aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "hoor"
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
مرے رب کی مجھ پر عنایت ہوئیکہوں بھی تو کیسے عبادت ہوئی
وہ کتاب حسن وہ علم و ادب کی طالبہوہ مہذب وہ مؤدب وہ مقدس راہبہکس قدر پیرایہ پرور اور کتنی سادہ کارکس قدر سنجیدہ و خاموش کتنی با وقارگیسوئے پر خم سواد دوش تک پہنچے ہوئےاور کچھ بکھرے ہوئے الجھے ہوئے سمٹے ہوئےرنگ میں اس کے عذاب خیرگی شامل نہیںکیف احساسات کی افسردگی شامل نہیںوہ مرے آتے ہی اس کی نکتہ پرور خامشیجیسے کوئی حور بن جائے یکایک فلسفیمجھ پہ کیا خود اپنی فطرت پر بھی وہ کھلتی نہیںایسی پر اسرار لڑکی میں نے دیکھی ہی نہیںدختران شہر کی ہوتی ہے جب محفل کہیںوہ تعارف کے لیے آگے کبھی بڑھتی نہیں
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی شفق کے سایوں میںدن رات کے دامن ملتے ہیںکیا اب بھی چمن میں ویسے ہیخوش رنگ شگوفے کھلتے ہیںبرساتی ہوا کی لہروں سےبھیگے ہوئے پودے ہلتے ہیںاو دیس سے آنے والے بتا
عروس شب کی زلفیں تھیں ابھی ناآشنا خم سےستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سےقمر اپنے لباس نو میں بیگانہ سا لگتا تھانہ تھا واقف ابھی گردش کے آئین مسلم سےابھی امکاں کے ظلمت خانے سے ابھری ہی تھی دنیامذاق زندگی پوشیدہ تھا پہنائے عالم سےکمال نظم ہستی کی ابھی تھی ابتدا گویاہویدا تھی نگینے کی تمنا چشم خاتم سےسنا ہے عالم بالا میں کوئی کیمیا گر تھاصفا تھی جس کی خاک پا میں بڑھ کر ساغر جم سےلکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اکسیر کا نسخہچھپاتے تھے فرشتے جس کو چشم روح آدم سےنگاہیں تاک میں رہتی تھیں لیکن کیمیا گر کیوہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسم اعظم سےبڑھا تسبیح خوانی کے بہانے عرش کی جانبتمنائے دلی آخر بر آئی سعی پیہم سےپھرایا فکر اجزا نے اسے میدان امکاں میںچھپے گی کیا کوئی شے بارگاہ حق کے محرم سےچمک تارے سے مانگی چاند سے داغ جگر مانگااڑائی تیرگی تھوڑی سی شب کی زلف برہم سےتڑپ بجلی سے پائی حور سے پاکیزگی پائیحرارت لی نفس ہائے مسیح ابن مریم سےذرا سی پھر ربوبیت سے شان بے نیازی لیملک سے عاجزی افتادگی تقدیر شبنم سےپھر ان اجزا کو گھولا چشمۂ حیواں کے پانی میںمرکب نے محبت نام پایا عرش اعظم سےمہوس نے یہ پانی ہستئ نوخیز پر چھڑکاگرہ کھولی ہنر نے اس کے گویا کار عالم سےہوئی جنبش عیاں ذروں نے لطف خواب کو چھوڑاگلے ملنے لگے اٹھ اٹھ کے اپنے اپنے ہم دم سےخرام ناز پایا آفتابوں نے ستاروں نےچٹک غنچوں نے پائی داغ پائے لالہ زاروں نے
خوب پہچان لو اسرار ہوں میںجنس الفت کا طلب گار ہوں میںعشق ہی عشق ہے دنیا میریفتنۂ عقل سے بیزار ہوں میںخواب عشرت میں ہیں ارباب خرداور اک شاعر بیدار ہوں میںچھیڑتی ہے جسے مضراب المساز فطرت کا وہی تار ہوں میںرنگ نظارۂ قدرت مجھ سےجان رنگینئ کہسار ہوں میںنشۂ نرگس خوباں مجھ سےغازۂ عارض و رخسار ہوں میںعیب جو حافظ و خیام میں تھاہاں کچھ اس کا بھی گنہ گار ہوں میںزندگی کیا ہے گناہ آدمزندگی ہے تو گنہ گار ہوں میںرشک صد ہوش ہے مستی میریایسی مستی ہے کہ ہشیار