aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "diye"
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیںراہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گاڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبارلڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغسو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزاراجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغگل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغاپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لواب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا
فرشتوں سے سجدہ بھی کروا دیاکہ تیرے لیے میں نے کیا نہ کیا
اک روز مگر برکھا رت میں وہ بھادوں تھی یا ساون تھادیوار پہ بیچ سمندر کے یہ دیکھنے والوں نے دیکھامستانہ ہاتھ میں ہاتھ دیئے یہ ایک کگر پر بیٹھے تھےیوں شام ہوئی پھر رات ہوئی جب سیلانی گھر لوٹ گئےکیا رات تھی وہ جی چاہتا ہے اس رات پہ لکھیں افسانااس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا
چراغ جن سے محبت کی روشنی پھیلےچراغ جن سے دلوں کے دیار روشن ہوںچراغ جن سے ضیا امن و آشتی کی ملےچراغ جن سے دیئے بے شمار روشن ہوں
چھوٹا سا اک گاؤں تھا جس میںدیئے تھے کم اور بہت اندھیرابہت شجر تھے تھوڑے گھر تھےجن کو تھا دوری نے گھیرااتنی بڑی تنہائی تھی جس میںجاگتا رہتا تھا دل میرابہت قدیم فراق تھا جس میںایک مقرر حد سے آگےسوچ نہ سکتا تھا دل میراایسی صورت میں پھر دل کودھیان آتا کس خواب میں تیراراز جو حد سے باہر میں تھااپنا آپ دکھاتا کیسےسپنے کی بھی حد تھی آخرسپنا آگے جاتا کیسے
جبرئیلہمدم دیرینہ کیسا ہے جہان رنگ و بوابلیسسوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزوجبرئیلہر گھڑی افلاک پر رہتی ہے تیری گفتگوکیا نہیں ممکن کہ تیرا چاک دامن ہو رفوابلیسآہ اے جبریل تو واقف نہیں اس راز سےکر گیا سرمست مجھ کو ٹوٹ کر میرا سبواب یہاں میری گزر ممکن نہیں ممکن نہیںکس قدر خاموش ہے یہ عالم بے کاخ و کوجس کی نومیدی سے ہو سوز درون کائناتاس کے حق میں تقنطو اچھا ہے یا لاتقنطواجبرئیلکھو دیئے انکار سے تو نے مقامات بلندچشم یزداں میں فرشتوں کی رہی کیا آبروابلیسہے مری جرأت سے مشت خاک میں ذوق نمومیرے فتنے جامۂ عقل و خرد کا تار و پودیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزم خیر و شرکون طوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے میں کہ توخضر بھی بے دست و پا الیاس بھی بے دست و پامیرے طوفاں یم بہ یم دریا بہ دریا جو بہ جوگر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سےقصۂ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہومیں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرحتو فقط اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو
ہے ذوقؔ کی عظمت کہ دیے مجھ کو سہارےچکبستؔ کی الفت نے مرے خواب سنوارےفانیؔ نے سجائے مری پلکوں پہ ستارےاکبرؔ نے رچائی مری بے رنگ ہتھیلی
پھر وہی خوف کی دیوار تذبذب کی فضاپھر وہی عام ہوئیں اہل ریا کی باتیںنعرۂ حب وطن مال تجارت کی طرحجنس ارزاں کی طرح دین خدا کی باتیں
یہ سرگوشیاں کہہ رہی ہیں اب آؤ کہ برسوں سے تم کو بلاتے بلاتے مرےدل پہ گہری تھکن چھا رہی ہےکبھی ایک پل کو کبھی ایک عرصہ صدائیں سنی ہیں مگر یہ انوکھی ندا آ رہی ہےبلاتے بلاتے تو کوئی نہ اب تک تھکا ہے نہ آئندہ شاید تھکے گامرے پیارے بچے مجھے تم سے کتنی محبت ہے دیکھو اگریوں کیا توبرا مجھ سے بڑھ کر نہ کوئی بھی ہوگا خدایا خدایاکبھی ایک سسکی کبھی اک تبسم کبھی صرف تیوریمگر یہ صدائیں تو آتی رہی ہیںانہی سے حیات دو روزہ ابد سے ملی ہےمگر یہ انوکھی ندا جس پہ گہری تھکن چھا رہی ہےیہ ہر اک صدا کو مٹانے کی دھمکی دئیے جا رہی ہے
