aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qasiide"
دشت وحشت خیز میں عریاں ہے آغاؔ آپ ہیقاصد جاناں کو کیا دیتا جو خلعت مانگتا
پکارا قاصد اشک آج فوج غم کے ہاتھوں سےہوا تاراج پہلے شہر جاں دل کا نگر پیچھے
ایسوں ویسوں کے قصیدے نہیں لکھے جاتےشعر لکھ لیتا ہوں سہرے نہیں لکھے جاتے
عمر بھر جس کے لئے آنکھیں رہی ہیں فرش راہوہ اجل کا قاصد فرخندہ گام آ ہی گیا
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیئے جاناںدو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
نازکی اس کے لب کی کیا کہئےپنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیںدو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد
آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تککون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیںدوستوں کی مہربانی چاہئے
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔآدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیئے
میرے سینے میں نہیں تو تیرے سینے میں سہیہو کہیں بھی آگ لیکن آگ جلنی چاہئے
ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیںاک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے
ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیںکہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
مری اپنی اور اس کی آرزو میں فرق یہ تھامجھے بس وہ اسے سارا زمانہ چاہئے تھا
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیںموت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئےیہ تماشا اب سر بازار ہونا چاہئے
بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہئےمیں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہئے
مجھے تو قید محبت عزیز تھی لیکنکسی نے مجھ کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا
اب وہی کرنے لگے دیدار سے آگے کی باتجو کبھی کہتے تھے بس دیدار ہونا چاہئے
ساقی مجھے شراب کی تہمت نہیں پسندمجھ کو تری نگاہ کا الزام چاہیئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books