ہوں میںلے کے نکلا ہوں گہر ہائے سخنماہ و انجم کا خریدار ہوں میںدیر و کعبہ میں مرے ہی چرچےاور رسوا سر بازار ہوں میںکفر و الحاد سے نفرت ہے مجھےاور مذہب سے بھی بیزار ہوں میںاہل دنیا کے لیے ننگ سہیرونق انجمن یار ہوں میںعین اس بے سر و سامانی میںکیا یہ کم ہے کہ گہر بار ہوں میںمیری باتوں میں مسیحائی ہےلوگ کہتے ہیں کہ بیمار ہوں میںمجھ سے برہم ہے مزاج پیریمجرم شوخئ گفتار ہوں میںحور و غلماں کا یہاں ذکر نہیںنوع انساں کا پرستار ہوں میںمحفل دہر پہ طاری ہے جموداور وارفتۂ رفتار ہوں میںاک لپکتا ہوا شعلہ ہوں میںایک چلتی ہوئی تلوار ہوں میں
وہ نوخیز نورا وہ اک بنت مریموہ مخمور آنکھیں وہ گیسوئے پر خموہ ارض کلیسا کی اک ماہ پارہوہ دیر و حرم کے لیے اک شرارہوہ فردوس مریم کا اک غنچۂ تروہ تثلیث کی دختر نیک اختروہ اک نرس تھی چارہ گر جس کو کہیےمداوائے درد جگر جس کو کہیےجوانی سے طفلی گلے مل رہی تھیہوا چل رہی تھی کلی کھل رہی تھیوہ پر رعب تیور وہ شاداب چہرہمتاع جوانی پہ فطرت کا پہرہمری حکمرانی ہے اہل زمیں پریہ تحریر تھا صاف اس کی جبیں پرسفید اور شفاف کپڑے پہن کرمرے پاس آتی تھی اک حور بن کروہ اک آسمانی فرشتہ تھی گویاکہ انداز تھا اس میں جبریل کا ساوہ اک مرمریں حور خلد بریں کیوہ تعبیر آذر کے خواب حسیں کیوہ تسکین دل تھی سکون نظر تھینگار شفق تھی جمال نظر تھیوہ شعلہ وہ بجلی وہ جلوہ وہ پرتوسلیماں کی وہ اک کنیز سبک روکبھی اس کی شوخی میں سنجیدگی تھیکبھی اس کی سنجیدگی میں بھی شوخیگھڑی چپ گھڑی کرنے لگتی تھی باتیںسرہانے مرے کاٹ دیتی تھی راتیںعجب چیز تھی وہ عجب راز تھی وہکبھی سوز تھی وہ کبھی ساز تھی وہنقاہت کے عالم میں جب آنکھ اٹھتینظر مجھ کو آتی محبت کی دیویوہ اس وقت اک پیکر نور ہوتیتخیل کی پرواز سے دور ہوتیہنساتی تھی مجھ کو سلاتی تھی مجھ کودوا اپنے ہاتھوں سے مجھ کو پلاتیاب اچھے ہو ہر روز مژدہ سناتیسرہانے مرے ایک دن سر جھکائےوہ بیٹھی تھی تکیے پہ کہنی ٹکائےخیالات پیہم میں کھوئی ہوئی سینہ جاگی ہوئی سی نہ سوئی ہوئی سیجھپکتی ہوئی بار بار اس کی پلکیںجبیں پر شکن بے قرار اس کی پلکیںوہ آنکھوں کے ساغر چھلکتے ہوئے سےوہ عارض کے شعلے بھڑکتے ہوئے سےلبوں میں تھا لعل و گہر کا خزانہنظر عارفانہ ادا راہبانہمہک گیسوؤں سے چلی آ رہی تھیمرے ہر نفس میں بسی جا رہی تھیمجھے لیٹے لیٹے شرارت کی سوجھیجو سوجھی بھی تو کس قیامت کی سوجھیذرا بڑھ کے کچھ اور گردن جھکا لیلب لعل افشاں سے اک شے چرا لیوہ شے جس کو اب کیا کہوں کیا سمجھیےبہشت جوانی کا تحفہ سمجھیےشراب محبت کا اک جام رنگیںسبو زار فطرت کا اک جام رنگیںمیں سمجھا تھا شاید بگڑ جائے گی وہہواؤں سے لڑتی ہے لڑ جائے گی وہمیں دیکھوں گا اس کے بپھرنے کا عالمجوانی کا غصہ بکھرنے کا عالمادھر دل میں اک شور محشر بپا تھامگر اس طرف رنگ ہی دوسرا تھاہنسی اور ہنسی اس طرح کھلکھلا کرکہ شمع حیا رہ گئی جھلملا کرنہیں جانتی ہے مرا نام تک وہمگر بھیج دیتی ہے پیغام تک وہیہ پیغام آتے ہی رہتے ہیں اکثرکہ کس روز آؤ گے بیمار ہو کر
انہی صحراؤں میں وہ اپنے گلے کو چراتی تھیانہیں چشموں پہ وہ ہر روز منہ دھونے کو آتی تھیانہی ٹیلوں کے دامن میں وہ آزادانہ رہتی تھییہی وادی ہے وہ ہم دم جہاں ریحانہؔ رہتی تھی
