aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gauharo.n"
سنگ کو گوہر نایاب و گراں جانا تھادشت پر خار کو فردوس جواں جانا تھاریگ کو سلسلۂ آب رواں جانا تھاآہ یہ راز ابھی میں نے کہاں جانا تھا
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
ان اسیروں کے نامجن کے سینوں میں فردا کے شب تاب گوہرجیل خانوں کی شوریدہ راتوں کی صرصر میںجل جل کے انجم نما ہوگئے ہیںآنے والے دنوں کے سفیروں کے ناموہ جو خوشبوئے گل کی طرحاپنے پیغام پر خود فدا ہوگئے ہیں
خدائے عز و جل کی نعمتوں کا معترف ہوں میںمجھے اقرار ہے اس نے زمیں کو ایسے پھیلایاکہ جیسے بستر کم خواب ہو دیبا و مخمل ہومجھے اقرار ہے یہ خیمۂ افلاک کا سایہاسی کی بخششیں ہیں اس نے سورج چاند تاروں کوفضاؤں میں سنوارا اک حد فاصل مقرر کیچٹانیں چیر کر دریا نکالے خاک اسفل سےمری تخلیق کی مجھ کو جہاں کی پاسبانی دیسمندر موتیوں مونگوں سے کانیں لعل و گوہر سےہوائیں مست کن خوشبوؤں سے معمور کر دی ہیںوہ حاکم قادر مطلق ہے یکتا اور دانا ہےاندھیرے کو اجالے سے جدا کرتا ہے خود کو میںاگر پہچانتا ہوں اس کی رحمت اور سخاوت ہےاسی نے خسروی دی ہے لئیموں کو مجھے نکبتاسی نے یاوہ گویوں کو مرا خازن بنایا ہےتونگر ہرزہ کاروں کو کیا دریوزہ گر مجھ کومگر جب جب کسی کے سامنے دامن پسارا ہےیہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو
ذرہ ذرہ دہر کا زندانیٔ تقدیر ہےپردۂ مجبوری و بے چارگی تدبیر ہےآسماں مجبور ہے شمس و قمر مجبور ہیںانجم سیماب پا رفتار پر مجبور ہیںہے شکست انجام غنچے کا سبو گلزار میںسبزہ و گل بھی ہیں مجبور نمو گلزار میںنغمۂ بلبل ہو یا آواز خاموش ضمیرہے اسی زنجیر عالمگیر میں ہر شے اسیرآنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سر مجبوری عیاںخشک ہو جاتا ہے دل میں اشک کا سیل رواںقلب انسانی میں رقص عیش و غم رہتا نہیںنغمہ رہ جاتا ہے لطف زیر و بم رہتا نہیںعلم و حکمت رہزن سامان اشک و آہ ہےیعنی اک الماس کا ٹکڑا دل آگاہ ہےگرچہ میرے باغ میں شبنم کی شادابی نہیںآنکھ میری مایہ دار اشک عنابی نہیںجانتا ہوں آہ میں آلام انسانی کا رازہے نوائے شکوہ سے خالی مری فطرت کا سازمیرے لب پر قصۂ نیرنگی دوراں نہیںدل مرا حیراں نہیں خندہ نہیں گریاں نہیںپر تری تصویر قاصد گریۂ پیہم کی ہےآہ یہ تردید میری حکمت محکم کی ہےگریۂ سرشار سے بنیاد جاں پایندہ ہےدرد کے عرفاں سے عقل سنگدل شرمندہ ہےموج دود آہ سے آئینہ ہے روشن مراگنج آب آورد سے معمور ہے دامن مراحیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز کارخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کارفتہ و حاضر کو گویا پا بہ پا اس نے کیاعہد طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کیاجب ترے دامن میں پلتی تھی وہ جان ناتواںبات سے اچھی طرح محرم نہ تھی جس کی زباںاور اب چرچے ہیں جس کی شوخئ گفتار کےبے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہر بار کےعلم کی سنجیدہ گفتاری بڑھاپے کا شعوردنیوی اعزاز کی شوکت جوانی کا غرورزندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہمصحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہمبے تکلف خندہ زن ہیں فکر سے آزاد ہیںپھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیںکس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظارکون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرارخاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گااب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گاتربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہواگھر مرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوادفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیاتتھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیاتعمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہیمیں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسیوہ جواں قامت میں ہے جو صورت سرو بلندتیری خدمت سے ہوا جو مجھ سے بڑھ کر بہرہ مندکاروبار زندگانی میں وہ ہم پہلو مراوہ محبت میں تری تصویر وہ بازو مراتجھ کو مثل طفلک بے دست و پا روتا ہے وہصبر سے نا آشنا صبح و مسا روتا ہے وہتخم جس کا تو ہماری کشت جاں میں بو گئیشرکت غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئیآہ یہ دنیا یہ ماتم خانۂ برنا و پیرآدمی ہے کس طلسم دوش و فردا میں اسیرکتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موتگلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موتزلزلے ہیں بجلیاں ہیں قحط ہیں آلام ہیںکیسی کیسی دختران مادر ایام ہیںکلبۂ افلاس میں دولت کے کاشانے میں موتدشت و در میں شہر میں گلشن میں ویرانے میں موتموت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میںڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میںنے مجال شکوہ ہے نے طاقت گفتار ہےزندگانی کیا ہے اک طوق گلو افشار ہےقافلے میں غیر فریاد درا کچھ بھی نہیںاک متاع دیدۂ تر کے سوا کچھ بھی نہیںختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھیہیں پس نہ پردۂ گردوں ابھی دور اور بھیسینہ چاک اس گلستاں میں لالہ و گل ہیں تو کیانالہ و فریاد پر مجبور بلبل ہیں تو کیاجھاڑیاں جن کے قفس میں قید ہے آہ خزاںسبز کر دے گی انہیں باد بہار جاوداںخفتہ خاک پے سپر میں ہے شرار اپنا تو کیاعارضی محمل ہے یہ مشت غبار اپنا تو کیازندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیںٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیںزندگی محبوب ایسی دیدۂ قدرت میں ہےذوق حفظ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہےموت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقش حیاتعام یوں اس کو نہ کر دیتا نظام کائناتہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیںجس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیںآہ غافل موت کا راز نہاں کچھ اور ہےنقش کی ناپائیداری سے عیاں کچھ اور ہےجنت نظارہ ہے نقش ہوا بالائے آبموج مضطر توڑ کر تعمیر کرتی ہے حبابموج کے دامن میں پھر اس کو چھپا دیتی ہے یہکتنی بے دردی سے نقش اپنا مٹا دیتی ہے یہپھر نہ کر سکتی حباب اپنا اگر پیدا ہواتوڑنے میں اس کے یوں ہوتی نہ بے پروا ہوااس روش کا کیا اثر ہے ہیئت تعمیر پریہ تو حجت ہے ہوا کی قوت تعمیر پرفطرت ہستی شہید آرزو رہتی نہ ہوخوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہوآہ سیماب پریشاں انجم گردوں فروزشوخ یہ چنگاریاں ممنون شب ہے جن کا سوزعقل جس سے سر بہ زانو ہے وہ مدت ان کی ہےسر گزشت نوع انساں ایک ساعت ان کی ہےپھر یہ انساں آں سوئے افلاک ہے جس کی نظرقدسیوں سے بھی مقاصد میں ہے جو پاکیزہ ترجو مثال شمع روشن محفل قدرت میں ہےآسماں اک نقطہ جس کی وسعت فطرت میں ہےجس کی نادانی صداقت کے لیے بیتاب ہےجس کا ناخن ساز ہستی کے لیے مضراب ہےشعلہ یہ کم تر ہے گردوں کے شراروں سے بھی کیاکم بہا ہے آفتاب اپنا ستاروں سے بھی کیاتخم گل کی آنکھ زیر خاک بھی بے خواب ہےکس قدر نشوونما کے واسطے بیتاب ہےزندگی کا شعلہ اس دانے میں جو مستور ہےخود نمائی خود فزائی کے لیے مجبور ہےسردی مرقد سے بھی افسردہ ہو سکتا نہیںخاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیںپھول بن کر اپنی تربت سے نکل آتا ہے