دوہے


دوہا ہندی شاعری کی صنف ہے جو اب اردو میں بھی ایک شعری روایت کے طور پر مستحکم ہو چکی ہے۔ ہر دوہا دو ہم قافیہ مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر مصرعے میں 24 ماترائیں ہوتی ہیں۔ ہر مصرعے کے دوحصے ہوتے ہیں، جن میں سے ایک حصے میں 13 اور دوسرے میں 11 ماترائیں ہوتی ہیں اور ان کے درمیان ہلکا سا وقفہ ہوتا ہے۔


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

آئے مٹھی بند لیے چل دیے ہاتھ پسار


وہ کیا تھا جو لٹ گیا دیکھو سوچ بچار

آنگن ہے جل تھل بہت دیواروں پر گھاس


گھر کے اندر بھی ملا شاہدؔ کو بنواس

آنگن کے اک پیڑ کی ٹھنڈی میٹھی چھاؤں


شہر میں جیسے آ گیا چل کر میرا گاؤں

آنکھ کی پتلی سب کچھ دیکھے دیکھے نہ اپنی ذات


اجلا دھاگا میلا ہووے لگیں جو میلے ہات

آنکھ سے اوجھل ہو اور ٹوٹے پربت جیسی پریت


منہ دیکھے کی یاری پرتوؔ شیشہ کی سی پریت

آنکھیں دھوکا دے گئیں پاؤں چھوڑ گئے ساتھ


سبھی سہارے دور ہیں کس کا پکڑیں ہاتھ

آنکھوں کو یوں بھا گیا اس کا روپ انوپ


سردی میں اچھی لگے جیسے کچی دھوپ

آنسو سے ندی بنے ندی سمندر جائے


پربت کا رونا مگر کوئی دیکھ نہ پائے

عادت سے لاچار ہے عادت نئی عجیب


جس دن کھایا پیٹ بھر سویا نہیں غریب

آگے پیچھے رکھ نظر ظاہر باطن بھانپ


غافل پا کر ڈس نہ لے آستین کا سانپ

آج مجھی پر کھل گیا میرے دل کا راز


آئی ہے ہنستے سمے رونے کی آواز

عالؔی اب کے کٹھن پڑا دیوالی کا تیوہار


ہم تو گئے تھے چھیلا بن کر بھیا کہہ گئی نار

آس بندھاتی ہے سدا سکھ کی ہوگی بھور


اپنے ارادوں کو ابھی مت کرنا کمزور

آسمان پر چھا گئی گھٹا گھور گھنگور


جائیں تو جائیں کہاں ویرانے میں شور

اچھا ہے کہ لگا نہیں انہیں پیار کا روگ


آتے آتے آئیں گے راہ پہ اگلے لوگ

امرت رس کی بین پر زہر کے نغمے گاؤ


مرہم سے مسکان کے زخموں کو اکساؤ

اپنی خوشیاں بھول جا سب کا درد خرید


سیفیؔ تب جا کر کہیں تیری ہوگی عید

بابو گیری کرتے ہو گئے عالؔی کو دو سال


مرجھایا وہ پھول سا چہرہ بھورے پڑ گئے بال

بچہ بولا دیکھ کر مسجد عالی شان


اللہ تیرے ایک کو اتنا بڑا مکان

برفیلی چٹان پر پیڑ کھڑا مسکائے


سارا موسم سرد ہے جسم آگ برسائے

بے دولت کے شہر میں کون ہے دولت مند


ساری خلقت اصل میں مٹی کا پیوند

بیکلؔ جی کس فکر میں بیٹھے ہو من مار


کاغذ کی اک اوٹ ہے زنداں کی دیوار

بھابی کل پھر آؤں گی اب تو جی گھبرائے


ان کی عادت ہے عجب تنہا نیند نہ آئے

بھاری بوجھ پہاڑ سا کچھ ہلکا ہو جائے


جب میری چنتا بڑھے ماں سپنے میں آئے

بھلے برے برتاؤ کا ہے اتنا سا راز


گونجے پلٹ کے جس طرح گنبد کی آواز

بھیتر کیا کیا ہو رہا اے دل کچھ تو بول


ایک آنکھ روئے بہت ایک ہنسے جی کھول

بھوکی بھیڑ ہے جسم میں بس سیپی بھر خون


چرواہے کو دودھ دے یا تاجر کو اون

