رباعی

اردو کی نظمیہ شاعری میں وہ صنف جو چار مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان چار مصرعوں میں پہلا، دوسرا اور چوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہوتا ہے۔ رباعی کے 24 اوزان مقرر ہیں۔ کسی رباعی کے تمام مصرعے ان 24 میں سے کسی ایک وزن میں ہو سکتے ہیں اور ہر مصرعہ مختلف وزن میں بھی ہو سکتا ہے۔

1873 -1951

ممتاز قبل از جدید شاعر،جگر مرادآبادی کے معاصر

1893 -1946

لکھنؤ کے ممتاز شاعر اور عالم، داغ اور ناطق گلاوٹھی کے شاگرد۔ غالب اور حافظ کے کلام کی شرح و ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی قدیم شاعرات کا تذکرہ بھی مرتب کیا

1914

حیدرآباد دکن کے پرگو اور قادرالکلام شاعر، جنہوں نے نہایت سنگلاخ اور مشکل زمینوں میں شاعری کی، رباعی گوئی کے لیے بھی جانے جاتے ہیں

1909 -1988

طنز پر مائل جذباتی شدت کے لئے معروف

1905 -1948

مقبول ترین اردو شاعروں میں شامل ، شدید رومانی شاعری کے لئے مشہور

1844 -1917

بچوں کی شاعری کے لئے مشہور

1837 -1914

اردو تنقید کے بانیوں میں شامل۔ ممتاز قبل از جدید شاعر۔ مرزا غالب کے سوانح ’یاد گار غالب‘ لکھنے کےلئے مشہور

1878 -1961

ممتاز شاعر،اصناف سخن میں رباعی کے لیے مشہور

1846 -1931

اردو میں طنز و مزاح کے سب سے بڑے شاعر ، الہ آباد میں سیشن جج تھے

1927 -2006

ممتاز نقاد، اپنی بیباکی اور روایت شکنی کے لئے معروف

1850 -1885

ہندی کی تجدید نو کے مبلغ ، کلاسکی طرز میں اپنی اردو غزل گوئی کے لیے مشہور

1840 -1900

داغ کے ہم عصر، اردو اور فارسی میں شاعری کی، جدید شاعری کی تحریک سے متاثر ہوکر نیے انداز کی نظمیں بھی لکھیں

1887 -1966

مشہور اردو اسکالر اور شاعر جگن ناتھ آزاد کے والد

1889 -1934

اپنی رباعیات اور گوتم بدھ پر طویل نظم کے لیے مشہور

1962

ممتاز مابعد جدید شاعر۔ اپنی نظموں کے لئے معروف

1898 -1982

سب سے شعلہ مزاج ترقی پسند شاعر، شاعر انقلاب کے طور پر معروف

1928 -1983

مشہور نظم کلکتہ: ایک رباب کے خالق

ریاست ٹونک کے شاعر، تقسیم کے بعد پاکستان چلے گیے، ’شعلۂ جاں‘ کے نام سے شعری مجموعہ شائع ہوا

1847 -1918

مرثیہ ، غزل اور رباعی کے ممتاز شاعر - میر انیس کے نواسے

1873 -1910

نئی نظم کو موضوعاتی اوراسلوبیاتی لحاظ سے ثروت مند بنانے میں اہم کردار ادا کیا

1859 -1908

مترجم ،شاعر،کلیات نظیر کے مرتب اور محقق

1846 -1927

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں

1935 -2020

شاعر، فکشن نگار اورایک نمایاں اردو تنقید نگار

1924 -1995

شاعر،ادیب ،صحافی،نغمہ نگار، غلام بیگم بادشاہ اور جھانسی کی رانی جیسی فلموں کے مکالمہ نگار

1927 -2010

اہم پاکستانی شاعراور مترجم، جنہوں نے عالمی ادب کے تراجم کے ساتھ ’گیتانجلی‘ کا اردو ترجمہ بھی کیا

1769 -1851

مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی کے استاد، میر تقی میر کے متاخرین شعرا کے ہم عصر

1877 -1938

عظیم اردو شاعر اور 'سارے جہاں سے اچھا...' و 'لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری' جیسے شہرہ آفاق ترانے کے خالق

1930 -2019

کلکتہ کے معروف شاعر۔ غزل، نظم اور رباعی جیسی اصناف میں طبع آزمائی کی، بچوں کے لیے لکھی نظموں کے کئی مجموعے شائع ہوئے، کئی ادبی رسالوں کے مدیر رہے

1948

سرگرم ادبی صحافی ہںہ اور اِس وقت طباعت و اشاعت کے پشےو سے وابستہ ہں ۔ شاعر، افسانہ نویس، تنقدحنگار اور مترجم کے علاوہ سفر نامہ نگار ہیں

1879 -1941

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، اپنی شاعری کے اداس رنگ کے لیے معروف

1896 -1982

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، جنہوں نے جدید شاعری کے لئے راہ ہموار کی۔ اپنے بصیرت افروز تنقیدی تبصروں کے لئے معروف۔ گیان پیٹھ انعام سے سرفراز

1919 -2001

مقبول ترین شاعروں میں شامل۔ ممتاز فلم نغمہ نگار۔ اپنی غزل ’گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں‘ کے لئے مشہور