یہموت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہہے لحد اس قوت آشفتہ کی شیرازہ بندڈالتی ہے گردن گردوں میں جو اپنی کمندموت تجدید مذاق زندگی کا نام ہےخواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہےخوگر پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیںموت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیںکہتے ہیں اہل جہاں درد اجل ہے لا دوازخم فرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفادل مگر غم مرنے والوں کا جہاں آباد ہےحلقۂ زنجیر صبح و شام سے آزاد ہےوقت کے افسوں سے تھمتا نالۂ ماتم نہیںوقت زخم تیغ فرقت کا کوئی مرہم نہیںسر پہ آ جاتی ہے جب کوئی مصیبت ناگہاںاشک پیہم دیدۂ انساں سے ہوتے ہیں رواںربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سےخون دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سےآدمی تاب شکیبائی سے گو محروم ہےاس کی فطرت میں یہ اک احساس نامعلوم ہےجوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیںآنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیںرخت ہستی خاک غم کی شعلہ افشانی سے ہےسرد یہ آگ اس لطیف احساس کے پانی سے ہےآہ یہ ضبط فغاں غفلت کی خاموشی نہیںآگہی ہے یہ دلاسائی فراموشی نہیںپردۂ مشرق سے جس دم جلوہ گر ہوتی ہے صبحداغ شب کا دامن آفاق سے دھوتی ہے صبحلالۂ افسردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہبے زباں طائر کو سرمست نوا کرتی ہے یہسینۂ بلبل کے زنداں سے سرود آزاد ہےسیکڑوں نغموں سے باد صبح دم آباد ہےخفتہ گان لالہ زار و کوہسار و رود بارہوتے ہیں آخر عروس زندگی سے ہمکناریہ اگر آئین ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبحمرقد انساں کی شب کا کیوں نہ ہو انجام صبحدام سیمین تخیل ہے مرا آفاق گیرکر لیا ہے جس سے تیری یاد کو میں نے اسیریاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہےجیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہےوہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیاتجلوہ گاہیں اس کی ہیں لاکھوں جہان بے ثباتمختلف ہر منزل ہستی کو رسم و راہ ہےآخرت بھی زندگی کی ایک جولاں گاہ ہےہے وہاں بے حاصلی کشت اجل کے واسطےسازگار آب و ہوا تخم عمل کے واسطےنور فطرت ظلمت پیکر کا زندانی نہیںتنگ ایسا حلقۂ افکار انسانی نہیںزندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ ترخوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفرمثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترانور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تراآسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرےسبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
قوم نے پیغام گوتم کی ذرا پروا نہ کیقدر پہچانی نہ اپنے گوہر یک دانہ کیآہ بد قسمت رہے آواز حق سے بے خبرغافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجرآشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھاہند کو لیکن خیالی فلسفہ پر ناز تھاشمع حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھیبارش رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھیآہ شودر کے لیے ہندوستاں غم خانہ ہےدرد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہےبرہمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میںشمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میںبتکدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوانور ابراہیم سے آزر کا گھر روشن ہواپھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سےہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