بھول گئے ہر واقعہ بس اتنا ہے یاد


مال و زر پر تھی کھڑی رشتوں کی بنیاد

بچھڑے ہوؤں کے آج پھر خط کچھ ایسے آئے


جیسے پٹری ریل کی دور پہ اک ہو جائے

بیتے جس کی چھاؤں میں موسم کے دن رات


اپنے من کی آس کا ٹوٹ گیا وہ پات

برقع پوش پٹھانی جس کی لاج میں سو سو روپ


کھل کے نہ دیکھی پھر بھی دیکھی ہم نے چھاؤں میں دھوپ

چادر میلی ہو گئی اب کیسے لوٹاؤں


اپنے پیا کے سامنے جاتے ہوئے شرماؤں

چاہت کی بھاشا نہیں شبدوں کو مت تول


خاموشی کا گیت سن چاند کی کھڑکی کھول

چونک اٹھے گی نیند سے آج ہر اک شاہراہ


ملازموں کی جیب میں بجتی ہے تنخواہ

چھیڑ چھاڑ کرتا رہا مجھ سے بہت نصیب


میں جیتا ترکیب سے ہارا وہی غریب

چڑیا نے اڑ کر کہا میرا ہے آکاش


بولا شکھرا ڈال سے یوں ہی ہوتا کاش

دامن صبح پر پھیل گئے رنگ برنگے پھول


ان کی رونق ہر جگہ گھر ہو یا اسکول

دفن کرے گا تو کہاں جلنا بھی معلوم


مانوتا کی لاش ہے سر پر لے کر گھوم

دم بھر میں ہوئے سوکھے پتے کانٹے اور ببول


ساجن جب تک آپ یہاں تھے کھلے رہے سب پھول

درد ہے دولت کی طرح غم ٹھہرا جاگیر


اپنی اس جاگیر میں خوش ہیں شاہدؔ میر

دریا دریا گھومے مانجھی پیٹ کی آگ بجھانے


پیٹ کی آگ میں جلنے والا کس کس کو پہچانے

دیکھ کے بستر آ گیا ہمیں نیند کا دھیان


غائب ہے تلوار کہیں بچی ہے خالی میان

دیکھو میرے دوست کو جیسے سندر پھول


وقت مصیبت یوں گیا جوں اڑ جائے دھول

دھرتی کو دھڑکن ملی ملا سمے کو گیان


میرے جب جب لب کھلے اٹھا کوئی طوفان

دھیرے دھیرے ہو گئی یہ اتنی بد رنگ


جیون کی پوشاک کا بھولے اصلی رنگ

دھیرے دھیرے کمر کی سختی کرسی نے لی چاٹ


چپکے چپکے من کی شکتی افسر نے دی کاٹ

دن گھڑی میں باندھتا نئے سال کے پھول


سکھ دکھ کی اک چاندنی مسکانوں کی دھول

دیا بجھا پھر جل جائے اور رت بھی پلٹا کھائے


پھر جو ہاتھ سے جائے سمے وہ کبھی نہ لوٹ کے آئے

دوہے کبت کہہ کہہ کر عالؔی من کی آگ بجھائے


من کی آگ بجھی نہ کسی سے اسے یہ کون بتائے

ڈوب چلا ہے زہر میں اس کی آنکھوں کا ہر روپ


دیواروں پر پھیل رہی ہے پھیکی پھیکی دھوپ

ڈوبنے والوں پر کسے دنیا نے آوازے


ساحل سے کرتی رہی طوفاں کے اندازے

ایک بگولہ سانس کا ہوا جسے تیرائے


ہوا ہوا میں جا ملے بس ماٹی رہ جائے

ایک بدیسی نار کی موہنی صورت ہم کو بھائی


اور وہ پہلی نار تھی بھیا جو نکلی ہرجائی

گاؤں کی گوری دوستو جب سے ہوئی جوان


نس دن بنیا ہونٹوں پر پھیر رہا ہے زبان

گھر بیٹھے ہو جائے گا ایشور سے بھی میل


بچہ بن کر دو گھڑی بچوں کے سنگ کھیل

گھر گھر جا کر جو سنے لوگوں کی فریاد


اس کو اپنے گھر میں ہی ملے نہ کوئی داد

گھر کو کھوجیں رات دن گھر سے نکلے پاؤں


وہ رستہ ہی کھو گیا جس رستے تھا گاؤں

گل دوپہری پھول لے جب تک پھیلی دھوپ


پوچھیں گے اب شام کو کہاں گیا وہ روپ

