دوہا

دوہا ہندی شاعری کی صنف ہے جو اب اردو میں بھی ایک شعری روایت کے طور پر مستحکم ہو چکی ہے۔ ہر دوہا دو ہم قافیہ مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر مصرعے میں 24 ماترائیں ہوتی ہیں۔ ہر مصرعے کے دوحصے ہوتے ہیں، جن میں سے ایک حصے میں 13 اور دوسرے میں 11 ماترائیں ہوتی ہیں اور ان کے درمیان ہلکا سا وقفہ ہوتا ہے۔

آئے مٹھی بند لیے چل دیے ہاتھ پسار

وہ کیا تھا جو لٹ گیا دیکھو سوچ بچار

ڈاکٹر نریش
  • شیئر کیجیے

آج مجھی پر کھل گیا میرے دل کا راز

آئی ہے ہنستے سمے رونے کی آواز

بھگوان داس اعجاز
  • شیئر کیجیے

آس بندھاتی ہے سدا سکھ کی ہوگی بھور

اپنے ارادوں کو ابھی مت کرنا کمزور

جینت پرمار
  • شیئر کیجیے

آسمان پر چھا گئی گھٹا گھور گھنگور

جائیں تو جائیں کہاں ویرانے میں شور

بھگوان داس اعجاز
  • شیئر کیجیے

آگے پیچھے رکھ نظر ظاہر باطن بھانپ

غافل پا کر ڈس نہ لے آستین کا سانپ

ناوک حمزہ پوری
  • شیئر کیجیے

آنسو سے ندی بنے ندی سمندر جائے

پربت کا رونا مگر کوئی دیکھ نہ پائے

بدنام نظر
  • شیئر کیجیے

آنگن کے اک پیڑ کی ٹھنڈی میٹھی چھاؤں

شہر میں جیسے آ گیا چل کر میرا گاؤں

سلیم انصاری
  • شیئر کیجیے

آنگن ہے جل تھل بہت دیواروں پر گھاس

گھر کے اندر بھی ملا شاہدؔ کو بنواس

شاہد میر
  • شیئر کیجیے

آنکھ سے اوجھل ہو اور ٹوٹے پربت جیسی پریت

منہ دیکھے کی یاری پرتوؔ شیشہ کی سی پریت

پرتو روہیلہ
  • شیئر کیجیے

آنکھ کی پتلی سب کچھ دیکھے دیکھے نہ اپنی ذات

اجلا دھاگا میلا ہووے لگیں جو میلے ہات

کشور ناہید
  • شیئر کیجیے

آنکھوں کو یوں بھا گیا اس کا روپ انوپ

سردی میں اچھی لگے جیسے کچی دھوپ

فاروق انجینئر
  • شیئر کیجیے

آنکھیں دھوکا دے گئیں پاؤں چھوڑ گئے ساتھ

سبھی سہارے دور ہیں کس کا پکڑیں ہاتھ

شمس فرخ آبادی
  • شیئر کیجیے

اپنی خوشیاں بھول جا سب کا درد خرید

سیفیؔ تب جا کر کہیں تیری ہوگی عید

سیفی سرونجی
  • شیئر کیجیے

اچھا ہے کہ لگا نہیں انہیں پیار کا روگ

آتے آتے آئیں گے راہ پہ اگلے لوگ

اے۔ڈی۔راہی
  • شیئر کیجیے

اردو والے ہندی والے دونوں ہنسی اڑائیں

ہم دل والے اپنی بھاشا کس کس کو سکھلائیں

جمیل الدین عالی
  • شیئر کیجیے

اس جیسا تو دوسرا ملنا تھا دشوار

لیکن اس کی کھوج میں پھیل گیا سنسار

ندا فاضلی
  • شیئر کیجیے

اس دیوانی دوڑ میں بچ بچ جاتا تھا ہر بار

اک دوہا سو اسے بھی لے جا تو ہی خوش رہ یار

جمیل الدین عالی
  • شیئر کیجیے

اس سے بڑھ کر اور کیا رشتوں پر دشنام

بھائی آیا پوچھنے مجھ سے میرا نام

سلیم انصاری
  • شیئر کیجیے

اس کو برا کہہ دے مگر سن لے اتنی بات

اپنے اندر جھانک کر دیکھ اپنی اوقات

شکیل جے پوری
  • شیئر کیجیے

الفت کرنا دل لگی ترک محبت کھیل

جو سمجھے وہ عشق کے امتحان میں فیل

ناوک حمزہ پوری
  • شیئر کیجیے

امرت رس کی بین پر زہر کے نغمے گاؤ

مرہم سے مسکان کے زخموں کو اکساؤ

بیکل اتساہی
  • شیئر کیجیے

انساں سے انسان کو ٹھیک نہیں ہے بیر

بھائی چارہ گر بڑھے ہوگی سب کی خیر

شاد باگلکوٹی
  • شیئر کیجیے

اک چٹکی بھر چاندنی اک چٹکی بھر شام

برسوں سے سپنے یہی دیکھے یہاں عوام

دنیش شکل
  • شیئر کیجیے

اک گہرا سنسان سمندر جس کے لاکھ بہاؤ

تڑپ رہی ہے اس کی اک اک موج پہ جیون ناؤ

جمیل الدین عالی
