aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".elat"
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
اے انفس و آفاق میں پیدا تری آیاتحق یہ ہے کہ ہے زندہ و پایندہ تری ذاتمیں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہےہر دم متغیر تھے خرد کے نظریاتمحرم نہیں فطرت کے سرود ازلی سےبینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتاتآج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا ثابتمیں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافاتہم بند شب و روز میں جکڑے ہوئے بندےتو خالق اعصار و نگارندۂ آناتاک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوںحل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالاتجب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے نیچےکانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ باتگفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں رہتاجب روح کے اندر متلاطم ہوں خیالاتوہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبودوہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر سماواتمشرق کے خداوند سفیدان فرنگیمغرب کے خداوند درخشندہ فلزاتیورپ میں بہت روشنئ علم و ہنر ہےحق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلماترعنائی تعمیر میں رونق میں صفا میںگرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عماراتظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہےسود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجاتیہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومتپیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساواتبیکاری و عریانی و مے خواری و افلاسکیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحاتوہ قوم کہ فیضان سماوی سے ہو محرومحد اس کے کمالات کی ہے برق و بخاراتہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومتاحساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلاتآثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخرتدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا ماتمے خانہ کی بنیاد میں آیا ہے تزلزلبیٹھے ہیں اسی فکر میں پیران خراباتچہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سر شامیا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کراماتتو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میںہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقاتکب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہدنیا ہے تری منتظر روز مکافات
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگاسکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہوگاگزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والےبنے گا سارا جہان مے خانہ ہر کوئی بادہ خوار ہوگاکبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گےبرہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہوگاسنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخرجو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگانکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھاسنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگاکیا مرا تذکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میںتو