دوہے

دوہا ہندی شاعری کی صنف ہے جو اب اردو میں بھی ایک شعری روایت کے طور پر مستحکم ہو چکی ہے۔ ہر دوہا دو ہم قافیہ مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر مصرعے میں 24 ماترائیں ہوتی ہیں۔ ہر مصرعے کے دوحصے ہوتے ہیں، جن میں سے ایک حصے میں 13 اور دوسرے میں 11 ماترائیں ہوتی ہیں اور ان کے درمیان ہلکا سا وقفہ ہوتا ہے۔

1951

فلم ’کہو نہ پیار ہے‘ کے نغموں کے لیے مشہور

معروف شاعر اور ناقد

1932 -2020

مشہور شاعر،اپنے دوہوں کے لیے جانے جاتے ہیں

1927

سیماب اکبر آبادی کے شاگرد، نظموں اور غزلوں پر مشتمل کئی شعری مجموعے شائع ہوئے

1930 -2016

ممتاز مقبول شاعر جنہیں ’اتساہی‘ کا تخلص جواہر لال نہرو نے دیا تھا۔ اردو شاعری کو ہندی سے قریب لانے کے لئے معروف

1932 -2016

شاعر،محقق اور مترجم/غالب کے فارسی مکتوبات کے اردو ترجمے اور اپنے ''دوہے'' کے لیے مشہور

1925 -2015

اپنے دوہوں کے لیے مشہور

1955

ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ، اردو میں دلت تجربے کو اظہار دینے والے پہلے شاعر

1949

ہندوستانی موسیقی کے ماہر اور گلوکار

1936 -2012

ممتاز جدید شاعروں میں شامل، نغمہ نگار، فلم ’امراؤ جان‘ کے گیتوں کے لیے مشہور۔ بھارتیہ گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ۔

1947

ممتاز ما بعد جدید شاعر، ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ

1935 -2017

ممتاز ترقی پسند شاعر

1962

شاعر اور مصنف، بچوں کے ادب پر اپنے تنقیدی و تحقیقی کام کے لیے جانے جاتے ہیں

1919 -2001

مقبول ترین شاعروں میں شامل۔ ممتاز فلم نغمہ نگار۔ اپنی غزل ’گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں‘ کے لئے مشہور

1938 -2010

ممتازجدید شاعر/ رسالہ ’تحریک‘ سے وابستگی

1923 -2006

پاکستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل۔ فلموں کے لئے گیت بھی لکھے

1938 -2016

ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل، مقبول عام شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار اور نثر نگار، اپنی غزل ’کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا۔۔۔۔‘ کے لئے مشہور

1940

پاکستانی شاعرہ ، اپنے تانیثی خیالات اور مذہبی کٹرپن کی مخالفت کے لئے مشہور