زندگی کے میلے میں خواہشوں کے ریلے میںتم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میںوقت کی روانی ہے بخت کی گرانی ہےسخت بے زمینی ہے سخت لا مکانی ہےہجر کے سمندر میںتخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہےتم کو جو سنانی ہےبات گو ذرا سی ہےبات عمر بھر کی ہےعمر بھر کی باتیں کب دو گھڑی میں ہوتی ہیںدرد کے سمندر میںان گنت جزیرے ہیں بے شمار موتی ہیںآنکھ کے دریچے میں تم نے جو سجایا تھابات اس دئے کی ہےبات اس گلے کی ہےجو لہو کی خلوت میں چور بن کے آتا ہےلفظ کی فصیلوں پر ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہےزندگی سے لمبی ہے بات رت جگے کی ہےراستے میں کیسے ہوبات تخلیئے کی ہےتخلیئے کی باتوں میں گفتگو اضافی ہےپیار کرنے والوں کو اک نگاہ کافی ہےہو سکے تو سن جاؤ ایک روز اکیلے میںتم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے ہیں
جانے کب تک تری تصویر نگاہوں میں رہیہو گئی رات ترے عکس کو تکتے تکتےمیں نے پھر تیرے تصور کے کسی لمحے میںتیری تصویر پہ لب رکھ دیے آہستہ سے!
آؤ کہ آج غور کریں اس سوال پردیکھے تھے ہم نے جو وہ حسیں خواب کیا ہوئےدولت بڑھی تو ملک میں افلاس کیوں بڑھاخوشحالئ عوام کے اسباب کیا ہوئےجو اپنے ساتھ ساتھ چلے کوئے دار تکوہ دوست وہ رفیق وہ احباب کیا ہوئےکیا مول لگ رہا ہے شہیدوں کے خون کامرتے تھے جن پہ ہم وہ سزا یاب کیا ہوئےبے کس برہنگی کو کفن تک نہیں نصیبوہ وعدہ ہائے اطلس و کمخواب کیا ہوئےجمہوریت نواز بشر دوست امن خواہخود کو جو خود دیے تھے وہ القاب کیا ہوئےمذہب کا روگ آج بھی کیوں لا علاج ہےوہ نسخہ ہائے نادر و نایاب کیا ہوئےہر کوچہ شعلہ زار ہے ہر شہر قتل گاہیکجہتئ حیات کے آداب کیا ہوئےصحرائے تیرگی میں بھٹکتی ہے زندگیابھرے تھے جو افق پہ وہ مہتاب کیا ہوئےمجرم ہوں میں اگر تو گنہ گار تم بھی ہواے رہبران قوم خطا کار تم بھی ہو
آندھیاں توڑ لیا کرتی تھیں شمعوں کی لویںجڑ دیئے اس لیے بجلی کے ستارے ہم نےبن گیا قصر تو پہرے پہ کوئی بیٹھ گیاسو رہے خاک پہ ہم شورش تعمیر لیے
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئیتم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئیڈرتا ہوں کہیں خشک نہ ہو جائے سمندرراکھ اپنی کبھی آپ بہاتا نہیں کوئیاک بار تو خود موت بھی گھبرا گئی ہوگییوں موت کو سینے سے لگاتا نہیں کوئیمانا کہ اجالوں نے تمہیں داغ دئے تھےبے رات ڈھلے شمع بجھاتا نہیں کوئیساقی سے گلا تھا تمہیں مے خانے سے شکوہاب زہر سے بھی پیاس بجھاتا نہیں کوئیہر صبح ہلا دیتا تھا زنجیر زمانہکیوں آج دوانے کو جگاتا نہیں کوئیارتھی تو اٹھا لیتے ہیں سب اشک بہا کےناز دل بیتاب اٹھاتا نہیں کوئی
میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواببڑھا اور جس سے مرا اضطرابیہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیںاندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیںلرزتا تھا ڈر سے مرا بال بالقدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محالجو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھیتو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھیزمرد سی پوشاک پہنے ہوئےدیے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئےوہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے رواںخدا جانے جانا تھا ان کو کہاںاسی سوچ میں تھی کہ میرا پسرمجھے اس جماعت میں آیا نظروہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھادیا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھاکہا میں نے پہچان کر میری جاںمجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاںجدائی میں رہتی ہوں میں بے قرارپروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہارنہ پروا ہماری ذرا تم نے کیگئے چھوڑ اچھی وفا تم نے کیجو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تابدیا اس نے منہ پھیر کر یوں جوابرلاتی ہے تجھ کو جدائی مرینہیں اس میں کچھ بھی بھلائی مرییہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہادیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگاسمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اسے؟ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے!