  • شیئر کیجیے

اک کانٹے سے دوسرا میں نے لیا نکال

پھولوں کا اس دیس میں کیسا پڑا اکال

عقیل شاداب
  • شیئر کیجیے

ایک بدیسی نار کی موہنی صورت ہم کو بھائی

اور وہ پہلی نار تھی بھیا جو نکلی ہرجائی

جمیل الدین عالی
  • شیئر کیجیے

ایک بگولہ سانس کا ہوا جسے تیرائے

ہوا ہوا میں جا ملے بس ماٹی رہ جائے

شمس فرخ آبادی
  • شیئر کیجیے

بابو گیری کرتے ہو گئے عالؔی کو دو سال

مرجھایا وہ پھول سا چہرہ بھورے پڑ گئے بال

جمیل الدین عالی
  • شیئر کیجیے

بچھڑے ہوؤں کے آج پھر خط کچھ ایسے آئے

جیسے پٹری ریل کی دور پہ اک ہو جائے

شمس فرخ آبادی
  • شیئر کیجیے

بچہ بولا دیکھ کر مسجد عالی شان

اللہ تیرے ایک کو اتنا بڑا مکان

ندا فاضلی
  • شیئر کیجیے

برفیلی چٹان پر پیڑ کھڑا مسکائے

سارا موسم سرد ہے جسم آگ برسائے

اے۔ڈی۔راہی
  • شیئر کیجیے

برقع پوش پٹھانی جس کی لاج میں سو سو روپ

کھل کے نہ دیکھی پھر بھی دیکھی ہم نے چھاؤں میں دھوپ

جمیل الدین عالی
  • شیئر کیجیے

بھابی کل پھر آؤں گی اب تو جی گھبرائے

ان کی عادت ہے عجب تنہا نیند نہ آئے

وقار واثقی
  • شیئر کیجیے

بھاری بوجھ پہاڑ سا کچھ ہلکا ہو جائے

جب میری چنتا بڑھے ماں سپنے میں آئے

اختر نظمی
  • شیئر کیجیے

بھلے برے برتاؤ کا ہے اتنا سا راز

گونجے پلٹ کے جس طرح گنبد کی آواز

شمس فرخ آبادی
  • شیئر کیجیے

بھول گئے ہر واقعہ بس اتنا ہے یاد

مال و زر پر تھی کھڑی رشتوں کی بنیاد

فراغ روہوی
  • شیئر کیجیے

بھوکی بھیڑ ہے جسم میں بس سیپی بھر خون

چرواہے کو دودھ دے یا تاجر کو اون

ظفر گورکھپوری
  • شیئر کیجیے

بھیتر کیا کیا ہو رہا اے دل کچھ تو بول

ایک آنکھ روئے بہت ایک ہنسے جی کھول

بھگوان داس اعجاز
  • شیئر کیجیے

بیتے جس کی چھاؤں میں موسم کے دن رات

اپنے من کی آس کا ٹوٹ گیا وہ پات

نذیر فتح پوری
  • شیئر کیجیے

بیکلؔ جی کس فکر میں بیٹھے ہو من مار

کاغذ کی اک اوٹ ہے زنداں کی دیوار

بیکل اتساہی
  • شیئر کیجیے

بے دولت کے شہر میں کون ہے دولت مند

ساری خلقت اصل میں مٹی کا پیوند

ساغر جیدی
  • شیئر کیجیے

پائل کبھی نہ کھول دے ساجن دل کا راز

دور دور تک جائے گی گھنگھرو کی آواز

اے۔ڈی۔راہی
  • شیئر کیجیے

پتھر میں بھی آگ ہے چھیڑو تو جل جائے

جو اس آگ میں تپ گیا وہ ہیرا کہلائے

ابراہیم اشکؔ
  • شیئر کیجیے

پربت ہو تو پھینک دوں کسی طرح اے جان

کیا چھاتی پہ ہے دھرا خود میں ہی انجان

ظفر گورکھپوری
  • شیئر کیجیے

پریم کیا اور ساتھ نہ چھوٹا کیسے تھے وہ لوگ

ہم نے پیاروں کا اب تک دیکھا نہ سنجوگ

کشور ناہید
  • شیئر کیجیے

پہلے پہلے پیار کی ساجن پہلی ہے برسات

اوڑھ کے لیٹی یاد تری اور جاگ کے کاٹی رات

ذکیہ غزل
  • شیئر کیجیے

پہلے کبھی نہیں گزری تھی جو گزری اس شام

سب کچھ بھول چکے تھے لیکن یاد رہا اک نام

جمیل الدین عالی
  • شیئر کیجیے

پیار کرے اور سسکی بھرے پھر سسکی بھر کر پیار

کیا جانے کب اک اک کر کے بھاگ گئے سب یار

جمیل الدین عالی
  • شیئر کیجیے

پیاسی دھرتی دیکھ کے بادل اڑ اڑ جائے

یہ دنیا کی ریت ہے ترسے کو ترسائے

ابراہیم اشکؔ
  • شیئر کیجیے

پیسے کی بوچھار میں لوگ رہے ہمدرد

بیت گئی برسات جب موسم ہو گیا سرد

بیکل اتساہی
  • شیئر کیجیے

Added to your favorites

Removed from your favorites