پیر مے خانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے خوار ہوگادیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہےکھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگاتمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گیجو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگاسفینۂ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کاہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہوگاچمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کویہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہوگاجو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایایہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہوگاکہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیںتو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگاخدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارےمیں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگایہ رسم بزم فنا ہے اے دل گناہ ہے جنبش نظر بھیرہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہوگامیں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے در ماندہ کارواں کوشرر فشاں ہوگی آہ میری نفس مرا شعلہ بار ہوگانہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدعا تیری زندگی کاتو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہوگانہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کیکہیں سر راہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا
اے عشق ازل گیر و ابد تابکچھ خواب کہ مدفون ہیں اجداد کے خود ساختہ اسمار کے نیچےاجڑے ہوئے مذہب کے بنا ریختہ اوہام کی دیوار کے نیچےشیراز کے مجذوب تنک جام کے افکار کے نیچےتہذیب نگوں سار کے آلام کے انبار کے نیچے
دفعتاً گونجی صدا پھر عالم انوار میںعورتیں دنیا کی حاضر ہوں مرے دربار میں
راتوں کو سونے سے پہلےنئی پرانی یادوں کوالٹ پلٹ کرتے رہناورنہ کالی پڑ جائیں گیادھر ادھر سے سڑ جائیں گی
ڈھیروں پتھرائے ہوئے وقت کے صفحوں کو الٹ کر دیکھاایک بھولی ہوئی تہذیب کے پرزے سے بچھے تھے ہر سومنجمد لاوے میں اکڑے ہوئے انسانوں کے گچھے تھے وہاںآگ اور لاوے سے گھبرا کے جو لپٹے ہوں گے
نہ پھر وہ میں تھانہ پھر وہ تم تھےنہ جانے کتنی مسافتیں درمیاں کھڑی تھیںاس ایک لمحے کے آئینے پرنہ جانے کتنے برس پریشان دھول کی طرح سے جمے تھےجنہیں رفاقت سمجھ کے ہم دونوں مطمئن تھےاس ایک لمحے کے آئینے میںجب اپنے اپنے نقاب الٹ کرخود اپنے چہروں کو ہم نے دیکھاتو ایک لمحہوہ ایک لمحے کا آئینہ کتنی صدیوں کتنے ہزار میلوں کی شکل میںدرمیاں کھڑا تھانہ پھر وہ میں تھا نہ پھر وہ تم تھےبس ایک ویراں خموش صحرا بس ایک ویراں خموش صحرا
گھونگھٹ الٹ رہی ہے چمن کی کلی کلیشاخیں تو ٹیڑھی میڑھی ہیں صورت بھلی بھلیرنگینیاں ہیں باغ میں خوشبو گلی گلیشبنم سے ہے کلی کی پیالی بھری بھریآ تو بھی آ کہ آ گئی چھبیس جنوری
جلووں سے عیاں جن کے ہوا طور کا عالمتربت پہ ہے ان کے شب دیجور کا عالم
انساں الٹ رہا ہے رخ زیست سے نقابمذہب کے اہتمام فسوں پروری کی خیر