ریاست میںمہارانیوں کے قصے گھڑنے پرعلم کی بڑی ملتی ہےبل کے سادہ کاغذ پرعلم لکھ دیا جاتا ہےتازہ دریافت پرہر فرد کی مٹھی گرم ہوتی ہے
اے دیکھنے والواس حسن کو دیکھواس راز کو سمجھویہ نقش خیالییہ فکرت عالییہ پیکر تنویریہ کرشن کی تصویرمعنی ہے کہ صورتصنعت ہے کہ فطرتظاہر ہے کہ مستورنزدیک ہے یا دوریہ نار ہے یا نوردنیا سے نرالایہ بانسری والاگوکل کا گوالاہے سحر کہ اعجازکھلتا ہی نہیں رازکیا شان ہے واللہکیا آن ہے واللہحیران ہوں کیا ہےاک شان خدا ہےبت خانے کے اندرخود حسن کا بت گربت بن گیا آ کروہ طرفہ نظارےیاد آ گئے سارےجمنا کے کنارےسبزے کا لہکناپھولوں کا مہکناگھنگھور گھٹائیںسرمست ہوائیںمعصوم امنگیںالفت کی ترنگیںوہ گوپیوں کے ساتھہاتھوں میں دیئے ہاتھرقصاں ہوا برج ناتھبنسی میں جو لے ہےنشہ ہے نہ مے ہےکچھ اور ہی شے ہےاک روح ہے رقصاںاک کیف ہے لرزاںایک عقل ہے مے نوشاک ہوش ہے مدہوشاک خندہ ہے سیالاک گریہ ہے خوش حالاک عشق ہے مغروراک حسن ہے مجبوراک سحر ہے مسحوردربار میں تنہالاچار ہے کرشناآ شیام ادھر آسب اہل خصومتہیں در پئے عزتیہ راج دلارےبزدل ہوئے سارےپردہ نہ ہو تاراجبیکس کی رہے لاجآ جا میرے کالےبھارت کے اجالےدامن میں چھپا لےوہ ہو گئی ان بنوہ گرم ہوا رنغالب ہے دریودھنوہ آ گئے جگدیشوہ مٹ گئی تشویشارجن کو بلایااپدیش سنایاغم زاد کا غم کیااستاد کا غم کیالو ہو گئی تدبیرلو بن گئی تقدیرلو چل گئی شمشیرسیرت ہے عدو سوزصورت نظر افروزدل کیفیت اندوزغصے میں جو آ جائےبجلی ہی گرا جائےاور لطف پر آئےتو گھر بھی لٹا جائےپریوں میں ہے گلفامرادھا کے لیے شیامبلرام کا بھیامتھرا کا بسیابندرا میں کنھیابن ہو گئے ویراںبرباد گلستاںسکھیاں ہیں پریشاںجمنا کا کناراسنسان ہے ساراطوفان ہیں خاموشموجوں میں نہیں جوشلو تجھ سے لگی ہےحسرت ہی یہی ہےاے ہند کے راجااک بار پھر آ جادکھ درد مٹا جاابر اور ہوا سےبلبل کی صدا سےپھولوں کی ضیا سےجادو اثری گمشوریدہ سری گمہاں تیری جدائیمتھرا کو نہ بھائیتو آئے تو شان آئےتو آئے تو جان آئےآنا نہ اکیلےہوں ساتھ وہ میلےسکھیوں کے جھمیلے
رکی رکی سی صفیں ملگجی گھٹاؤں کیاتار پر ہے سر صحن رقص پیپل کاوہ کچھ نہیں ہے اب اک جنبش خفی کے سواخود اپنی کیفیت نیلگوں میں ہر لحظہیہ شام ڈوبتی جاتی ہے چھپتی جاتی ہےحجاب وقت سرے سے ہے بے حس و حرکترکی رکی دل فطرت کی دھڑکنیں یک لختیہ رنگ شام کہ گردش ہی آسماں میں نہیںبس ایک وقفۂ تاریک، لمحۂ شہلاسما میں جنبش مبہم سی کچھ ہوئی فوراًتلی گھٹا کے تلے بھیگے بھیگے پتوں سےہری ہری کئی چنگاریاں سی پھوٹ پڑیںکہ جیسے کھلتی جھپکتی ہوں بے شمار آنکھیںعجب یہ آنکھ مچولی