Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Aslam Haneef's Photo'

اسلم حنیف

1956 - 2024 | گُنّور, انڈیا

ہندوستانی شاعر، مروجہ شعری اصناف میں نئے ہیئتی تجربے کیے

ہندوستانی شاعر، مروجہ شعری اصناف میں نئے ہیئتی تجربے کیے

اسلم حنیف کے دوہے

پھیلا ہوا ہے ہر طرف ایک عجب ہیجان

شہر میں آ کر مٹ گئی میری بھی پہچان

دنیا کو ہم سیکھ دیں بدلیں نہ اپنے ڈھنگ

یہ بھی اک کھلواڑ ہے سچائی کے سنگ

ہر پل اک آزار ہے ہر پگ اک آزار

سچائی کی راہ پر چلنا ہے دشوار

جب بھی آئے رقص میں تیری اک مسکان

دل کے روگی کے لئے بخشے جیون دان

برے جو تیرے دوست ہیں برا نہ ان کو جان

ہوتی نہیں بدبو بنا خوشبو کی پہچان

تو میرے احساس کا جب بھی بنا آدھار

سورج میری اوٹ سے نکلا سو سو بار

جب بھی آؤں چوری چھپے اس کے گھر کی اور

دنیا دیکھے باگ سی من میں ناچے مور

گوری لوٹی باغ سے گاتی ہوئی ملہار

کرنوں کو جب چگ گئی چڑیوں کی چہکار

میں تیری جانب چلا بادل میری اور

سورج سر پر آ گیا ہوئی نہ پھر بھی بھور

Recitation

بولیے