سب زبانوں کی جان ہے اردوکتنی پیاری زبان ہے اردوسارے الفاظ قیمتی گوہرجوہری کی دکان ہے اردویہ تراشے ہوئے حسیں جملےجیسے ہیروں کی کان ہے اردوایک اک لفظ مثل شیر و شکرکتنی میٹھی زبان ہے اردوساری دنیا میں جس کی شہرت ہےفخر ہندوستان ہے اردوخواہ ہندو ہو سکھ ہو یا مسلمہر بشر کی زبان ہے اردوشہر دلی کا صرف دل ہی نہیںسارے بھارت کی جان ہے اردوحیدرآباد و لکھنؤ ہی نہیںہر جگہ کی زبان ہے اردوکتنی صدیاں گزر چکیں لیکنآج تک نوجوان ہے اردوکیفؔ اردو کے جو مخالف ہیںان کے گھر کی زبان ہے اردو
وہ باؤلر ایک مہ وشوں کے جمگھٹوں میں گھر گیاوہ صفحۂ بیاض پر بصد غرور کلک گوہریں پھریحسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری
شب ایشیا کے اندھیرے میں سر راہ جس کی تھی روشنیوہ گوہر کسی نے چھپا لیا وہ دیا کسی نے بجھا دیا
اٹھی ہے مغرب سے گھٹاپینے کا موسم آ گیاہے رقص میں اک مہ لقانازک ادا ناز آفریںہاں ناچتی جا گائے جانظروں سے دل برمائے جاتڑپائے جا تڑپائے جااو دشمن دنیا و دیں!تیرا تھرکنا خوب ہےتیری ادائیں دل نشیںلیکن ٹھہر تو کون ہےاو نیم عریاں نازنیںکیا مشرقی عورت ہے توہرگز نہیں ہرگز نہیںتیری ہنسی بے باک ہےتیری نظر چالاک ہےاف کس قدر دل سوز ہےتقریر بازاری تریکتنی ہوس آموز ہےیہ سادہ پرکاری تریشرم اور عزت والیاںہوتی ہیں عفت والیاںوہ حسن کی شہزادیاںپردے کی ہیں آبادیاںچشم فلک نے آج تکدیکھی نہیں ان کی جھلکسرمایۂ شرم و حیازیور ہے ان کے حسن کاشوہر کے دکھ سہتی ہیں وہمنہ سے نہیں کہتی ہیں وہکب سامنے آتی ہیں وہغیرت سے کٹ جاتی ہیں وہاعزاز ملت ان سے ہےنام شرافت ان سے ہےایمان پر قائم ہیں وہپاکیزہ و صائم ہیں وہتجھ میں نہیں شرم و حیاتجھ میں نہیں مہر و وفاسچ سچ بتا تو کون ہےاو بے حیا تو کون ہےاحساس عزت کیوں نہیںشرم اور غیرت کیوں نہیںیہ پر فسوں غمزے ترےنا محرموں کے سامنےہٹ سامنے سے دور ہومردود ہو مقہور ہوتقدیر کی ہیٹی ہے توشیطان کی بیٹی ہے توجس قوم کی عورت ہے تواس قوم پر لعنت ہے تولیکن ٹھہر جانا ذراتیری نہیں کوئی خطامردوں میں غیرت ہی نہیںقومی حمیت ہی نہیںوہ ملت بیضا کہ تھیسارے جہاں کی روشنیجمعیت اسلامیاںشاہنشہ ہندوستاںاب اس میں دم کچھ بھی نہیںہم کیا ہیں ہم کچھ بھی نہیںملی سیاست اٹھ گئیبازو کی طاقت اٹھ گئیشان حجازی اب کہاںوہ ترکتازی اب کہاںاب غزنوی ہمت گئیاب بابری شوکت گئیایمان عالمگیر کامسلم کے دل سے اٹھ گیاقوم اب جفا پیشہ ہوئیعزت گدا پیشہ ہوئیاب رنگ ہی کچھ اور ہےبے غیرتی کا دور ہےیہ قوم اب مٹنے کو ہےیہ نرد اب پٹنے کو ہےافسوس یہ ہندوستاں!یہ گلشن جنت نشاں!ایمان داروں کا وطنطاعت گزاروں کا وطنرہ جائے گا ویرانہ پھربن جائے گا بت خانہ پھرلیکن مجھے کیا خبط ہےتقریر کیوں بے ربط ہےایسا بہک جاتا ہوں میںمنہ آئی بک جاتا ہوں میںاتنا شرابی ہو گیاعقل و خرد کو کھو گیامجھ کو زمانے سے غرضمٹنے مٹانے سے غرضہندوستاں سے کام کیااندیشۂ انجام کیاجینے دو جینے دو مجھےپینے دو پینے دو مجھےجب حشر کا دن آئے گااس وقت دیکھا جائے گاہاں ناچتی جا گائے جانظروں سے دل برمائے جاتڑپائے جا تڑپائے جااو دشمن دنیا و دیں
حوصلے جاگ اٹھے سوز یقیں جاگ اٹھانگہ ناز کے بے نام اشاروں کو سلامتو جہاں رہتی ہے اس ارض حسیں پر سجدہجن میں تو ملتی ہے ان راہ گزاروں کو سلام
ابو لہب اجنبی زمینوں کے لعل و گوہر سمیٹ کرپھر وطن کو لوٹا ہزار طرار و تیز آنکھیں پرانےغرفوں سے جھانک اٹھیں ہجوم پیر و جواں کاگہرا ہجوم اپنے گھروں سے نکلا ابو لہب کے جلوسکو دیکھنے کو لپکاابو لہب اک شب زفاف ابو لہب کا جلاپھپھولا خیال کی ریت کا بگولا وہ عشق بربادکا ہیولی ہجوم میں سے پکار اٹھی ابو لہب
تذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑنہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانا ہرگزداستاں گل کی خزاں میں نہ سنا اے بلبلہنستے ہنستے ہمیں ظالم نہ رلانا ہرگزڈھونڈھتا ہے دل شوریدہ بہانے مطربدردانگیز غزل کوئی نہ گانا ہرگزصحبتیں اگلی مصور ہمیں یاد آئیں گیکوئی دلچسپ مرقع نہ دکھانا ہرگزلے کے داغ آئے گا سینے پہ بہت اے سیاحدیکھ اس شہر کے کھنڈروں میں نہ جانا ہرگزچپہ چپہ پہ ہیں یاں گوہر یکتا تہ خاکدفن ہوگا نہ کہیں اتنا خزانہ ہرگزمٹ گئے تیرے مٹانے کے نشاں بھی اب تواے فلک اس سے زیادہ نہ مٹانا ہرگزوہ تو بھولے تھے ہمیں ہم بھی انہیں بھول گئےایسا بدلا ہے نہ بدلے گا زمانا ہرگزجس کو زخموں سے حوادث کے اچھوتا سمجھیںنظر آتا نہیں اک ایسا گھرانا ہرگزہم کو گر تو نے رلایا تو رلایا اے چرخہم پہ غیروں کو تو ظالم نہ ہنسانا ہرگزآخری دور میں بھی تجھ کو قسم ہے ساقیبھر کے اک جام نہ پیاسوں کو پلانا ہرگزبخت سوئے ہیں بہت جاگ کے اے دور زماںنہ ابھی نیند کے ماتوں کو جگانا ہرگزکبھی اے علم و ہنر گھر تھا تمہارا دلیہم کو بھولے ہو تو گھر بھول نہ جانا ہرگزغالبؔ و شیفتہؔ و نیرؔ و آزردہؔ و ذوقؔاب دکھائے گا نہ شکلوں کو زمانا ہرگزمومنؔ و علویؔ و صہبائیؔ و ممنونؔ کے بعدشعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہرگزداغؔ و مجروحؔ کو سن لو کہ پھر اس گلشن میںنہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانا ہرگزرات آخر ہوئی اور بزم ہوئی زیر و زبراب نہ دیکھو گے کبھی لطف شبانہ ہرگزبزم ماتم تو نہیں بزم سخن ہے حالیؔیاں مناسب نہیں رو رو کے رلانا ہرگز
دل خوشامد سے ہر اک شخص کا کیا راضی ہےآدمی جن پری و بھوت بلا راضی ہےبھائی فرزند بھی خوش باپ چچا راضی ہےشاد مسرور غنی شاہ و گدا راضی ہےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےاپنا مطلب ہو تو مطلب کی خوشامد کیجےاور نہ ہو کام تو اس ڈھب کی خوشامد کیجےاولیا انبیا اور رب کی خوشامد کیجےاپنے مقدور غرض سب کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کی خوشامد سے خدا راضی ہےچار دن جس کو کیا جھک کے خوشامد سے سلاموہ بھی خوش ہو گیا اپنا بھی ہوا کام میں کامبڑے عاقل بڑے دانا نے نکالا ہے یہ دامخوب دیکھا تو خوشامد ہی کی آمد ہے تمامجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےبد بخیل اور سخی کی بھی خوشامد کیجےاور جو شیطان ہو تو اس کی بھی خوشامد کیجےگر ولی ہو تو ولی کی بھی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےپیار سے جوڑ دئیے جس کی طرف ہاتھ جو آہوہیں خوش ہو گیا کرتے ہی وہ ہاتھوں پہ نگاہغور سے ہم نے جو اس بات کو دیکھا واللہکچھ خوشامد ہی بڑی چیز ہے اللہ اللہجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضیپینے اور پہننے کھانے کی خوشامد کیجےہیجڑے بھانڈ زنانے کی خوشامد کیجےمست و ہشیار دوانے کی خوشامد کیجےبھولے نادان سیانے کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےعیش کرتے ہیں وہی جن کا خوشامد کا مزاججو نہیں کرتے وہ رہتے ہیں ہمیشہ محتاجہاتھ آتا ہے خوشامد سے مکاں ملک اور تاجکیا ہی تاثیر کی اس نسخے نے پائی ہے رواججو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےگر بھلا ہو تو بھلے کی بھی خوشامد کیجےاور برا ہو تو برے کی بھی خوشامد کیجےپاک ناپاک سڑے کی بھی خوشامد کیجےکتے بلی و گدھے کی بھی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےخوب دیکھا تو خوشامد کی بڑی کھیتی ہےغیر کی اپنے ہی گھر بیچ یہ سکھ دیتی ہےماں خوشامد کے سبب چھاتی لگا لیتی ہےنانی دادی بھی خوشامد سے دعا دیتی ہےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےبی بی کہتی ہے میاں