تازہ غزلیں

اردو غزلوں کا وسیع ذخیرہ


غزل
اب اس سے اور عبارت نہیں کوئی سادی
اب چراغوں میں زندگی کم ہے
اب وہ پہلا سا التفات کہاں
ابر دیدہ کا مرے ہو جو نہ اوجھڑ پانی
اپنا دنیا سے سفر ٹھہرا ہے
اپنا گھر بازار میں کیوں رکھ دیا
اپنی آنکھوں سے جو وہ اوجھل ہے
اپنی خطا کو اس نے مرے نام لکھ دیا
اپنے خوابوں کے پاس رہنے دے
اپنی صورت پہ بھی نظر رکھئے
آتا ہے کوئی لطف کا ساماں لیے ہوئے
اتنے امکان کب ہوئے پہلے
آج دیوانے کو بے وجہ ستایا جائے
اجنبی مسافر کو راستہ دکھائے گا
اداس بام ہے در کاٹنے کو آتا ہے
آدھی آگ اور آدھا پانی ہم دونو
اڑے نہیں ہیں اڑائے ہوئے پرندے ہیں
آزادی میں رہنے والے دیکھو کیسے رہتے ہیں
آزمائش میں کٹی کچھ امتحانوں میں رہی
اس ایک شخص کا کوئی پتہ نہیں ملتا
اس قدر محو تصور ہوں ستم گر تیرا
اس کا ہے عزم سفر اور نکھرنے والا
اس کے چہرے پہ تبسم کی ضیا آئے گی
اسی سبب سے تو ہم لوگ پیش و پس میں ہیں
اشک بن کر جو چھلکتی رہی مٹی میری
آگ دریا کو اشاروں سے لگانے والا
آنا بھی آنے والے کا افسانہ ہو گیا
انسان کی حالت پر اب وقت بھی حیراں ہے
آنکھوں سے کبھی کوچۂ جاناں نہیں دیکھا
اہل ایماں سے نہ کافر سے کہو
آہوں کی آزاروں کی آوازیں تھیں
آوارہ آوارہ خوشبو ہم دونو (ردیف .. ن)
اور کیا آخر تجھے اے زندگانی چاہیئے
اے خواب دل نواز نہ آ کر ستا مجھے
اے دو جہاں کے مالک اعلیٰ ہے نام تیرا
ایسی ہی زمیں بنا رہا تھا
ایک اک لمحہ کہ ایک ایک صدی ہو جیسے
ایک پتھر ہے جو بس ضد پہ اڑا لگتا ہے
آئنے کتنے یہاں ٹوٹ چکے ہیں اب تک
بات بن جائے جو تفصیل سے باتیں کر لے
بات کہنے کے لئے بات بنائی نہ گئی
بربادیوں کا اپنی گلہ کیا کریں گے ہم
بزم جاناں میں محبت کا اثر دیکھیں گے
بعد مدت کے مرے آنکھ سے آنسو نکلے
بلا کی دھوپ تھی میں جل رہا تھا
بنایا ہے شہکار یوں تیرے غم نے
بہ ہر لمحہ پگھلتا جا رہا ہوں
بہائے شبنم نے اشک پیہم نسیم بھرتی ہے سرد آہیں (ردیف .. ا)
بہت جلدی تھی گھر جانے کی لیکن (ردیف .. ے)
بھول میری قبول کی اس نے
بھیگی بھیگی برکھا رت کے منظر گیلے یاد کرو
بوسہ زلف دوتا کا دو
بے جرم و بے گناہ غریب الوطن کیا
بے خودی میں ہے نہ وہ پی کر سنبھل جانے میں ہے
بے وفا کہئے با وفا کہئے
بیتے لمحوں کو ڈھونڈھتا ہوں میں
پابند ہر جفا پہ تمہاری وفا کے ہیں
پر صعوبت راستوں کی گرمیاں بھی دے گیا
پردۂ ساز میں بھی سوز کا حامل ہونا
پروردگار دے مجھے غیرت شعار آنکھ
پڑے ہیں مست بھی ساقی ایاغ کے نزدیک
پھر عمر بھر کی نالہ سرائی کا وقت ہے
پھول کھلے ہیں موسم بدلا صحرا کے ویرانوں کا
پھیلی ہے دھوپ جذبۂ اسفار دیکھ کر
تاریک اجالوں میں بے خواب نہیں رہنا
تری جب نیند کا دفتر کھلا تھا
تم اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتے
تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے
تم نے جب گھر میں اندھیروں کو بلا رکھا ہے
تمام حسن و معانی کا رنگ اڑنے لگا
تمہارے شہر میں آنگن نہیں ہے
تنہا تنہا سہمی سہمی خاموشی
تنہائی کا غم روح کے اندر سے نکالوں
تنہائی میں آج ان سے ملاقات ہوئی ہے
تھی نظارے کی گھات آنکھوں میں
تو نہیں تو تیرا درد جاں فزا مل جائے گا
تو نہیں ہے تو زندگی ہے اداس
تو وہ ہندوستاں میں لالا ہے
تیری طرح ملال مجھے بھی نہیں رہا
تیغ جفا کو تیری نہیں امتحاں سے ربط
ٹلنے کے نہیں اہل وفا خوف زیاں سے
ٹوٹے جو دانت منہ کی شباہت بگڑ گئی
جانا کہاں ہے اور کہاں جا رہے ہیں ہم
جب بھی کمرے میں کچھ ہوا آئی
جب سے الفاظ کے جنگل میں گھرا ہے کوئی
جب کوئی مہربان ہوتا ہے
جب ہم حدود دیر و حرم سے گزر گئے
جتنا دکھتا ہوں مجھے اس سے زیادہ نہ سمجھ
جدھر وہ ہیں ادھر ہم بھی اگر جائیں تو کیا ہوگا
جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اور
جگر کے خون سے روشن گو یہ چراغ رہا
جلتی بجھتی ہوئی آنکھوں میں ستارے لکھے
جہاں غم ہے نہ اب کوئی خوشی ہے
جھیل آنکھیں تھیں گلابوں سی جبیں رکھتا تھا
جو اپنے گھر کو کعبہ مانتے ہیں
جو آنسوؤں کو نہ چمکائے وہ خوشی کیا ہے
جو بظاہر سحر آثار نظر آتے ہیں
جو جو شعور ذہن پہ آتا چلا گیا
جو در کھلا ہے شکستہ مکاں کا حصہ ہے
جو ڈر اپنوں سے ہے غیروں سے وہ ڈر ہو نہیں سکتا
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 290 items