امرتسر آزادی کے بعد

کرشن چندر

امرتسر آزادی کے بعد

کرشن چندر

MORE BYکرشن چندر

    پندرہ اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد ہوا۔ پاکستان آزاد ہوا۔ پندرہ اگست 1947ء کو ہندوستان بھرمیں جشن آزادی منایا جا رہا تھا اور کراچی میں آزاد پاکستان کے فرحت ناک نعرے بلند ہو رہے تھے۔ پندرہ اگست 1947ء کو لاہور جل رہا تھا اور امرت سر میں ہندو مسلم ،سکھ عوام فرقہ وارانہ فساد کی ہولناک لپیٹ میں آ چکے تھے ۔کیونکہ کسی نے پنجاب کے عوام سے نہیں پوچھا تھا کہ تم الگ رہنا چاہتے ہو یا مل جل کے، جیسا تم صدیوں سے رہتے چلے آئے ہو۔

    صدیوں پہلے مطلق العنانی کا دور دورہ تھا اور کسی نے عوام سے کبھی نہ پوچھا تھا پھر انگریزوں نے اپنے سامراج کی بنیاد ڈالی اور انہوں نے پنجاب سے سپاہی اور گھوڑے اپنی فوج میں بھرتی کئے اور اس کے عوض پنجاب کو نہریں، پنشنیں عطا فرمائیں لیکن انہوں نے بھی پنجابی عوام سے یہ سب کچھ پوچھ کے تھوڑی کیا تھا۔

    اس کے بعد سیاسی شعور آیا اور سیاسی شعور کے ساتھ جمہوریت آئی اور جمہوریت کے ساتھ جمہوری سیاست دان آئے اور سیاسی جماعتیں آئیں لیکن فیصلہ کرتے وقت انہوں نے پنجابی عوام سے کچھ نہ پوچھا۔ ایک نقشہ سامنے رکھ کر پنجاب کی سرزمین کے نوک قلم سے دو ٹکڑے کر دئیے۔ فیصلہ کرنے والے سیاست دان گجراتی تھے۔ کشمیری تھے۔ اس لئے پنجاب کے نقشے کو سامنے رکھ کر اس پر قلم سے ایک لکیر، ایک حد فاصل قائم کر دینا ان کے لئے زیادہ مشکل نہ تھا۔ نقشہ ایک نہایت ہی معمولی سی چیز ہے۔ آٹھ آنے روپے میں پنجاب کا نقشہ ملتا ہے۔ اس پر لکیر کھینچ دینا بھی آسان ہے۔ ایک کاغذ کا ٹکڑا، ایک روشنائی کی لکیر، وہ کیسے پنجاب کے دکھ کو سمجھ سکتے تھے۔ اس لکیر کی ماہیت کو جو اس نقشے کو نہیں پنجاب کی دل کو چیرتی ہوئی چلی جا رہی تھی۔

    پنجاب کے تین مذہب تھے، لیکن اس کا دل ایک تھا۔ لباس ایک تھا، اس کی زبان ایک تھی، اس کے گیت ایک تھے۔ اس کے کھیت ایک تھے۔اس کے کھیتوں کی رومانی فضا اور اس کے کسانوں کے پنچائتی ولولے ایک تھے۔ پنجاب میں وہ سب باتیں موجود تھیں جو ایک تہذیب، ایک دیس، ایک قومیت کے وجود کا احاطہ کرتی ہیں، پھر کس لئے اس کے گلے پر چھری چلائی گئی؟کس لئے اس کی رگوں میں سالہا سال کی نفرت کا بیج بو دیا گیا۔کس لئے اس کے کھلیانوں کو شیطنت اور ظلم اور مذہبی بہیمت کی آگ سے جلایا گیا۔؟ہمیں معلوم نہ تھا۔ہمیں بڑا افسوس ہے ۔ہم اس ظلم کی مذمت کرتے ہیں۔‘‘

    ظلم اور نفرت اور مذہبی جنون کا بھڑکانے والے، پنجاب کی وحدت کو مٹا دینے والے آج مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں اور آج پنجاب کے بیٹے دلی کی گلیوں میں اور کراچی کے بازاروں میں بھیک مانگ رہے ہیں اور ان کی عورتوں کی عصمت لٹ چکی ہے اور ان کے کھیت ویران پڑے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں نے آج تک پنجابی پناہ گزینوں کے لئے بیس کروڑ روپے صرف کئے ہیں یعنی فی کس بیس روپے۔ بڑا احسان کیا ہے۔ ہماری سات پشتوں پر۔ ارے ہم تو مہینے میں بیس روپے کی لسی پی جاتے ہیں اور آج تم ان لوگوں کو خیرات دینے چلے ہو جو کل تک ہندوستان کے کسانوں میں سب سے زیادہ خوش حال تھے۔