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
گرچہ لکھی ہوئی تھی شہادت امام کیلیکن میرے حسین نے حجت تمام کی
سہانی نمود جہاں کی گھڑی تھیتبسم فشاں زندگی کی کلی تھیکہیں مہر کو تاج زر مل رہا تھاعطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھیسیہ پیرہن شام کو دے رہے تھےستاروں کو تعلیم تابندگی تھیکہیں شاخ ہستی کو لگتے تھے پتےکہیں زندگی کی کلی پھوٹتی تھیفرشتے سکھاتے تھے شبنم کو روناہنسی گل کو پہلے پہل آ رہی تھیعطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کوخودی تشنہ کام مے بے خودی تھیاٹھی اول اول گھٹا کالی کالیکوئی حور چوٹی کو کھولے کھڑی تھیزمیں کو تھا دعویٰ کہ میں آسماں ہوںمکاں کہہ رہا تھا کہ میں لا مکاں ہوںغرض اس قدر یہ نظارہ تھا پیاراکہ نظارگی ہو سراپا نظاراملک آزماتے تھے پرواز اپنیجبینوں سے نور ازل آشکارافرشتہ تھا اک عشق تھا نام جس کاکہ تھی رہبری اس کی سب کا سہارافرشتہ کہ پتلا تھا بے تابیوں کاملک کا ملک اور پارے کا پاراپئے سیر فردوس کو جا رہا تھاقضا سے ملا راہ میں وہ قضا رایہ پوچھا ترا نام کیا کام کیا ہےنہیں آنکھ کو دید تیری گواراہوا سن کے گویا قضا کا فرشتہاجل ہوں مرا کام ہے آشکارااڑاتی ہوں میں رخت ہستی کے پرزےبجھاتی ہوں میں زندگی کا شرارامری آنکھ میں جادوئے نیستی ہےپیام فنا ہے اسی کا اشارامگر ایک ہستی ہے دنیا میں ایسیوہ آتش ہے میں سامنے اس کے پاراشرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل میںوہ ہے نور مطلق کی آنکھوں کا تاراٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسووہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گواراسنی عشق نے گفتگو جب قضا کیہنسی اس کے لب پر ہوئی آشکاراگری اس تبسم کی بجلی اجل پراندھیرے کا ہو نور میں کیا گزارابقا کو جو دیکھا فنا ہو گئی وہقضا تھی شکار قضا ہو گئی وہ
تجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےوقت کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہےاے مرے سوچ نگر کی رانی اے مرے خلد خیال کی حوراتنے دنوں جو میں گھلتا رہا ہوں تیرے بنا یونہی دور ہی دورسوچ تو کیا پھل مجھ کو ملا میں من سے گیا پھر تن سے گیاشہر وطن میں اجنبی ٹھہرا آخر شہر وطن سے گیاروح کی پیاس بجھانی تھی پر یہاں ہونٹوں کی پیاس بھی بجھ نہ سکیبچتے سنبھلتے بھی ایک سلگتا روگ بنی مرے جی کی لگیدور کی بات نہ سوچ ابھی مرے ہات میں تو ذرا ہات تو دےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیےباغ میں ہے اک بیلے کا تختہ بھینی ہے اس بیلے کی سگندھاے کلیو کیوں اتنے دنوں تم رکھے رہیں اسے گود میں بندکتنے ہی ہم سے روپ کے رسیا آئے یہاں اور چل بھی دیئےتم ہو کہ اتنے حسن کے ہوتے ایک نہ دامن تھام سکےصحن چمن پر بھونروں کے بادل ایک ہی پل کو چھائیں گےپھر نہ وہ جا کر لوٹ سکیں گے پھر نہ وہ جا کر آئیں گےاے مرے سوچ نگر کی رانی وقت کی باتیں رنگ اور بوہر کوئی ساتھ کسی کا ڈھونڈے گل ہوں کہ بیلے میں ہوں کہ توجو کچھ کہنا ہے ابھی کہہ لے جو کچھ سننا ہے سن لےتجھ سے جو میں نے پیار کیا ہے تیرے لیے؟ نہیں اپنے لیے
