aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khod"
محمود انور کھوت
مصنف
سید خوند میر متین
شیریں زادہ خدوخیل
کھوج، لاہور
ناشر
فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہےسب مایا ہے
رنگ اکھڑ جائے تو ظاہر ہو پلستر کی نمیقہقہہ کھود کے دیکھو تو تمہیں آہ ملے
میں پربتوں سے لڑتا رہا اور چند لوگگیلی زمین کھود کے فرہاد ہو گئے
تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھوحذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
موا کوہ کن بے ستوں کھود کریہ راحت ہوئی ایسی محنت کے بعد
یوں تو بظاہر اپنے آپ کو تکلیف پہنچانا اور اذیت میں مبتلا کرنا ایک نہ سمجھ میں آنے والا غیر فطری عمل ہے ، لیکن ایسا ہوتا ہے اور ایسے لمحے آتے ہیں جب خود اذیتی ہی سکون کا باعث بنتی ہے ۔ لیکن ایسا کیوں ؟ اس سوال کا جواب آپ کو شاعری میں ہی مل سکتا ہے ۔ خود اذیتی کو موضوع بنانے والے اشعار کا ایک انتخاب ہم پیش کر رہے ہیں ۔
ناموراردو فکشن رائیٹر- شاہکار افسانوں کے خالق، جن میں 'ٹھنڈا گوشت' ، 'کھول دو' ، ٹوبہ ٹیک سنگھ'، 'بو' وغیرہ قابل ذکر ہیں
ख़ुदخود
فارسی
آپ، اپنے آپ، بذات خاص، بنفس نفیس
खौکَھو
کہو
छोड़چھوڑ
ناقابل ذکر، رہائی، خلاصی، آزادی ؛ چھوڑنا، آزاد کرنا، بچانا ؛ بچت، ترک، اعراض، احتراز، تیاگ، غلطی، چھوٹ.
खोडکھوڈ
سنسکرت
अपाहिज, विकलांग, छिन्नांग, अपंग, लँगड़ा लूला
اپنا گریباں چاک
جاوید اقبال
خود نوشت
اردو میں خودنوشت سوانح حیات
صبیحہ انور
آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی
ابوالکلام آزاد
سوانح حیات
زر گزشت
مشتاق احمد یوسفی
پری خانہ
واجد علی شاہ اختر
خودنوشت
آئینہ خود شناسی
منشی نجم الدین قادری
فلسفہ تصوف
انشائیہ کے خد و خال
وزیر آغا
تنقید
مارکسی فکرو فلسفہ کے خدو خال
فریڈرک اینگلز
فلسفہ
اردو میں خواتین کی خود نوشت سوانح عمریاں
شبانہ سلیم
اردو خود نوشت سوانح حیات: آزادی کے بعد
محمد نوشاد عالم
آئینہ در آئینہ
حمایت علی شاعر
مثنوی
جو رہی سو بے خبری رہی
ادا جعفری
خود نوشت افکار سرسید
ضیاء الدین لاہوری
افسانے خود منتخب کردہ چالیس بہترین افسانے
احمد ندیم قاسمی
قصہ / داستان
اور کئی سال کے بعدمیرے مالی نے اسے کھود نکالا ہے زمیں سے
قبر اپنی کھود کر خود لیٹ جاؤ ایک دنوقت کس کے پاس ہے مٹی اٹھانے کے لئے
عشق تم سے ہو گیا تو قبر اپنی کھود لیاور ہم کرتے بھی کیا فرہاد ہو جانے کے بعد
صبح سے کھود رہا ہوں گھر کوخواب دیکھا ہے خزانے والا
یہ اب جو کھود رہے ہیں زمین میرے لیےمیں جی اٹھوں تو کہیں بھی جگہ نہیں دیں گے
گھر کھود دیا سارا خزانے کی ہوس میںنیو آ گئی تہہ خانے کا در ہی نہیں آیا
تجھ پہ لیکن ہے عنایت کی نظرپھینک دیتے ہیں مجھے جڑ کھود کر
چاہتے ہیں جو مظفرؔ غم ہستی سے فراربیٹھ جائیں وہ گڑھا کھود کے سادھو کی طرح
مرے عزیز تھے وہ قبر کھود کے رکھ دیمجھے جو دے گئے مٹی وہ سب پرائے تھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books