    جمہوریت کے پرستارو! ذرا پنجاب کے کسانوں سے، اس کے طالب علموں سے، اس کے کھیت مزدوروں سے، اس کے دکان داروں سے، اس کی ماؤں، بیٹوں اور بہوؤں ہی سے پوچھ تو لیا ہوتا کہ اس نقشے پر جو کالی لکیر لگ رہی ہے اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ مگر وہاں فکر کس کو ہوتی ۔کسی کا اپنا دیس ہوتا، کسی کا اپنا وطن ہوتا، کسی کی اپنی زبان ہوتی، کسی کے اپنے گیت ہوتے تو وہ سمجھ سکتا کہ یہ غلطی کیا ہے اور اس کا خمیازہ کسے بھگتنا پڑے گا۔ یہ دکھ وہی سمجھ سکتا ہے جو ہیر کو رانجھے سے جدا ہوتے ہوئے دیکھے۔ جو سوہنی کو مہینوال کے فراق میں تڑپتا دیکھے۔ جس نے پنجاب کے کھیتوں میں اپنے ہاتھوں سے گیہوں کی سبز بالیاں اگائی ہوں اور اس کے کپاس کے پھولوں کے ننھے چاندوں کو چمکتا ہوا دیکھا ہو۔ یہ سیاست داں کیا سمجھ سکتے اس دکھ کو۔ جمہوریت کے سیاست داں تھے نا۔

    خیر یہ رونا مرنا ہوتا رہتا ہے۔ انسان کو انسان ہونے میں بہت دیر ہے اور پھر ایک ہیچمداں افسانہ نگار کو ان باتوں سے کیا۔ اسے زندگی سے، سیاست سے، علم و فن سے، سائنس سے ،تاریخ و فلسفے سے کیا لگاؤ۔ اسے کیا غرض کہ پنجاب مرتا ہے یا جیتا ہے۔ عورتوں کی عصمتیں برباد ہوتی ہیں یا محفوظ رہتی ہیں۔ بچوں کے گلے پر چھری پھیری جاتی ہے یا ان پر مہربان ہونٹوں کے بوسے ثبت ہوتے ہیں۔ اسے ان باتوں سے الگ ہو کر کہانی سنانا چاہیے۔ اپنی چھوٹی موٹی کہانی جو لوگوں کے دلوں کو خوش کر سکے۔ یہ بڑے بول اسے زیب نہیں دیتے۔

    ٹھیک تو کہتے ہیں آپ، اس لئے اب امرتسر کی آزادی کی کہانی سنئے۔ اس شہر کی کہانی جہاں جلیان والا باغ ہے۔ جہاں شمالی ہند کی سب سے بڑی تجارتی منڈی ہے۔ جہاں سکھوں کا سب سے بڑا مقدس گرد وارہ ہے۔ جہاں کی قومی تحریکوں میں مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں نے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کے حصہ لیا۔ کہا جاتا ہے کہ لاہور اگر فرقے داری کا قلعہ ہے تو امرتسر قومیت کا مرکز ہے۔ اسی قومیت کے سب سے بڑے مرکز کی داستان سنئے۔

    15 اگست 1947ء کو امرتسر آزاد ہوا۔ پڑوس میں لاہور جل رہا تھا مگر امرتسر آزاد تھا اور اس کے مکانوں، دکانوں بازاروں پر ترنگے جھنڈے لہرا رہے تھے، امرتسر کے قوم پرست مسلمان اس جشن آزادی میں سب سے آگے تھے، کیونکہ وہ آزادی کی تحریک میں سب سے آگے رہے تھے۔ یہ امرتسر اکالی تحریک ہی کا امرت سر نہ تھا یہ احراری تحریک کا بھی امرتسر تھا۔ یہ ڈاکٹر ستیہ پال کا امرتسر نہ تھا یہ کچلو اور حسام الدین کا امرتسر تھا، اور آج امرتسر آزاد تھا اور اس کی قوم پرور فضا میں آزاد ہندوستان کے نعرے گونج رہے تھے اور امرتسر کے مسلمان اور ہندو اور سکھ یکجا خوش تھے۔