پورب دیس میں ڈگی باجی پھیلا سکھ کا حالدکھ کی آگنی کون بجھائے سوکھ گئے سب تالجن ہاتھوں میں موتی رو لے آج وہی کنگالآج وہی کنگالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگالپیٹھ سے اپنے پیٹ لگائے لاکھوں الٹے کھاٹبھیک منگائی سے تھک تھک کر اترے موت کے گھاٹجین مرن کے ڈانڈے ملائے بیٹھے ہیں چنڈال رے ساتھیبیٹھے ہیں چنڈالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگالندی نالے گلی ڈگر پر لاشوں کے انبارجان کی ایسی مہنگی شے کا الٹ گیا بیوپارمٹھی بھر چاول سے بڑھ کر سستا ہے یہ مال رے ساتھیسستا ہے یہ مالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگالکوٹھریوں میں گانجے بیٹھے بینے سارا اناجسندر ناری بھوک کی ماری بیچے گھر گھر لاجچوپٹ نگری کون سنبھالے چار طرف بھونچالچار طرف بھونچالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگالپرکھوں نے گھر بار لٹایا چھوڑ کے سب کا ساتھمائیں روئیں بلک بلک کر بچے بھئے اناتھسدا سہاگن بدھوا باجے کھولے سر کے بال رے ساتھیکھولے سر کے بالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگالاتی پتی چبا چبا کر جوجھ رہا ہے دیسموت نے کتنے گھونگھٹ مارے بدلے سو سو بھیسکال بکٹ پھیلائے رہا ہے بیماری کا جال رے ساتھیبیماری کا جالبھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگال
سکندر نے پورس سے کی تھی لڑائی جو کی تھی لڑائی تو میں کیا کروںجو کورو نے پانڈو سے کی ہاتھا پائی جو کی ہاتھا پائی تو میں کیا کروںجو پی یو ٹی پٹ ہے تو بی یو ٹی بٹ ہے زمانے کا دستور کتنا الٹ ہےپڑھاتے ہیں سب مجھ کو الٹی پڑھائی ہے الٹی پڑھائی تو میں کیا کروںہے جاہل گھسیٹا مگر کھائے حلوہ یہ ہر روز لوٹے مٹھائی کا جلوہیہ دودھ میں پانی ملاتا ہے بھائی نہ آئے ملائی تو میں کیا کروںیہ بی اے ہے لیکن چلائے یہ ٹھیلا یہ ایم اے ہے لیکن یہ بیچے کریلااگر تین دن سے یہ بھوکا ہے بھائی جو بھوکا ہے بھائی تو میں کیا کروںیہ سورج جو شام و سحر گھومتا ہے اسے گھومنے دو اگر گھومتا ہےزمیں گول اگر ہے تو ہونے دو بھائی جو چپٹی ہے بھائی تو میں کیا کروں
عینک کے شیشے پر سرکتی چیونٹیآگے کے پاؤں اوپر ہوا میں اٹھا کرپچھلے پاؤں پر کھڑیہنہناتی ہے گھوڑے کی طرحعینک کے نیچے دبے اخبار میںدو ہوائی جہاز ٹکرا جاتے ہیںمسافروں سے لدی اک کشتی الٹ جاتی ہےایک بس کھائی میں گر پڑتی ہےپانچ بوڑھے فقیر سردی سے مر جاتے ہیںکوئلہ کان میں پانی بھر جاتا ہےریڈیو پکارتا ہے پچیس پیسے میں تینعینک کا شیشہ صاف کرتی چیونٹیآہستہ سے آگے بڑھ جاتی ہے
رات کی کالی بارش نےچہروں کی وردیکیچڑ سے بھر دی ہےمیرے سینے کے پنجرے میںخون کا گردش کرنے والا لٹونفرت کے پودوں کے اوپرگھوم رہا ہےتم نے ایسے کانٹےمیری شریانوں میں بوئے ہیںایسی دوپہروں کی زردیمیرے گالوں پہ لیپی ہےکہ میں بستر کی شکنوں میںاپنی آنکھیں بو کر روتا ہوںپہلی بار جب غم کی پتلی قاش کوچہرے سے نوچا تھاجب غربت کے اوراقہوا میں اڑتے تھےجب خالی معدے کی تصویر بنا کراس میں چیزیں رکھتا تھاپھٹے ہوئے کپڑوں میں جبتصویر چھپا کر رکھتا تھامیری شہوتکنوار پنے کی دہلیزوں پراپنا خطبہ لکھتی تھیبیس برس ان گلیوں کی دیواروں سےٹکرا ٹکرا کرمیرے کندھے ریت کے پشتے بن کرڈھیتے جاتے ہیںمیں جو تیری رانوں کے جنگل میںکالے پھول کو توڑنے نکلا تھااب دیکھ رہا ہوںدل کی کوری مٹی میںتیرے جسم کی پتلی شاخیں اگی ہوئی تھیںاور اک آوارہ سناٹاچھتوں پر بھاری قدموں سےبڑی آہستگی کے ساتھ چلتا ہےتو وہ چپکے سے میرے پاس آتی ہےاور اپنے دھیمے لہجے میںوہ ساری داستانیں کہہ سناتی ہےجنہیں سن کر میں دھیمی آنچ پرپہروں سلگتا ہوںکسی گرجے کے ویراں لان میںجب جنوریاپنے سنہری گیسوؤں کو کھول کرکوئی پرانا گیت گاتی ہےتو