آ ترے صدقے جاؤںساس بولے کہیں مت جا ترے صدقے جاؤںخالہ کہتی ہے کہ کچھ کھا ترے صدقے جاؤںسالی کہتی ہے کہ بھیا ترے صدقے جاؤںجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےآ پڑا ہے جو خوشامد سے سروکار اسےڈھونڈتے پھرتے ہیں الفت کے خریدار اسےآشنا ملتے ہیں اور چاہے ہیں سب یار اسےاپنے بیگانے غرض کرتے ہیں سب پیار اسےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےروکھی اور روغنی آبی کو خوشامد کیجےنان بائی و کبابی کی خوشامد کیجےساقی و جام شرابی کی خوشامد کیجےپارسا رند خرابی کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا اراضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےجو کہ کرتے ہیں خوشامد وہ بڑے ہیں انساںجو نہیں کرتے وہ رہتے ہیں ہمیشہ حیراںہاتھ آتے ہیں خوشامد سے ہزاروں ساماںجس نے یہ بات نکالی ہے میں اس کے قرباںجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےکوڑی پیسے و ٹکے زر کی خوشامد کیجےلعل و نیلم در و گوہر کی خوشامد کیجےاور جو پتھر ہو تو پتھر کی خوشامد کیجےنیک و بد جتنے ہیں یک سر کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےہم نے ہر دل کی خوشامد کی محبت دیکھیپیار اخلاص و کرم مہر مروت دیکھیدلبروں میں بھی خوشامد ہی کی الفت دیکھیعاشقوں میں بھی خوشامد ہی کی چاہت دیکھیجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےپارسا پیر ہے زاہد ہے منا جاتی ہےجواریا چور دغاباز خراباتی ہےماہ سے ماہی تلک چیونٹی ہے یا ہاتھی ہےیہ خوشامد تو میاں سب کے تئیں بھاتی ہےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےگر نہ میٹھی ہو تو کڑوی بھی خوشامد کیجےکچھ نہ ہو پاس تو خالی بھی خوشامد کیجےجانی دشمن ہو تو اس کی خوشامد کیجےسچ اگر پوچھو تو جھوٹی بھی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےمرد و زن طفل و جواں خورد و کلاں پیر و فقیرجتنے عالم میں ہیں محتاج و گدا شاہ وزیرسب کے دل ہوتے ہیں پھندے میں خوشامد کے اسیرتو بھی واللہ بڑی بات یہ کہتا ہے نظیرؔجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
اے مجاز اے ترانہ بار مجاززندہ پیغمبر بہار مجازاے بروۓ سمن وشاں گل پوشاے بہ کوۓ مغاں تمام خروشاے پرستار مہ رخان جہاںاے کماں دار شاعران جواںتجھ سے تاباں جبین مستقبلاے مرے سینۂ امید کے دلاے مجاز اے مبصر خد و خالاے شعور جمال و شمع خیالاے ثریا فریب و زہرہ نوازشاعر مست و رند شاہد بازناقد عشوۂ شباب ہے توصبح فردا کا آفتاب ہے توتجھ کو آیا ہوں آج سمجھانےحیف ہے تو اگر برا مانےخود کو غرق شراب ناب نہ کردیکھ اپنے کو یوں خراب نہ کرشاعری کو تری ضرورت ہےدور فردا کی تو امانت ہےصرف تیری بھلائی کو اے جاںبن کے آیا ہوں ناصح ناداںایک ٹھہراؤ اک تکان ہے تودیکھ کس درجہ دھان پان ہے توننگ ہے محض استخواں ہوناسخت اہانت ہے ناتواں ہونااستخوانی بدن دخانی پوستایک سنگین جرم ہے اے دوستشرم کی بات ہے وجود سقیمناتوانی ہے اک گناہ عظیمجسم اور علم طرفہ طاقت ہےیہی انسان کی نبوت ہےجو ضعیف و علیل ہوتا ہےعشق میں بھی ذلیل ہوتا ہےہر ہنر کو جو ایک دولت ہےعلم اور جسم کی ضرورت ہےکثرت بادہ رنگ لاتی ہےآدمی کو لہو رلاتی ہےخوش دلوں کو رلا کے ہنستی ہےشمع اختر بجھا کے ہنستی ہےاور جب آفت جگر پہ لاتی ہےرند کو مولوی بناتی ہےمے سے ہوتا ہے مقصد دل فوتمے ہے بنیاد مولویت و موتکان میں سن یہ بات ہے نشترمولویت ہے موت سے بد تراس سے ہوتا ہے کار عمر تماماس سے ہوتا ہے عقل کو سرساماس میں انساں کی جان جاتی ہےاس میں شاعر کی آن جاتی ہےیہ زمین آسمان کیا شے ہےآن جائے تو جان کیا شے ہےگوہر شاہ وار چن پیارےمجھ سے اک گر کی بات سن پیارےغم تو بنتا ہے چار دن میں