گزرے وقتوں کی طرح مجھے نہ جانا بھول


دل کی کتاب میں رکھا ہے میں نے بھی اک پھول

ہم جگ میں کیسے رہے ذرا دیجئے دھیان


رات گزاری جس طرح دشمن گھر مہمان

ہم کبیرؔ اس کال کے کھڑے ہیں خالی ہاتھ


سنگ کسی کے ہم نہیں اور ہم سب کے ساتھ

ہر اک بات میں ڈالے ہے ہندو مسلم کی بات


یہ نا جانے الھڑ گوری پریم ہے خود اک ذات

ہر اک کا دل موہ لیتی تھی اس کی اک مسکان


یہ مسکان تھی ساتھ اس کے چہرے کی پہچان

ہر اک شے بے میل تھی کیسے بنتی بات


آنکھوں سے سپنے بڑے نیند سے لمبی رات

ہر محفل میں جا مگر اتنی کر لے جانچ


خودداری پر بھول کر آئے کبھی نہ آنچ

ہرے بھرے کچھ دھیان تھے اور نہ تھا کچھ پاس


پاؤں تلے سے کھینچ لی کس نے ٹھنڈی گھاس

ہوگی اک دن گھر مرے پھولوں کی برسات


میں پگلا اس آس میں ہنستا ہوں دن رات

اک چٹکی بھر چاندنی اک چٹکی بھر شام


برسوں سے سپنے یہی دیکھے یہاں عوام

اک گہرا سنسان سمندر جس کے لاکھ بہاؤ


تڑپ رہی ہے اس کی اک اک موج پہ جیون ناؤ

اک کانٹے سے دوسرا میں نے لیا نکال


پھولوں کا اس دیس میں کیسا پڑا اکال

انساں سے انسان کو ٹھیک نہیں ہے بیر


بھائی چارہ گر بڑھے ہوگی سب کی خیر

اس دیوانی دوڑ میں بچ بچ جاتا تھا ہر بار


اک دوہا سو اسے بھی لے جا تو ہی خوش رہ یار

اس سے بڑھ کر اور کیا رشتوں پر دشنام


بھائی آیا پوچھنے مجھ سے میرا نام

جاڑے کی رت ہے نئی تن پر نیلی شال


تیرے ساتھ اچھی لگی سردی اب کے سال

جانے کتنے موسم بیتے تم نہ لوٹ کے آئے


من دکھیارا برہ کا مارا کب تک آس لگائے

جاتے جاتے یہ سمے یادیں کچھ دے جائے


پنجرے سے مینا اڑی پرچھائیں رہ جائے

جب تک اس سے دور تھی میرے تھے سو رنگ


اس کے رنگ میں رنگ گئی جب لاگی پی سنگ

جیسے شبد میں ارتھ ہے جیسے آنکھ میں نیر


ایسے تجھ میں بسا ہوا وہ محفل کا میر

جنت اور جہنم کا ریل کھیل دکھلائے


اک ڈبے میں آگ رہے دوجا برف جمائے

جیبیں خالی ہو گئیں چپ ہے اب انسان


بن پانی کے جس طرح مچھلی ہو بے جان

جیون بھر جس نے کئے اونچے پیڑ تلاش


بیری پر لٹکی ملی اس چڑیا کی لاش

جیون داتا نے کیا کیسا انوکھا کام


مٹی سے آغاز ہے مٹی میں انجام

جیون جینا کٹھن ہے وش پینا آسان


انساں بن کر دیکھ لو او شنکرؔ بھگوان

جو دیکھا سمجھا سنا غلط رہا میزان


اور نکٹ آ زندگی ہو تیری پہچان

جرم محبت کی ملی ہم کو یہ پاداش


اپنے کاندھے پر چلے لے کر اپنی لاش

کاغذ کو میں نے دیا شبدوں کا وردان


گیت غزل کے روپ میں مجھے ملا سمان

کاغذ پر لکھ دیجئے اپنے سارے بھید


دل میں رہے تو آنچ سے ہو جائیں گے چھید

کاٹ سکے تو کاٹ دے یادوں کی زنجیر


ورنہ بڑھتی جائے گی تیرے من کی پیر

کاوشؔ ایسا کیا ہوا بھڑک اٹھا یہ آج


صدیوں سے اس شہر کا ٹھنڈا رہا مزاج

کب تک جان بچائے پھول پہ اوس کا ننھا قطرہ


پتوں کی بھی اوٹ میں ہو تو سورج پل پل خطرہ