وہ اک ان چھوئی نن کی طرحپتھر کے بینچوں پرمرے کاندھے پر سر رکھےمرے چہرے پہ اپنی انگلیوں میںکبھی جب شام روتی ہےسیہ کافی کے پیالوں سےلپکتی بھاپ میںپھر آندھی کی آمد سے ایسی گرد ہوئیایسا حبس مری سانسوں میں پھیلاتیرے جسم کی کشتی میںمیں اپنے کپڑے بھول آیاپر تم نے آدھی رات کو ایسی چٹکی لینیند کی ڈھولکگھٹنوں کی ضربوں سے چکناچور ہوئیاب منہ سے شیرہ بہتا ہےان زخموں کاجن کے ٹانکے اندر ہی اندر ٹوٹے ہیںبجلی کی تاروں کے اوپرکوے قطار میں بیٹھے ہیںبارش کے پانی میں جن کےعسکری بازو ہلتے ہیںرانوں کی یہ نیلی وریدیںجن میں دعا کا نقشی کوزہالٹ گیا ہےمیں نے ان گلیوں میںاپنے مرنے کی افواہ سنی ہےخوش الحان موذن کیآواز سے چڑیاں اڑتی ہیںاے رستوں کی رادھاتیرے وصل کی خاطرجسم کے نجی حصے دھو کرلوٹ کے پھر میں آیا ہوں
خاموشی میرا لشکر ہےلفظوں کی دلدلاور اس میں پلنے والی جونکیںیہ متعفن آوازیںمیری یلغار کے آگے ثابت قدم رہیں گی؟کیا تم واقعی ایسا سمجھتے ہوکہ تمہارے میدان اتنے فراخ ہیںکہ میرے اسپ اصیل کو تھکا دیں گےتمہارے سمندر اتنے مواج ہیںکہ میرا رزق الٹ دیں گےاور تمہارے پہاڑ اتنے سنگلاخ ہیںکہ میرا جھنڈا نہ تھامیں گے
لرز رہا تھا وطن جس خیال کے ڈر سےوہ آج خون رلاتا ہے دیدۂ تر سےصدا یہ آتی ہے پھل پھول اور پتھر سےزمیں پہ تاج گرا قوم ہند کے سر سےحبیب قوم کا دنیا سے یوں روانہ ہوازمیں الٹ گئی کیا منقلب زمانہ ہوا
بولی خود سر ہوا ایک ذرہ ہے تویوں اڑا دوں گی میں، موج دریا بڑھیبولی میرے لیے ایک تنکا ہے تویوں بہا دوں گی میں، آتش تند کیاک لپٹ نے کہا میں جلا ڈالوں گیاور زمیں نے کہا میں نگل جاؤں گیمیں نے چہرے سے اپنے الٹ دی نقاباور ہنس کر کہا، میں سلیمان ہوںابن آدم ہوں میں یعنی انسان ہوں
وہ اک مسافر تھا جا چکا ہےبتا گیا تھا کہ بے یقینوں کی بستیوں میں کبھی نہ رہناکبھی نہ رہنا کہ ان پہ اتنے عذاب اتریں گے جن کی گنتی عدد سے باہروہ اپنے مردے تمہارے کاندھوں پہ رکھ کے تم کو جدا کریں گےتم ان جنازوں کو قریہ قریہ لیے پھروگےفلک بھی جن سے نا آشنا ہے جنہیں زمینیں بھی رد کریں گیوہ کہہ گیا تھا ہمیشہ ذلت سے دور رہناکہ بد نصیبوں کا رزق اول انہیں زمینوں سے پیدا ہوتا ہےجن زمینوں پہ بھوری گدھوں کی نوچی ہڈی کے ریزے بکھریںتم اپنی رائے کو استقامت کی آب دیناجسے پہاڑوں کی خشک سنگیں بلندیوں سے خراج بھیجیںغلام ذہنوں پہ ایسی لعنت کی رسم رکھناجو تیری نسلوں پھر ان کی نسلوں پھر ان کی نسلوں تلک بھی جائےتمہیں خبر ہو شریف لوگوں کی اونچی گردن لچک سے ایسے ہی بے خبر ہےسواد غربت میں خیمہ گاہوں کی جیسے گاڑی ہوں خشک چوبیںکبھی نہ شانے جھکا کے چلناکہ پست قامت تمہارے قدموں سے اپنے قدموں کو جوڑ دیں گےوہی نحوست تمہیں خرابوں کی پاسبانی عطا کرے گیسراب آنکھوں کے راستوں سے تمہارے گردوں میں ریت پھینکیں گے اور سینے کو کاٹ دیں گےوہ کہہ گیا تھا یہی وہ علت کے مارے وحشی ہیں جن کی اپنی زباں نہیں ہےیہ جھاگ اڑاتے ہیں اپنے جبڑوں سے لجلجے کا تو گڑگڑاہٹ کا شور اٹھتا ہےاور بدبو بکھیرتا ہےیہی وہ بد بخت بے ہنر اور بے یقیں ہیں کہ جن کی دیت نہ خوں بہا ہےسو ان کی قربت سے دور رہنا نجات دل کا سبب بنے گاوہ اک مسافر تھا کہہ گیا ہے
