رباعی


اردو کی نظمیہ شاعری میں وہ صنف جو چار مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان چار مصرعوں میں پہلا، دوسرا اور چوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہوتا ہے۔ رباعی کے 24 اوزان مقرر ہیں۔ کسی رباعی کے تمام مصرعے ان 24 میں سے کسی ایک وزن میں ہو سکتے ہیں اور ہر مصرعہ مختلف وزن میں بھی ہو سکتا ہے۔


RUBAAI
آ جا کہ کھڑی ہے شام پردا گھیرے
آ جائے اگر حکم فلک سے ناظمؔ
آ دل میں فضائے طور بن کر چھا جا
اب اور زمین و آسماں پیدا ہو
اب جذبۂ وحشت کی قسم مت کھاؤ
آب حیواں نہیں گوارا ہم کو
اب خواب سے چونک وقت بیداری ہے
اب دشمن جاں ہی کلفت غم ساقی
اب زیر قدم لحد کا باب آ پہنچا
اب شہر کی گلیوں میں جو ہم ہوتے ہیں
اب صوم و صلوٰۃ سے بھی جی ہے بیزار
اب قوم کی جو رسم ہے سو اول جلول
اب گرم خبر موت کے آنے کی ہے
اب ہند کی ظلمت سے نکلتا ہوں میں
اب وقت سرور و فرحت اندوزی ہے
اب وقت عزیز کو تو یوں کھوؤگے
اب ولولے عشق کے تمنا میں نہیں
اب یہ بھی نہیں کہ نام تو لیتے ہیں
آباد اسی نے دل کی وادی کی ہے
ابرو سے مہ نو نے کہاں خم مارا
آپ ہیں محو حسن و رعنائی
اپنے آقا کی ہر گھڑی یاد میں ہوں
اپنی حد سے گزر گئے اب کیا ہے
اپنی صورت نہ جب نظر آئی
اپنے ہی دل اپنوں کا دکھاتے ہیں بہت
آتا نہیں سانسوں میں مزہ پینے کا
آتا ہے جو منہ میں مجھے کہہ دیتی ہو
اترا تھا غریبانہ کنارے آکر
آتش بازی ہے جیسے شغل اطفال
اتنا نہ غرور کر کہ مرنا ہے تجھے
اتنے بھی نہ ہم خراب ہوتے رہتے
اتنے بھی ہم خراب نہ ہوتے رہتے
آتی ہے تو کھلتی ہے گلابوں کی طرح
آثار زوال
اجتہاد
احباب سے امید ہے بیجا مجھ کو
احباب ملاقات کو جو آتے ہیں
احباب نے سو طرح ہمیں خوار کیا
احساس کو لفظوں میں پرونے کا فن
احساس کی لذت کے قریب آ جاؤ
احساس کے ہر رنگ کو اپنا لیتا
احساس میں بے تابئ جاں رکھ دی ہے
احساس نشاط کی کمی دیکھو گے
احسان جو اجل سے کام تیرا بگڑے
احمد کا مقام ہے مقام محمود
احوال سے کہا کسی نے اے نیک شعار
اختر سے بھی آبرو میں بہتر ہے یہ اشک
آخر کو بڑھی تو بات بڑھتی ہی گئی
اخفا کے لئے ہے اس قدر جوش و خروش
اخلاص کی دھوکے پر ہوں مائل تیرا
اخلاق سے جہل علم و فن سے غافل
اخلاق سے ہو گئی عاری دنیا
اخلاق کے عنصر ہوں اگر اصل مزاج
آدم کو عجب خدا نے رتبہ بخشا
آدم کو یہ تحفہ یہ ہدیہ نہ ملا
ادنیٰ سے جو سر جھکائے اعلیٰ وہ ہے
ادیان و مذاہب و ملل کی جنگیں
ارباب قیود تجھ کو کیا دیکھیں گے
ارباب وفا کی جاں گدازی دیکھی
ارمان نکلنے کا مزہ ہے کچھ اور
اڑتا ہوا بادل کہیں ہاتھ آیا ہے
اڑتے دیکھا جو طائر پراں کو
آزادئ فکر و درس حکمت ہے گناہ
اس باغ میں کس کو پھول چنتے دیکھا
اس بحر میں سیکڑوں ہی لنگر ٹوٹے
اس بزم سے میدان میں جانا ہوگا
اس بزم کو جنت سے جو خوش پاتے ہیں
اس بزم میں ارباب شعور آئے ہیں
اس پار سے یوں ڈوب کے اس پار گئے
اس جسم کی کیچلی میں اک ناگ بھی ہے
اس خطے کی جا عالم بالا میں نہیں
اس در پہ ہر ایک شادماں رہتا ہے
اس دہر میں اب کس پہ بھروسہ کیجے
اس دہر میں اک نفس کا دھوکا ہوں میں
اس رشتے میں لاکھ تار ہوں بلکہ سوا
اس زلف نے ہم سے لے کے دل بستہ کیا
اس سلسلۂ شہود کو توڑ دیا
اس سے کہ کہیں کے شاہ ہو سکتے ہم
اس شام وہ سر میں درد سہنا اس کا
اس شوخ کو ہم نے جس گھڑی جا دیکھا
اس طرح بدل گئی ہے میری رفتار
اس طرح طبیعت کبھی شیدا نہ ہوئی
اس عہد میں احتساب ایمانی کیا
اس نیت سے تنگ آ کے روئے ہم لوگ
اس ہاتھ سے جو کچھ میں لیا کرتا ہوں
اس ہستیٔ منجلی سے ورثے میں ملا
اس وقت زمانے میں بہم ایسے ہیں
آساں نہیں حال دل عیاں ہو جانا
اسرار جہاں لطیفۂ غیبی ہیں
اسراف سے احتراز اگر فرماتے
اسلاف کا حصہ تھا اگر نام و نمود
آسودگیٔ ذات نہیں ہو سکتی
اشعار میں ڈھلتا ہے مرا سوز دروں
اشک آئے غم شہ سے جو چشم تر میں
اشکوں میں نہاؤ تو جگر ٹھنڈے ہوں
آشوب زمانہ سے ہے ڈرنا کیسا
اصحاب کو جو کہ ناسزا کہتے ہیں
اصحاب نے پوچھا جو نبی کو دیکھا
اعدا کو ادھر حرام کا مال ملا
اعزاز سلف کے مٹتے جاتے ہیں نشاں