گناہ کے تند و تیز شعلوں سے روح میری بھڑک رہی تھیہوس کی سنسان وادیوں میں مری جوانی بھٹک رہی تھیمری جوانی کے دن گزرتے تھے وحشت آلود عشرتوں میںمری جوانی کے مے کدوں میں گناہ کی مے چھلک رہی تھیمرے حریم گناہ میں عشق دیوتا کا گزر نہیں تھامرے فریب وفا کے صحرا میں حور عصمت بھٹک رہی تھیمجھے خس ناتواں کے مانند ذوق عصیاں بہا رہا تھاگناہ کی موج فتنہ ساماں اٹھا اٹھا کر پٹک رہی تھیشباب کے اولیں دنوں میں تباہ و افسردہ ہو چکے تھےمرے گلستاں کے پھول جن سے فضائے طفلی مہک رہی تھیغرض جوانی میں اہرمن کے طرب کا سامان بن گیا میںگنہ کی آلائشوں میں لتھڑا ہوا اک انسان بن گیا میں
فریادئی جفائے ایام ہو رہا ہوںپامال جور بخت ناکام ہو رہا ہوںسرگشتۂ خیال انجام ہو رہا ہوںبستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںبد نام ہو رہا ہوںسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںسلمیٰ سے دل لگا کر سلمیٰ سے دل لگا کراس حوروش کے غم میں دنیا و دیں گنوا کرہوش و حواس کھو کر صبر و سکوں لٹا کربیٹھے بٹھائے دل میں غم کی خلش بسا کرہر چیز کو بھلا کرسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںکہتی ہیں سب یہ کس کی تڑپا گئی ہے صورتسلمیٰ کی شاید اس کے من بھا گئی ہے صورتاور اس کے غم میں اتنی مرجھا گئی ہے صورتمرجھا گئی ہے صورت کمھلا گئی ہے صورتسنولا گئی ہے صورتسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںپنگھٹ پہ جب کہ ساری ہوتی ہیں جمع آ کرگاگر کو اپنی رکھ کر، گھونگھٹ اٹھا اٹھا کریہ قصہ چھیڑتی ہیں مجھ کو بتا بتا کرسلمیٰ سے باتیں کرتے دیکھا ہے اس کو جا کرہم نے نظر بچا کرسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںراتوں کو گیت گانے جب مل کر آتی ہیں سبتالاب کے کنارے دھومیں مچاتی ہیں سبجنگل کی چاندنی میں منگل مناتی ہیں سبتو میرے اور سلمیٰ کے گیت گاتی ہیں سباور ہنستی جاتی ہیں سبسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںکھیتوں سے لوٹتی ہیں جب دن چھپے مکاں کوتب راستے میں باہم وہ میری داستاں کودہرا کے چھیڑتی ہیں سلمیٰ کو میری جاں کواور وہ حیا کی ماری سی لیتی ہے زباں کوکہ چھیڑے اس بیاں کوسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںکہتی ہے رحم کھا کر یوں ایک ماہ طلعتیہ شہری نوجواں تھا کس درجہ خوبصورتآنکھوں میں بس رہی ہے اب بھی وہ پہلی رنگتدو دن میں آہ کیا ہے کیا ہو گئی ہے حالتاللہ تیری قدرتسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاس شمع رو کا جب سے پروانہ بن گیا ہوںبستی کی لڑکیوں میں افسانہ بن گیا ہوںہر ماہ وش کے لب کا پیمانہ بن گیا ہوںدیوانہ ہو رہا ہوں دیوانہ بن گیا ہوںدیوانہ بن گیا ہوںسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںان کی زباں پہ میری جتنی کہانیاں ہیںکیا جانیں یہ کہ دل کی سب مہربانیاں ہیںکمسن ہیں بے خبر ہیں اٹھتی جوانیاں ہیںکیا سمجھیں غم کے ہاتھوں کیوں سر گرانیاں ہیںکیوں خوں فشانیاں ہیںسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںہر اک کے رحم