تازہ نظمیں

نظموں کا وسیع ذخیرہ-اردو شاعری کی ایک صنف


اردو میں نظم کی صنف انیسویں صدی کی آخری دہائیوں کے دوران انگریزی کے اثر سے پیدا ہوئی جو دھیرے دھیرے پوری طرح قائم ہو گئی۔ نظم بحر اور قافیے میں بھی ہوتی ہے اور اس کے بغیر بھی۔ اب نثری نظم بھی اردو میں مستحکم ہو گئی ہے۔


نظم
اب وہ کیا کر رہا ہوگا
آتش دان
اٹھ کے در سے تمہارے اگر جائیں گے
اس چہرے پر شام ذرا سی گہری ہے
اس کے دشمن
اس میں میری تو کوئی غلطی نہیں
اشومیدھ یگیہ
اعجاز تصور
اک بوڑھا
اک تنہا بے برگ شجر
اکیسویں صدی کا عشق
اگر تو معاف کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے تو سن
الجھی سانسیں
آمد
امروز
ان لوگوں کے اندر
انا
انار کلی
آنکھیں بھول آیا ہوں
آؤ پھر سے دیا جلائیں
اے زندگی
ایڈز
ایک بات
ایک خط
ایک ڈبہ شاعر کے لئے نظم
ایک کتبہ
ایک نظر
آئینہ
بادۂ نیم رس
بانجھ
بت تراش
بچوں کا جلوس
برسات اور شاعر
بزدل
بلند پیڑوں کے سبز پتوں میں سطح دریا کی سلوٹوں پر
بہت خوبصورت ہو تم
بے فیض موسم کی رفاقت میں
بے کراں وسعتوں میں تنہا
پذیرائی
پرندہ
پہلی برف باری
پھولوں سے سجا اک سیج دکھا
تحریر
تخلیق عورت
تشدد
تضمین بر اشعار غالب
تعارف
تلازم
تلاش
تھک جاؤ گی
تیرا اور میرا ساتھ
تیرا نام
تیرے بعد
جب بھی جوتے خریدو
جنگ
جنگل
چاند آج کی رات نہیں نکلا
حادثہ
خزاں پھر آ گئی کیا
خزاں موسم نہیں ہے
دروغ گو راوی
دستور سازی کی کوشش
دعا
دکھ کی بات
دکھوں کی اپنی اک تفسیر ہوتی ہے
دل دکھتا ہے
دل صافی
دلی اور ہم
دوراہا
دوسرا جنم
دیواریں
ڈیوٹی
راہرو
رشحات
رنگ جو خوشبو نہ تھا
رنگ گفتگو
رو میں ہے رخش عمر
روانگی
روزن دیوار شب
ریڈیو
زبان اردو
زبان درگور
سالگرہ
سائے
سفر کا دوسرا مرحلہ
سلطان اختر پٹنہ کے نام
سمندر اگر میرے اندر آ گرے
سمندر پر بارش
سمندر کی جانب سے آتی ہوا میں
سنا تھا چاند نکلے گا
سنو نا جاناں
سوال
سوتا ہوں
سوری جنٹلمین
شاعر بسیار گو
شاعر کی دنیا
شاعری سچ بولتی ہے
شب خزاں
شری لال بہادر شاستری وزیر اعظم ہند
شکایت
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 164 items