تازہ غزلیں

اردو غزلوں کا وسیع ذخیرہ


غزل
آ ادھر آ حوصلہ گر کچھ ہے قاتل اور بھی
اب صلیبیں شاہراہوں پر سجا دی جائیں گی
اب وہاں چل کر رہیں اے دل جہاں کوئی نہ ہو
ابر چھائے گا تو برسات بھی ہو جائے گی
ابر کے ساتھ ہوا رقص میں ہے
ابروئے ابر سے کرتا ہے اشارہ مجھ کو
ابھی تو یہی دیکھنا چاہتا ہوں
آپ سے وابستگی کیا خوب ہے
آپ کو زخم جگر دکھلا کے ہم چپ چاپ ہیں
آپ یکتا ہوئے مزا نہ ہوا
اپنے احساس شرر بار سے ڈر لگتا ہے
اپنی تقدیر سے بغاوت کی
اپنے خوابوں کے میکدے میں ہوں
اپنے دل کو سنبھال سکتا ہوں
اپنے سے گریزاں کبھی اغیار سے برہم
اپنی محبتوں کو سلیقہ ملے کوئی
اٹھو ردائے رعونت کو تار تار کریں
آج تک آزما رہی ہے مجھے
آج تک دیدۂ مشتاق سے پنہاں ہی رہے
آج گم گشتہ خیالات نے چونکایا ہے
اچانک رخ بدلتی جا رہی ہے
اچانک سارے منظر بول اٹھے
اچھا تو تم ایسے تھے
ادھورا رہ گیا مجنوں سے استفادہ مرا
آرزوئے دل کا یہ انجام ہونا چاہیے
آرزوئے دل ناکام سے ڈر لگتا ہے
اس زلف پہ محو ہو گئے ہم
اس سے پہچان ہو گئی ہوگی
اس سے پہلے کہ غم کون و مکاں کو سمجھو
اس شہر کج کلاہ کے آثار دیکھنا
اس طرح عشق کا آزار نہ جی کو ہوگا
اس نے آتے ہی دیا بجھا دیا
اسی کے کہنے پہ منحصر ہے
اسے کیوں سحر سے نشاط ہو اسے کیا ملال ہو شام سے
اسی لیے تجھے دیتا ہوں داد نفرت کی
آشیاں پر کرم برق تپاں ہے اب بھی
اک بھول سی ضرور کہیں کر رہے ہیں ہم
اک پر کشش کہانی کے کردار کی طرح
آگ پانی میں فروزاں دیکھو
آلام روزگار کی ماری ہے زندگی
ان کے جلوے نگاہوں میں ڈھلتے رہے
ان کی نظر کا لطف نمایاں نہیں رہا
انداز وہ نہیں ہے اب وہ ادا نہیں ہے
آنسوؤں کا حساب کیا رکھنا
آنکھوں میں جو بسا تھا وہ کاجل کہاں گیا
آہ و نالہ درد و غم شور فغاں ہے آج بھی
آہ وہ کون تھا خدا مارا
اہل دیر و حرم رہ گئے
آوارۂ غربت ہوں ٹھکانہ نہیں ملتا
اور بھی آئیں گے کچھ اہل وفا میرے بعد
اول تو میں رکتا نہیں اور جس سے رکوں میں
اے جہاں غم کے سوا تجھ سے ملا کچھ بھی نہیں
اے دل درد آشنا حسن سے رسم و راہ کر
اے دل والو گھر سے نکلو دیتا دعوت عام ہے چاند
اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں
اے مسیحا دم ترے ہوتے ہوئے کیا ہو گیا
ایک بھی حرف نہ تھا خوش خبری کا لکھا
ایک صورت نظر آئی تھی ابھی
ایک کافر ادا نے لوٹ لیا
ایک لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں
ایک ہی بار میں خوابوں سے کنارہ کر کے
ایک وحدت تھی آپ ہی بکھری
باغ جہاں کے سادہ جمالوں سے عشق ہے
باغمتی کے پاس ہی کوئی اروت گاؤں ہے
بام پر آؤ کبھی ماہ درخشاں کی طرح
بٹھا کے دل میں گرایا گیا نظر سے مجھے
بچا کے رکھا ہے جس کو غروب جاں کے لئے
بچپن تھا وہ ہمارا یا جھونکا بہار کا
بخشی ہے کیف عشق نے وہ بے خودی مجھے
بد دلی میں بے قراری کو قرار آیا تو کیا
بدن کے موسم برسات میں نہیں آنا
برا ہو گیا یا بھلا ہو گیا
بس ہو بھی چکیں حسرت پرواز کی باتیں
بقا صدف کی گہر کے سوا کچھ اور نہیں
بہ خدا ہیں تیری ہندو بت مے خوار آنکھیں
بھریں نہ وقت کے ہاتھوں جراحتیں تیری
بھنگ کھاتے ہیں نہ گانجا نہ چرس پیتے ہیں
بے خبر سائباں ابھی تک ہے
بے لوث محبت کی نظر ڈھونڈ رہا ہوں
بے نیاز سکون منزل ہے
بے وفا نا مہرباں یہ سچ ہے وہ ایسا تو تھا
پچھلے سفر کا عکس زیاں میرے سامنے
پڑھ رہے تھے وہ لب حور ہمارا قصہ
پھر اس روپ میں آنا تم
پھر کسی خواب کی پلکوں پہ سواری آئی
پہلے تو دام زلف میں الجھا لیا مجھے
پہلے تو نیزے خواب میں بویا کریں گے رات دن
پہلے چاہت کو تیز کر لے گا
پہلے ہی دن کھلا یہ جواب و سوال میں
پھیلا کے سر پہ درد کی چادر چلا گیا
پوچھو نہ کچھ کٹے ہے اب اوقات کس طرح
پینے میں احتیاط زیادہ نہیں رہی
پیہم اک اضطراب عجب خشک و تر میں تھا
پئے سجدہ اگر مجھ کو نہ تیرا آستاں ملتا
تابندہ بہاروں کے نظارے نہیں دیکھے
تتلی قفس میں قید صبا ڈھونڈھتی رہی
تجھ تک بچا کے لائی ہے میری جبیں مجھے
تجھ سے بگڑی جو ذرا میں اپنی
ترا غم جب سے کم ہونے لگا ہے
ترے فرق ناز پہ تاج ہے مرے دوش غم پہ گلیم ہے
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 418 items