ADVERTISEMENT

اشعار پراحساس

شاعری میں احساس کو مختلف

سطحوں پربرتا گیا ہے ۔ تخلیقی زبان کی بڑی بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں لفظ اپنے لغوی معنی سے کہیں آگے نکل جاتا ہے اورمعنی ومفہوم کی ایک ایسی دنیا آباد کرتا ہے جسے صرف حواس کی سطح پردریافت کیا جاسکتا ہے ۔ یہ احساس خود تخلیق کاربھی ہے اوراس کے قاری کا بھی ۔ ان شعروں میں دیکھئے کہ ایک شاعر اپنی حسی قوت کی بنیاد پرزندگی کے کن نامعلوم گوشوں اور کفیتوں کو زبان دیتا ہے ۔ احساس کی شدت کسی بڑے فن پارے کی تخلیق میں کیا کردار ادا کرتی ہے اس کا اندازہ ہمارے اس انتخاب سے ہوتا ہے ۔

اپنی حالت کا خود احساس نہیں ہے مجھ کو

میں نے اوروں سے سنا ہے کہ پریشان ہوں میں

آسی الدنی

خدا ایسے احساس کا نام ہے

رہے سامنے اور دکھائی نہ دے

بشیر بدر

تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا

خوش ہوں کہ کچھ نہ کچھ تو مرے پاس رہ گیا

عبد الحمید عدم

میں اس کے سامنے سے گزرتا ہوں اس لیے

ترک تعلقات کا احساس مر نہ جائے

فنا نظامی کانپوری
ADVERTISEMENT

آگہی کرب وفا صبر تمنا احساس

میرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ خنجر سارے

بشیر فاروقی

تنہائی کے لمحات کا احساس ہوا ہے

جب تاروں بھری رات کا احساس ہوا ہے

نسیم شاہجہانپوری

موت کی پہلی علامت صاحب

یہی احساس کا مر جانا ہے

ادریس بابر

مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے

کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے

خواجہ میر درد
ADVERTISEMENT

ریزہ ریزہ کر دیا جس نے مرے احساس کو

کس قدر حیران ہے وہ مجھ کو یکجا دیکھ کر

خوشبیر سنگھ شادؔ

مرے اندر کئی احساس پتھر ہو رہے ہیں

یہ شیرازہ بکھرنا اب ضروری ہو گیا ہے

خوشبیر سنگھ شادؔ

مجھ کو احساس رنگ و بو نہ ہوا

یوں بھی اکثر بہار آئی ہے

حبیب احمد صدیقی

ہمیں کم بخت احساس خودی اس در پہ لے بیٹھا

ہم اٹھ جاتے تو وہ پردہ بھی اٹھ جاتا جو حائل تھا

ناطق گلاوٹھی
ADVERTISEMENT

دشمن دل ہی نہیں دشمن جاں ہوتا ہے

اف وہ احساس جو پیری میں جواں ہوتا ہے

بشیر درانی

کیسی بپتا پال رکھی ہے قربت کی اور دوری کی

خوشبو مار رہی ہے مجھ کو اپنی ہی کستوری کی

نعیم سرمد

غم سے احساس کا آئینہ جلا پاتا ہے

اور غم سیکھے ہے آ کر یہ سلیقہ مجھ سے

جاوید وششٹ

ہر طرف اپنے ہی اپنے ہائے تنہائی نہ پوچھ

کس قدر کھلتی ہے اکثر ہم کو بینائی نہ پوچھ

عدیل زیدی
ADVERTISEMENT