تھی نور و ظلمت کیسہانی نرم لویں دیتے ان گنت جگنوگھنی سیاہ خنک پتیوں کے جھرمٹ سےمثال چادر شب تاب جگمگانے لگےکہ تھرتھراتے ہوئے آنسوؤں سے ساغر شامچھلک چھلک پڑے جیسے بغیر سان گمانبطون شام میں ان زندہ قمقموں کی دمککسی کی سوئی ہوئی یاد کو جگاتی تھیوہ بے پناہ گھٹا وہ بھری بھری برساتوہ سین دیکھ کے آنکھیں مری بھر آتی تھیںمری حیات نے دیکھی ہیں بیس برساتیںمرے جنم ہی کے دن مر گئی تھی ماں میریوہ ماں کہ شکل بھی جس ماں کی میں نہ دیکھ سکاجو آنکھ بھر کے مجھے دیکھ بھی سکی نہ وہ ماںمیں وہ پسر ہوں جو سمجھا نہیں کہ ماں کیا ہےمجھے کھلائیوں اور دائیوں نے پالا تھاوہ مجھ سے کہتی تھیں جب گھر کے آتی تھی برساتجب آسمان میں ہر سو گھٹائیں چھاتی تھیںبوقت شام جب اڑتے تھے ہر طرف جگنودیئے دکھاتے ہیں یہ بھولی بھٹکی روحوں کومزہ بھی آتا تھا مجھ کو کچھ ان کی باتوں میںمیں ان کی باتوں میں رہ رہ کے کھو بھی جاتا تھاپر اس کے ساتھ ہی دل میں کسک سی ہوتی تھیکبھی کبھی یہ کسک ہوک بن کے اٹھتی تھییتیم دل کو مرے یہ خیال ہوتا تھا!یہ شام مجھ کو بنا دیتی کاش اک جگنوتو ماں کی بھٹکی ہوئی روح کو دکھاتا راہکہاں کہاں وہ بچاری بھٹک رہی ہوگیکہاں کہاں مری خاطر بھٹک رہی ہوگییہ سوچ کر مری حالت عجیب ہو جاتیپلک کی اوٹ میں جگنو چمکنے لگتے تھےکبھی کبھی تو مری ہچکیاں سی بندھ جاتیںکہ ماں کے پاس کسی طرح میں پہنچ جاؤںاور اس کو راہ دکھاتا ہوا میں گھر لاؤںدکھاؤں اپنے کھلونے دکھاؤں اپنی کتابکہوں کہ پڑھ کے سنا تو مری کتاب مجھےپھر اس کے بعد دکھاؤں اسے میں وہ کاپیکہ ٹیڑھی میڑھی لکیریں بنی تھیں کچھ جس میںیہ حرف تھے جنہیں میں نے لکھا تھا پہلے پہلاور اس کو راہ دکھاتا ہوا میں گھر لاؤںدکھاؤں پھر اسے آنگن میں وہ گلاب کی بیلسنا ہے جس کو اسی نے کبھی لگایا تھایہ جب کہ بات ہے جب میری عمر ہی کیا تھینظر سے گزری تھیں کل چار پانچ برساتیں
پھر اک دن ایسا آئے گاآنکھوں کے دئیے بجھ جائیں گےہاتھوں کے کنول کمھلائیں گےاور برگ زباں سے نطق و صداکی ہر تتلی اڑ جائے گیاک کالے سمندر کی تہ میںکلیوں کی طرح سے کھلتی ہوئیپھولوں کی طرح سے ہنستی ہوئیساری شکلیں کھو جائیں گیخوں کی گردش دل کی دھڑکنسب راگنیاں سو جائیں گیاور نیلی فضا کی مخمل پرہنستی ہوئی ہیرے کی یہ کنییہ میری جنت میری زمیںاس کی صبحیں اس کی شامیںبے جانے ہوئے بے سمجھے ہوئےاک مشت غبار انساں پرشبنم کی طرح رو جائیں گیہر چیز بھلا دی جائے گییادوں کے حسیں بت خانے سےہر چیز اٹھا دی جائے گیپھر کوئی نہیں یہ پوچھے گاسردارؔ کہاں ہے محفل میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books