aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "Messi"
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگمیں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیاتتیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہےتیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثباتتیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہےتو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائےیوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائےاور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سواراحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
سو ایک روز کیا ہواوفا پہ بحث چھڑ گئیمیں عشق کو امر کہوںوہ میری ضد سے چڑ گئی
تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھےمیری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیںمیرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیںمیرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوںنہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کینہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سےنہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سےنہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہےکہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میںگزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھییہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہےتری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھیعجب نہ تھا کہ میں بیگانۂ الم ہو کرترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتاترا گداز بدن تیری نیم باز آنکھیںانہی حسین فسانوں میں محو ہو رہتاپکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کیترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتاحیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میںگھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتامگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہےکہ تو نہیں ترا غم تیری جستجو بھی نہیںگزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسےاسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیںزمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلےگزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سےمہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیںحیات و موت کے پر ہول خارزاروں سےنہ کوئی جادۂ منزل نہ روشنی کا سراغبھٹک رہی ہے خلاؤں میں زندگی میریانہی خلاؤں میں رہ جاؤں گا کبھی کھو کرمیں جانتا ہوں مری ہم نفس مگر یوں ہیکبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
اک بار کہو تم میری ہو
میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل مری کہانی ہےپل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل مری جوانی ہےمجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے اور آ کر چلے گئےکچھ آہیں بھر کر لوٹ گئے کچھ نغمے گا کر چلے گئےوہ بھی اک پل کا قصہ تھے میں بھی اک پل کا قصہ ہوںکل تم سے جدا ہو جاؤں گا گو آج تمہارا حصہ ہوںپل دو پل میں کچھ کہہ پایا اتنی ہی سعادت کافی ہےپل دو پل تم نے مجھ کو سنا اتنی ہی عنایت کافی ہےکل اور آئیں گے نغموں کی کھلتی کلیاں چننے والےمجھ سے بہتر کہنے والے تم سے بہتر سننے والےہر نسل اک فصل ہے دھرتی کی آج اگتی ہے کل کٹتی ہےجیون وہ مہنگی مدرا ہے جو قطرہ قطرہ بٹتی ہےساگر سے ابھری لہر ہوں میں ساگر میں پھر کھو جاؤں گامٹی کی روح کا سپنا ہوں مٹی میں پھر سو جاؤں گاکل کوئی مجھ کو یاد کرے کیوں کوئی مجھ کو یاد کرےمصروف زمانہ میرے لیے کیوں وقت اپنا برباد کرے
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سےبزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی
اس نے کہاسنعہد نبھانے کی خاطر مت آناعہد نبھانے والے اکثرمجبوری یا مہجوری کی تھکن سے لوٹا کرتے ہیںتم جاؤاور دریا دریا پیاس بجھاؤجن آنکھوں میں ڈوبوجس دل میں اترومیری طلب آواز نہ دے گیلیکن جب میری چاہتاور مری خواہش کی لواتنی تیز اور اتنیاونچی ہو جائےجب دل رو دےتب لوٹ آنا
آپ کو علم ہے وہ آج نہیں آئی ہیں؟میری ہر دوست سے اس نے یہی پوچھا ہوگاکیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخرخود سے اس بات پہ سو بار وہ الجھا ہوگاکل وہ آئے گی تو میں اس سے نہیں بولوں گاآپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگاوہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھنسیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے یہ سوچا ہوگاراہداری میں ہرے لان میں پھولوں کے قریباس نے ہر سمت مجھے آن کے ڈھونڈا ہوگا
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہوشورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہومرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہوآزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہولذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میںچشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہوگل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کاساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہوہو ہاتھ کا سرہانا سبزے کا ہو بچھوناشرمائے جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہومانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبلننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہوصف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوںندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہوہو دل فریب ایسا کوہسار کا نظارہپانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہوآغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہپھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہوپانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہومہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کوسرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہوراتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہوبجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دےجب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہوپچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذنمیں اس کا ہم نوا ہوں وہ میری ہم نوا ہوکانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساںروزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہوپھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانےرونا مرا وضو ہو نالہ مری دعا ہواس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالےتاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہوہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دےبے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجحوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آجآبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آجحسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آججس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہارتیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدارتیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردارتا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصارکوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو کہ بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہےتپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہےپاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہےبن کے سیماب ہر اک ظرف میں ڈھل جاتی ہےزیست کے آہنی سانچے میں بھی ڈھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےزندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیںنبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیںاڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیںجنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیںاس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےگوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیےفرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیےقہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیےزہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیےرت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیںتجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیںتو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیںتیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیںاپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکلضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکلنفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکلقید بن جائے محبت تو محبت سے نکلراہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑتیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑطوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑتوڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویںتیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیںہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیںمیں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیںلڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگیوہ کن خوابوں سے جانے آشنا نا آشنا ہوگیتمہارے دل کے اس دنیا سے کیسے سلسلے ہوں گےتمہیں کیسے گماں ہوں گے تمہیں کیسے گلے ہوں گےتمہاری صبح جانے کن خیالوں سے نہاتی ہوتمہاری شام جانے کن ملالوں سے نبھاتی ہونہ جانے کون دوشیزہ تمہاری زندگی ہوگینہ جانے اس کی کیا بایستگی شائستگی ہوگیاسے تم فون کرتے اور خط لکھتے رہے ہو گےنہ جانے تم نے کتنی کم غلط اردو لکھی ہوگییہ خط لکھنا تو دقیانوس کی پیڑھی کا قصہ ہےیہ صنف نثر ہم نابالغوں کے فن کا حصہ ہےوہ ہنستی ہو تو شاید تم نہ رہ پاتے ہو حالوں میںگڑھا ننھا سا پڑ جاتا ہو شاید اس کے گالوں میںگماں یہ ہے تمہاری بھی رسائی نارسائی ہووہ آئی ہو تمہارے پاس لیکن آ نہ پائی ہووہ شاید مائدے کی گند بریانی نہ کھاتی ہووہ نان بے خمیر میدہ کم تر ہی چباتی ہووہ دوشیزہ بھی شاید داستانوں کی ہو دل دادہاسے معلوم ہوگا زالؔ تھا سہرابؔ کا داداتہمتن یعنی رستمؔ تھا گرامی سامؔ کا وارثگرامی سامؔ تھا صلب نر مانیؔ کا خوش زادہ(یہ میری ایک خواہش ہے جو مشکل ہے)وہ نجمؔ آفندی مرحوم کو تو جانتی ہوگیوہ نوحوں کے ادب کا طرز تو پہچانتی ہوگیاسے کد ہوگی شاید ان سبھی سے جو لپاڑی ہوںنہ ہوں گے خواب اس کا جو گویے اور کھلاڑی ہوں
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستگر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکنتری آنکھوں کی اداسی تیرے سینے کی جلنمیری دل جوئی مرے پیار سے مٹ جائے گیگر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سےجی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغتیری پیشانی سے ڈھل جائیں یہ تذلیل کے داغتیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائےگر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستروز و شب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوںمیں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریںآبشاروں کے بہاروں کے چمن زاروں کے گیتآمد صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیتتجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوںکیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسمگرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیںکیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوشدیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیںکس طرح عارض محبوب کا شفاف بلوریک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہےکیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخ گلابکس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہےیونہی گاتا رہوں گاتا رہوں تیری خاطرگیت بنتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطرپر مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیںنغمہ جراح نہیں مونس و غم خوار سہیگیت نشتر تو نہیں مرہم آزار سہیتیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوااور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیںاس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیںہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا
چند روز اور مری جان فقط چند ہی روزظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہماور کچھ دیر ستم سہہ لیں تڑپ لیں رو لیںاپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم
وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپشوجود خاک میں آتش فشاں جگاتی تھیبچھا دیا گیا بارود اس کے پانی میںوہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھیسبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئےسپرد دار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے
مرے مخالف نے چال چل دی ہےاور ابمیری چال کے انتظار میں ہےمگر میں کب سےسفید خانوںسیاہ خانوں میں رکھےکالے سفید مہروں کو دیکھتا ہوںمیں سوچتا ہوںیہ مہرے کیا ہیں
یہ میری غزلیں یہ میری نظمیںتمام تیری حکایتیں ہیںیہ تذکرے تیرے لطف کے ہیںیہ شعر تیری شکایتیں ہیںمیں سب تری نذر کر رہا ہوںیہ ان زمانوں کی ساعتیں ہیں
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری!دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے!ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے!ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینتجس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کرنیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کرخدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کوسکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کراٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساںسفال ہند سے مینا و جام پیدا کرمیں شاخ تاک ہوں میری غزل ہے میرا ثمرمرے ثمر سے مے لالہ فام پیدا کرمرا طریق امیری نہیں فقیری ہےخودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books