نشاطشادمانی سے رہ بہت محتاطغم کے مارے تو جی رہے ہیں ہزارنہیں بچتے ہیں عیش کے بیمارآن میں دل کے پار ہوتی ہےپنکھڑی میں وہ دھار ہوتی ہےجوئے عشرت میں غم کے دھارے ہیںیخ و شبنم میں بھی شرارے ہیںہاں سنبھل کر لطافتوں کو برتٹوٹ جائے کہیں نہ کوئی پرتدیکھ کر شیشۂ نشاط اٹھایہ ورق ہے ورق ہے سونے کاکاغذ باد یہ نگینہ ہےبلکہ اے دوست آبگینہ ہےساغر شبنم خوش آب ہے یہآبگینہ نہیں حباب ہے یہروک لے سانس جو قریب آئےٹھیس اس کو کہیں نہ لگ جائےتیغ مستی کو احتیاط سے چھوورنہ ٹپکے گا انگلیوں سے لہومستیوں میں ہے تاب جلوۂ ماہاور سیہ مستیاں خدا کی پناہخوب ہے ایک حد پہ قائم نشہہلکا پھلکا سبک ملائم نشہہاں ادب سے اٹھا ادب سے جامتاکہ آب حلال ہو نہ حرامجام پر جام جو چڑھاتے ہیںاونٹ کی طرح بلبلاتے ہیںزندگی کی ہوس میں مرتے ہیںمے کو رسوائے دہر کرتے ہیںیاد ہے جب جگرؔ چڑھاتے تھےکیا الف ہو کے ہن ہناتے تھےمیری گردن میں بھر کے چند آہیںپاؤں سے ڈالتے تھے وہ بانہیںعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیاف گھٹا ٹوپ نشے کا طوفانبھوت عفریت دیو جن شیطانلات گھونسہ چھڑی چھری چاقولب لباہٹ لعاب کف بدبوطنز آوازہ برہمی افسادطعن تشنیع مضحکہ ایرادشور ہو حق ابے تبے ہے ہےاوکھیاں گالیاں دھماکے قےمس مساہٹ غشی تپش چکرسوز سیلاب سنسنی صرصرچل چخے چیخ چناں چنیں چنگھاڑچخ چخے چاؤں چاؤں چیل چلھاڑلپا ڈکی لتام لام لڑائیہول ہیجان ہانک ہاتھا پائیکھلبلی کاؤں کاؤں کھٹ منڈلہونک ہنگامہ ہمہمہ ہلچلالجھن آوارگی ادھم اینٹھنبھونک بھوں بھوں بھنن بھنن بھن بھندھول دھپا دھکڑ پکڑ دھتکارتہلکہ تو تڑاق تف تکراربو بھبھک بھیے بکس برر بھونچالدبدبے دندناہٹیں دھمالگاہ نرمی و لطف و مہر و سلامگاہ تلخی و ترشی و دشنامعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیصرف نشے کی بھیگنے دے مسیںان کو بننے نہ دے کبھی مونچھیںالاماں خوفناک کالا نشہاوہ ریش و بروت والا نشہاژدر مرگ او دیو خوں خواریالاماں نشۂ ''جٹادھاری''نشے کا جھٹ پٹا ہے نور حیاتجھٹپٹے کو بنا نہ کالی راتنشے کی تیز روشنی بھی غلطچودھویں کی سی چاندنی بھی غلطذہن انساں کو بخشتا ہے جمالنشہ ہو جب یہ قدر نور ہلالغرفۂ عقل بھیڑ تو اکثرپر اسے کچ کچا کے بند نہ کررات کو لطف جام ہے پیارےدن کا پینا حرام ہے پیارےدن ہے عفریت آز کی کھنکارات پازیب نازکی جھنکاردن ہے خاشاک خاک دھول دھواںرات آئینہ انجمن افشاںدن مسلح دواں کمر بستہرات طاق و رواق و گلدستہدن ہے فولاد سنگ تیغ علمرات کمخواب پنکھڑی شبنمدن ہے شیون دہائیاں دکھڑےرات مست انکھڑیاں جواں مکھڑےدن کڑی دھوپ کی بد آہنگیرات پچھلے پہر کی سارنگیدن بہادر کا بان بیر کی رتھرات چمپاکلی انگوٹھی نتھدن ہے طوفان جنبش و رفتاررات میزان کاکل و رخسارآفتاب و شراب ہیں بیریبوتلیں دن کو ہیں پچھل پیریکر نہ پامال حرمت اوقاترات کو دن بنا نہ دن کو راتپی مگر صرف شام کے ہنگاماور وہ بھی بہ قدر یک دو جاموہی انساں ہے خرم و خورسندجو ہے مقدار و وقت کا پابندمیرے پینے ہی پر نہ جا مری جاںمجھ سے جینا بھی سیکھ ہیں قرباںاس کے پینے میں رنگ آتا ہےجس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہےیہ نصائح بہت ہیں بیش بہاجلد سو جلد جاگ جلد نہاباغ میں جا طلوع سے پہلےتا نگار سحر سے دل بہلےسرو و شمشاد کو گلے سے لگاہر چمن زاد کو گلے سے لگامنہ اندھیرے فضائے گلشن دیکھساحل و سبزہ زار و سوسن دیکھگاہ آوارہ ابر پارے دیکھان کی رفتار میں ستارے دیکھجیسے کہرے میں تاب روئے نکوجیسے جنگل میں رات کو جگنوگل کا منہ چوم اک ترنم سےنہر کو گدگدا تبسم سےجسم کو کر عرق سے نم آلودتاکہ شبنم پڑھے لہک کے درودپھینک سنجیدگی کا سر سے بارناچ اچھل دندنا چھلانگیں ماردیکھ آب