aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tib"
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیےکہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے
وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کرعادت اس کی بھی آدمی سی ہے
دشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیںدیکھنا ہے کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھےتب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے
عشق کا ذوق نظارہ مفت میں بدنام ہےحسن خود بے تاب ہے جلوہ دکھانے کے لیے
ہار ہو جاتی ہے جب مان لیا جاتا ہےجیت تب ہوتی ہے جب ٹھان لیا جاتا ہے
تب ہم دونوں وقت چرا کر لاتے تھےاب ملتے ہیں جب بھی فرصت ہوتی ہے
تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کرسرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہجسے کہتا ہے زمانہ بت بے مہر و دغا باز جفا پیشہ فسوں ساز ستم خانہ بر اندازغضب جس کا ہر اک ناز نظر فتنہ مژہ تیر بلا زلف گرہ گیر غم و رنج کا بانی قلق و دردکا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہجانے جو کرے قول نہ پورا کرے ہر کام ادھورا یہی دن رات تصور ہے کہ ناحقاسے چاہا جو نہ آئے نہ بلائے نہ کبھی پاس بٹھائے نہ رخ صاف دکھائے نہ کوئیبات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہچاہو گے تو کیا ہے نہ نباہو گے تو کیا ہے بہت اتراؤ نہ دل دے کے یہ کس کام کا دلہے غم و اندوہ کا مارا ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر ابھی منہدیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگزگلا تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کویہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوںتب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
اک پرندہ ابھی اڑان میں ہےتیر ہر شخص کی کمان میں ہے
نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیںوہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں
جب تم سے محبت کی ہم نے تب جا کے کہیں یہ راز کھلامرنے کا سلیقہ آتے ہی جینے کا شعور آ جاتا ہے
دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرفاپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
ساقیا تشنگی کی تاب نہیںزہر دے دے اگر شراب نہیں
عشق میں جی کو صبر و تاب کہاںاس سے آنکھیں لڑیں تو خواب کہاں
اب میں سمجھا ترے رخسار پہ تل کا مطلبدولت حسن پہ دربان بٹھا رکھا ہے
ہم انتظار کریں ہم کو اتنی تاب نہیںپلا دو تم ہمیں پانی اگر شراب نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books