حریم محمل میں آ گیا ہوں سلام لے لوسلام لے لو کہ میں تمہارا امین قاصد خجل مسافر عزا کی وادی سے لوٹ آیامیں لوٹ آیا مگر سراسیمہ اس طرح سےکہ پچھلے قدموں پلٹ کے دیکھا نہ گزرے رستوں کے فاصلوں کوجہاں پہ میرے نشان پا اب تھکے تھکے سے گرے پڑے تھےحریم محمل میں وہ سفیر نوید پرورجسے زمانے کے پست و بالا نے اتنے قصے پڑھا دئیے تھےجو پہلے قرنوں کی تیرگی کو اجال دیتےتمہیں خبر ہےیہ میرا سینہ قدیم اہرام میں اکیلا وہ اک حرم تھاعظیم رازوں کے کہنہ تابوت جس کی کڑیوں میں بس رہے تھےانہیں ہواؤں کا ڈر نہیں تھانہ صحرا زادوں کے نسلی کا ہی ان کی گرد خبر کو پہنچےحریم محمل میں وہ امانت کا پاسباں ہوںجو چرم آہو کے نرم کاغذ پہ لکھے نامے کو لے کے نکلاوہی کہ جس کے سوار ہونے کو تم نے بخشا جہاز صحراطویل راہوں میں خالی مشکوں کا بار لے کر ہزار صدیاں سفر میں گرداںکہیں سرابوں کی بہتی چاندی کہیں چٹانوں کی سخت قاشیںمیان راہ سفر کھڑے تھے جکڑنے والے نظر کے لوبھیمگر نہ بھٹکا بھٹکنے والاجو دم لیا تو عزا میں جا کرحریم محمل سنو فسانے جو سن سکو تومیں چلتے چلتے سفر کے آخر پہ ایسی وادی میں جا کے ٹھہرااور اس پہ گزرے حریص لمحوں کے ان نشانوں کو دیکھ آیاجہاں کے نقشے بگڑ گئے ہیںجہاں کے طبقے الٹ گئے ہیںوہاں کی فصلیں زقوم کی ہیںہوائیں کالی ہیں راکھ اڑ کر کھنڈر میں ایسے پھنکارتی ہےکہ جیسے اژدر چہار جانب سے جبڑے کھولے غدر مچاتےزمیں پہ کینہ نکالتے ہوںکثیف زہروں کی تھیلیوں کو غضب سے باہر اچھالتے ہوںمہیب سائے میں دیوتاؤں کا رقص جاری تھاٹوٹے ہاتھوں کی ہڈیوں سے وہ دہل باطل کو پیٹتے تھےضعیف کوؤں نے اہل قریہ کی قبریں کھودیںتو ان کے ناخن نحیف پنجوں سے جھڑ کے ایسے بکھر رہے تھےچکوندروں نے چبا کے پھینکے ہوں جیسے ہڈی کے خشک ریزےحریم محمل وہی وہ منزل تھی جس کے سینے پہ میں تمہاری نظر سے پہنچا اٹھائے مہر و وفا کے نامےوہیں پہ بیٹھا تھا سر بہ زانو تمہارا محرمکھنڈر کے بوسیدہ پتھروں پر حزین و غمگیںوہیں پہ بیٹھا تھاقتل ناموں کے محضروں کو وہ پڑھ رہا تھاجو پستیوں کے کوتاہ ہاتھوں نے اس کی قسمت میں لکھ دئیے تھےحریم محمل میں اپنے ناقہ سے نیچے اترا تو میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھیں خموش و ویراںغبار صحرا مژہ پہ لرزاں تھا ریت دیدوں میں اڑ رہی تھیمگر شرافت کی ایک لو تھی کہ اس کے چہرے پہ نرم ہالہ کیے ہوئے تھیوہ میرے لہجے کو جانتا تھاہزار منزل کی دوریوں کے ستائے قاصد کے اکھڑے قدموں کی چاپ سنتے ہی اٹھ کھڑا تھادیار وحشت میں بس رہا تھاپہ تیری سانسوں کے زیر و بم سے اٹھی حرارت سے آشنا تھاوہ کہہ رہا تھا یہاں سے جاؤ کہ یاں خرابوں کے کارخانے ہیںروز و شب کے جو سلسلے ہیں کھلے خساروں کی منڈیاں ہیںوہ ڈر رہا تھا تمہارا قاصد کہیں خساروں میں بٹ نہ جائےحریم محمل میں کیا بتاؤں وہیں پہ کھویا تھا میرا ناقہفقط خرابے کے چند لمحے ہی اس کے گودے کو کھا گئے تھےاسی مقام طلسم گر میں وہ استخوانوں میں ڈھل گیا تھاجہاں پہ بکھرا پڑا تھا پہلے تمہارے محرم کا اسپ تازیاور اب وہ ناقہ کے استخواں بھیتمہارے محرم کے اسپ تازی کے استخوانوں میں مل گئے ہیںحریم محمل وہی وہ پتھر تھے جن پہ رکھے تھے میں نے مہر و وفا کے نامےجہاں پہ زندہ رتوں میں باندھے تھے تم نے پیمان و عہد اپنےمگر وہ پتھر کہ اب عجائب کی کار گہہ ہیںتمہارے نامے کی اس عبارت کو کھا گئے ہیںشفا کے ہاتھوں سے جس کو تم نے رقم کیا تھاسو اب نہ ناقہ نہ کوئی نامہ نہ لے کے آیا جواب نامہمیں نامراد و خجل مسافرمگر تمہارا امین قاصد عزا کی وادی سے لوٹ آیااور اس نجیب و کریم محرم وفا کے پیکر کو دیکھ آیاجو آنے والے دنوں کی گھڑیاں ابد کی سانسوں سے گن رہا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books