگ بھڑکتی کو
اے خدا جب سے عطا کی تو نے پیشانی مجھے
اے کاش کہ ٹوٹے ترا پندار کسی دن
اے ناصحو نہ اور کوئی گفتگو کرو
ایسا ہونے نہیں دیتا تھا مگر ہونے کو ہے
ایسا وہ بے شمار و قطار انتظار تھا
ایسے چپ چپ بھی کیا جیا جائے
ایسے کھلتے ہیں فلک پر یہ ستارے شب کے
ایک پت جھڑ سا ہے لگا مجھ میں
ایک تصویر آنکھوں میں آتی ہوئی ایک جاتی ہوئی
ایک تو عشق کی تقصیر کئے جاتا ہوں
ایک محل تھا راجہ کا اک راجکماری ہوتی تھی
بات میں کچھ مگر بیان میں کچھ
بارے غم فراق اٹھاتا رہا ہوں میں
بٹے رہو گے تو اپنا یوں ہی بہے گا لہو
بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا
برملا حسن دل آویز کا قصہ نہ سنا
بڑی اداس ہیں شامیں ترے وصال کے بعد
بڑی جانی ہوئی آواز میں کس نے بلایا ہے
بس اک دھوکا رہ جاتا ہے
بس ایک ترے خواب سے انکار نہیں ہے
بس یہی بات یہاں حرف ملامت کی ہے
بستی بستی گھور اندھیرا سونا سونا جادہ تھا
بکھر رہی ہے جو قوت وہ پھر منظم ہو
بلائے تیرہ شبی کا جواب لے آئے
بلندیوں کے دھندلکے میں تھا خدا سا لگا
بنا کے تاج محل خود اسے گراؤں گا
بنائے ارض و فلک حرف ابتدا ہوں میں
بند ہتھیلی میں ہیں سب
بند ہونٹوں سے بھی اظہار تمنا کرتے
بندھا ہے عہد جنوں چشم اعتبار کے ساتھ
بہت خوب نقشہ مرے گھر کا ہے
بہت راز ہیں زندگی سے بھی آگے
بہتے ہوئے دریا کے کناروں کی طرح تھا
بھلی ہو یا کہ بری ہر نظر سمجھتا ہے
بے بصر آفات سے تکلیف ہوتی ہے مجھے
بے چارگئ دوش ہے اور بار گراں ہے
بے دم ہوئے یوں ہو کے گرفتار محبت
بے صدا کیوں کر ہوا بے دست و پا کیوں کر ہوا
بے وفا ایسے تو ہرگز نہ تھے پہلے ہم لوگ