aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dohe"
دبستان ادب، دوحہ
ناشر
مجلس فروغ اردو ادب، دوہا، قطر
ناتھن ہاسکل ڈول
مدیر
گھر کو کھوجیں رات دن گھر سے نکلے پاؤںوہ رستہ ہی کھو گیا جس رستے تھا گاؤں
بچہ بولا دیکھ کر مسجد عالی شاناللہ تیرے ایک کو اتنا بڑا مکان
نقشہ لے کر ہاتھ میں بچہ ہے حیرانکیسے دیمک کھا گئی اس کا ہندوستان
وہ صوفی کا قول ہو یا پنڈت کا گیانجتنی بیتے آپ پر اتنا ہی سچ مان
میں رویا پردیس میں بھیگا ماں کا پیاردکھ نے دکھ سے بات کی بن چٹھی بن تار
دوہا ہندی، اردو شاعری کی ممتاز اورمقبول صنف سخن ہے جو زمانہ قدیم سے تا حال اعتبار رکھتی ہے۔دوہا ہندی شاعری کی صنف ہے جو اب اردو میں بھی ایک شعری روایت کے طور پر مستحکم ہو چکی ہے۔ اس خوبصورت صنف کو پڑھنے کا سفر شروع کرنے میں آپ کی مدد کرنے کے لیے چند منتخب دوہے پیش خدمات ہیں۔
شاعری میں احساس کو مختلف سطحوں پربرتا گیا ہے ۔ تخلیقی زبان کی بڑی بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں لفظ اپنے لغوی معنی سے کہیں آگے نکل جاتا ہے اورمعنی ومفہوم کی ایک ایسی دنیا آباد کرتا ہے جسے صرف حواس کی سطح پردریافت کیا جاسکتا ہے ۔ یہ احساس خود تخلیق کاربھی ہے اوراس کے قاری کا بھی ۔ ان شعروں میں دیکھئے کہ ایک شاعر اپنی حسی قوت کی بنیاد پرزندگی کے کن نامعلوم گوشوں اور کفیتوں کو زبان دیتا ہے ۔ احساس کی شدت کسی بڑے فن پارے کی تخلیق میں کیا کردار ادا کرتی ہے اس کا اندازہ ہمارے اس انتخاب سے ہوتا ہے ۔
دوہا ہندی شاعری کی صنف ہے جو اب اردو میں بھی ایک شعری روایت کے طور پر مستحکم ہو چکی ہے۔ ہر دوہا دو ہم قافیہ مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر مصرعے میں 24 ماترائیں ہوتی ہیں۔ ہر مصرعے کے دوحصے ہوتے ہیں، جن میں سے ایک حصے میں 13 اور دوسرے میں 11 ماترائیں ہوتی ہیں اور ان کے درمیان ہلکا سا وقفہ ہوتا ہے۔
आगेآگے
سنسکرت
پیش، اگاڑی، پیچھے کا نقیض
ढेڈھے
گرنا، تراکیب میں مستعمل
आहेآہے
ہائے، آہ (عموماً عورتوں کی زبان پر جاری)
आधेآدھے
آدھا كی مغیرہ صورت، مركبات میں مستعمل
دوہے بابا فرید
شیخ فرید
شاعری
عبدالرحیم خان خانان اور ان کے دوہے
حسن عزیز
دوہا
دوہے
جمیل الدین عالی
ترجمہ
اردو شاعری میں دوہے کی روایت
سمیع اللہ اشرفی
انتخاب
اردو دوہے-ایک تنقیدی جائزہ
ظہیرؔ غازی پوری
شاعری تنقید
غزلیں دوہے گیت
دوھے عالمگیر
شاہد میر
سنت تلسی داس دوہاولی
تلسی داس
انس کے دوہے
انس خان
اردو دوہے کی پرمپرا اور عالی کے دوہے
فکر و فن کے پھول
امام قاسم ساقی
رتی کے دوہے
رتن سنگھ
لفظوں کے موتی
عبداللطیف شوق
ہر اک بات میں ڈالے ہے ہندو مسلم کی باتیہ نا جانے الھڑ گوری پریم ہے خود اک ذات
سیدھا سادھا ڈاکیہ جادو کرے مہانایک ہی تھیلے میں بھرے آنسو اور مسکان
مجھ جیسا اک آدمی میرا ہی ہم نامالٹا سیدھا وہ چلے مجھے کرے بد نام
چڑیا نے اڑ کر کہا میرا ہے آکاشبولا شکھرا ڈال سے یوں ہی ہوتا کاش
میں بھی تو بھی یاتری چلتی رکتی ریلاپنے اپنے گاؤں تک سب کا سب سے میل
نینوں میں تھا راستہ ہردے میں تھا گاؤںہوئی نہ پوری یاترا چھلنی ہو گئے پاؤں
کیوں راتوں کا جاگیے کر کے اس کو یادپتھر دل پر کب اثر کرتی ہے فریاد
سب کی پوجا ایک سی الگ الگ ہر ریتمسجد جائے مولوی کوئل گائے گیت
پھر باندھیں گے ابرووں کے دوہےپھر مدح رخ و دہن کہیں گے
بھاری بوجھ پہاڑ سا کچھ ہلکا ہو جائےجب میری چنتا بڑھے ماں سپنے میں آئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books