رواں کا آئینہدوڑ ساحل پہ تان کر سینہمست چڑیوں کا چہچہانا سنموج نو مشق کا ترانہ سنبوستاں میں صبا کا چلنا دیکھسبزہ و سرو کا مچلنا دیکھشبنم آلود کر سخن کا لباسچکھ دھندلکے میں بوئے گل کی مٹھاسشاعری کو کھلا ہوائے سحراس کا نفقہ ہے تیری گردن پررقص کی لہر میں ہو گم لب نہریوں ادا کر عروس شعر کا مہرجذب کر بوستاں کے نقش و نگارذہن میں کھول مصر کا بازارنرم جھونکوں کا آب حیواں پیبوئے گل رنگ شبنمستاں پیگن گنا کر نظر اٹھا کر پیصبح کا شیر دغدغہ کر پیتاکہ مجرے کو آئیں کل برکاتدولت جسم و علم و عقل و حیاتیہ نہ طعنہ نہ یہ الہنا ہےایک نکتہ بس اور کہنا ہےغیبت نور ہو کہ کثرت نورظلمت تام ہو کہ شعلۂ طورایک سا ہے وبال دونوں کاتیرگی ہے مآل دونوں کادرخور صاحب مآل نہیںہر وہ شے جس میں اعتدال نہیںشادمانی سے پی نہیں سکتاجس کو ہوکا ہو جی نہیں سکتااے پسر اے برادر اے ہم رازبن نہ اس طرح دور کی آوازکوئی بیمار تن نہیں سکتاخادم خلق بن نہیں سکتاخدمت خلق فرض ہے تجھ پردور ماضی کا قرض ہے تجھ پرعصر حاضر کے شاعر خوددارقرض داری کی موت سے ہشیارذہن انسانیت ابھار کے جازندگانی کا قرض اتار کے جاتجھ پہ ہندوستان ناز کرےعمر تیری خدا دراز کرے
گم ہے اک کیف میں فضائے حیاتخامشی سجدۂ نیاز میں ہےحسن معصوم خواب ناز میں ہےاے کہ تو رنگ و بو کا طوفاں ہےاے کہ تو جلوہ گر بہار میں ہےزندگی تیرے اختیار میں ہےپھول لاکھوں برس نہیں رہتےدو گھڑی اور ہے بہار شبابآ کہ کچھ دل کی سن سنا لیں ہمآ محبت کے گیت گا لیں ہممیری تنہائیوں پہ شام رہے؟حسرت دید ناتمام رہے؟دل میں بیتاب ہے صدائے حیاتآنکھ گوہر نثار کرتی ہےآسماں پر اداس ہیں تارےچاندنی انتظار کرتی ہےآ کہ تھوڑا سا پیار کر لیں ہمزندگی زرنگار کر لیں ہم
قوم نے پیغام گوتم کی ذرا پروا نہ کیقدر پہچانی نہ اپنے گوہر یک دانہ کیآہ بد قسمت رہے آواز حق سے بے خبرغافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجرآشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھاہند کو لیکن خیالی فلسفے پر ناز تھاشمع حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھیبارش رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھیآہ شودر کے لئے ہندوستاں غم خانہ ہےدرد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہےبرہمن سرشار ہے اب تک مے پندار میںشمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میںبت کدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوانور ابراہیم سے آذر کا گھر روشن ہواپھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سےہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے
پھولوں پہ رقص اور نہ بہاروں پہ رقص کرگلزار ہست و بود میں خاروں پہ رقص کرہو کر جمود گلشن جنت سے بے نیازدوزخ کے بے پناہ شراروں پہ رقص کرشمع سحر فسون تبسم، حیات گلفطرت کے ان عجیب نظاروں پہ رقص کرتنظیم کائنات جنوں کی ہنسی اڑااجڑے ہوئے چمن کی بہاروں پہ رقص کرسہمی ہوئی صدائے دل ناتواں نہ سنبہکی ہوئی نظر کے اشاروں پر رقص کرجو مر کے جی رہے تھے تجھے ان سے کیا غرضتو اپنے عاشقوں کے مزاروں پہ رقص کرہر ہر ادا ہو روح کی گہرائیوں میں گمیوں رنگ و بو کی راہ گزاروں پہ رقص کرتو اپنی دھن میں مست ہے تجھ کو بتائے کونتیری زمیں فلک ہے ستاروں پر رقص کراس طرح رقص کر کہ سراپا اثر ہو توکوئی نظر اٹھائے تو پیش نظر ہو تو
قول ہر نکلا زباں سے جو تری شہداب ہےاور لبوں کا تل کتاب عشق کا اک باب ہےہے مصور کی ترے انگ انگ میں گل کاریاںمعجزہ لگتی ہے تیرے حسن کی رنگینیاںگوہر نایاب ہے زرتاب ہے چہرہ تراکیا کہوں بس منظر نایاب ہے چہرہ ترا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books