aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",ONK"
طبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہے
اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچاپنی خوشبو میں سلگتی ہوئی مدھم مدھم
راہداری میں ہرے لان میں پھولوں کے قریباس نے ہر سمت مجھے آن کے ڈھونڈا ہوگا
اور ان کے آگے ہےدشمنوں کی وہ فوج
اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانااک نار پہ جان کو ہار گیا مشہور ہے اس کا افسانا
لوگ عورت کی ہر اک چیخ کو نغمہ سمجھےوہ قبیلوں کا زمانہ ہو کہ شہروں کا رواج
پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہےاور مری آنکھ میں آنسو بھی نہیں ہوتے تھے
مری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزار
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیںتم آ رہی ہو زمانے کی آنکھ سے بچ کر
یہ چاند بیتے زمانوں کا آئنہ ہوگابھٹکتے ابر میں چہرہ کوئی بنا ہوگا
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیںجب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
رات کی سرد خموشی میں ہر اک جھونکے سےتیرے انفاس ترے جسم کی آنچ آتی ہے
مجھ سے الگ اس ایک برس میںکیا کیا بیتی تم پہ نہ جانے
یہ رنگیں ریزے ہیں شایدان شوخ بلوریں سپنوں کے
آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابتمیں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات
ہجر کے سمندر میںتخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے
صبح صبح اک خواب کی دستک پر دروازہ کھولا' دیکھاسرحد کے اس پار سے کچھ مہمان آئے ہیں
تیری آنکھ کے آنسو میرےتیرے لبوں پہ ناچنے والی یہ معصوم ہنسی بھی میری
نہ کسی آنکھ کی آہٹ، نہ کسی چہرے کا شوردور تک کوئی نہیں، کوئی نہیں، کوئی نہیں
کی آنچ میں تو یہی شرر ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books