کا یوں اظہار ہو رہا ہےبے چارے کو یہ کیسا آزار ہو رہا ہےدیکھے تو کوئی جانے بیمار ہو رہا ہےکس درجہ زندگی سے بیزار ہو رہا ہےناچار ہو رہا ہےسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاک پوچھتی ہے آ کر تم بے قرار کیوں ہوکچھ تو ہمیں بتاؤ یوں دل فگار کیوں ہوکیا روگ ہے کہو تو تم اشک بار کیوں ہودیوانے کیوں ہوئے ہو دیوانہ وار کیوں ہوبا حال زار کیوں ہوسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںجاؤں شکار کو گر باہمرہان صحراکھیتوں سے گھورتی ہیں یوں دختران صحرابجلی کی روشنی کو جیسے میان صحراتاریک شب میں دیکھیں کچھ آہوان صحراحیرت کشان صحراسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاک شوخ چھیڑتی ہے اس طرح پاس آ کردیکھو وہ جا رہی ہے سلمیٰ نظر بچا کرشرما کے مسکرا کر آنچل سے منہ چھپا کرجاؤ نا پیچھے پیچھے دو باتیں کر لو جا کرکھیتوں میں چھپ چھپا کرسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںگویا ہمیں حسد سے کچھ نازنین نگاہیںسلمیٰ کی بھا گئی ہیں کیوں دل نشیں نگاہیںان سے زیادہ دل کش ہیں یہ حسیں نگاہیںالقصہ ایک دل ہے سو خشمگیں نگاہیںشوق آفریں نگاہیںسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوںاک شوخ تازہ دارد سسرال سے گھر آ کرسکھیوں سے پوچھتی ہے جس دم مجھے بتا کریہ کون ہے تو ظالم کہتی ہیں مسکرا کرتم اس کا حال پوچھو سلمیٰ کے دل سے جا کریہ گیت اسے سنا کرسلمیٰ سے دل لگا کربستی کی لڑکیوں میں بدنام ہو رہا ہوں
رات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہیںجھلملاتے ہوئے کمزور ستارے یہ کہے جاتے ہیںچاند آئے گا تو سائے بھی چلے آئیں گےرات کے پھیلے اندھیرے میں کوئی سایہ نہیں ہوتا ہے
آج وہ آخری تصویر جلا دی ہم نےجس سے اس شہر کے پھولوں کی مہک آتی تھیجس سے بے نور خیالوں پہ چمک آتی تھیکعبۂ رحمت اصنام تھا جو مدت سےآج اس قصر کی زنجیر ہلا دی ہم نےآگ، کاغذ کے چمکتے ہوئے سینے پہ بڑھیخواب کی لہر میں بہتے ہوئے آئے ساحلمسکراتے ہوئے ہونٹوں کا سلگتا ہوا کربسرسراتے ہوئے لمحوں کے دھڑکتے ہوئے دلجگمگاتے ہوئے آویزاں کی مبہم فریاددشت غربت میں کسی حجلہ نشیں کا محملایک دن روح کا ہر تار صدا دیتا تھاکاش ہم بک کے بھی اس جنس گراں کو پا لیںخود بھی کھو جائیں پر اس رمز نہاں کو پا لیںعقل اس حور کے چہرے کی لکیروں کو اگرآ مٹاتی تھی تو دل اور بنا دیتا تھااور اب یاد کے اس آخری پیکر کا طلسمقصۂ رفتہ بنا زیست کی ماتوں سے ہوادور اک کھیت پہ بادل کا ذرا سا ٹکڑادھوپ کا ڈھیر ہوا دھوپ کے ہاتوں سے ہوااس کا پیار اس کا بدن اس کا مہکتا ہوا روپآگ کی نذر ہوا اور انہی باتوں سے ہوا
یہ مئی کی پہلی، دن ہے بندۂ مزدور کامدتوں کے بعد دیکھا اس نے جلوہ حور کایہ جو رشتہ دار تھا ہم سب کا لیکن دور کامل کے مالک نے اسے رتبہ دیا منصور کاجب لگایا حق کا نعرہ دار پر کھینچا گیانخل صنعت اس کے خوں کی دھار پر سینچا گیا
کیا روح فزا جلوۂ رخسار سحر ہےکشمیر دل زار ہے فردوس نظر ہےہر پھول کا چہرہ عرق حسن سے تر ہےہر چیز میں اک بات ہے ہر شے میں اثر ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books