    جلیان والا باغ کے شہید زندہ ہو گئے۔ شام کو جب اسٹیشن پر چراغاں ہوا تو آزاد ہندوستان اور آزاد پاکستان سے دو اسپیشل گاڑیاں آئیں۔ پاکستان سے آنے والی گاڑی میں ہندو اور سکھ تھے۔ ہندوستان سے آنے والی گاڑی میں مسلمان تھے۔ تین چار ہزار افراد اس گاڑی میں اور اتنے ہی دوسری گاڑی میں۔ کل چھ سات ہزار افراد۔ بہ مشکل دو ہزار زندہ ہوں گے باقی لوگ مرے پڑے تھے اور ان کی لاشیں سر بریدہ تھیں اور ان کے سر نیزوں پر لگا کے گاڑیوں کی کھڑکیوں میں سجائے گئے تھے۔ پاکستان اسپیشل پر اردو کے موٹے موٹے حروف میں لکھا تھا، ’’قتل کرنا پاکستان سے سیکھو‘‘ ہندوستان اسپیشل میں لکھا تھا ہندی میں ’’بدلہ لینا ہندوستان سے سیکھو‘‘

    اس پر ہندوؤں اور سکھوں کو بڑا طیش آیا۔ ظالموں نے ہمارے بھائیوں کے ساتھ کتنا برا سلوک کیا ہے۔ ہائے یہ ہمارے ہندو اور سکھ پناہ گزیں اور واقعی ان کی حالت بھی قابل رحم تھی۔ انہیں فوراً گاڑی سے نکال کر پناہ گزینوں کے کیمپ میں پہنچایا گیا اور سکھوں اور ہندوؤں نے مسلمانوں کی گاڑی پر دھاوا بول دیا یعنی اگر نہتے نیم مردہ مہاجرین پر حملہ کو ’’دھاوا‘‘ کہہ سکتے ہیں تو واقعی یہ دھاوا تھا۔ آدھے سے زیادہ آدمی مار ڈالے گئے۔ تب کہیں جا کر ملٹری نے حالات پر قابو پایا۔

    گاڑی میں ایک بڑھیا عورت بیٹھی تھی اور اس کی گود میں اس کا ننھا پوتا تھا۔ راستے میں اس کا بیٹا مارا گیا اس کی بہو کو جاٹ اٹھا کر لے گئے تھے اس کے خاوند کو لوگوں نے بھالوں سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔ اب وہ چپ چاپ بیٹھی تھی۔ اس کے لبوں پر آہیں نہ تھیں اس کی آنکھوں میں آنسو نہ تھے۔ اس کے دل میں دعا نہ تھی۔ اس کے ایمان میں قوت نہ تھی۔ وہ پتھر کا بت بنی چپ چاپ بیٹھی تھی جیسے وہ کچھ سن نہ سکتی تھی کچھ دیکھ نہ سکتی تھی کچھ محسوس نہ کر سکتی تھی۔

    بچے نے کہا، ’’دادی اماں پانی‘‘

    دادی چپ رہی۔ بچہ چیخا، ’’دادی اماں پانی‘‘

    دادی نے کہا، ’’بیٹا پاکستان آئے گا تو پانی ملے گا؟‘‘

    بچے نے کہا، ’’دادی اماں کیا ہندوستان میں پانی نہیں ہے؟‘‘

    دادی نے کہا، ’’بیٹا اب ہمارے دیس میں پانی نہیں ہے‘‘

    بچے نے کہا، ’’کیوں نہیں ہے؟ مجھے پیاس لگی ہے۔ میں تو پانی پیوں گا، پانی، پانی، پانی ۔دادی اماں پانی پیوں گا ۔میں پانی پیوں گا‘‘

    ’’پانی پیو گے؟‘‘ایک اکالی رضاکار وہاں سے گزر رہا تھا اس نے خشمگیں نگاہوں سے بچے کی طرف دیکھ کے کہا۔ ’’پانی پیو گے نا؟‘‘

    ’’ہاں ‘‘بچے نے سر ہلایا۔

    ’’نہیں نہیں ‘‘دادی نے خوفزدہ ہو کر کہا ۔ ’’یہ کچھ نہیں کہتا آپ کو، یہ کچھ نہیں مانگتا آپ سے۔ خدا کے لئے سردار صاحب اسے چھوڑ دیجئے۔ میرے پاس اب کچھ نہیں ہے۔ ‘‘

    اکالی رضا کار ہنسا۔ اس نے پائیدان سے رستے ہوئے خون کو اپنی اوک میں جمع کیا اور اسے بچے کے قریب لے جا کے کہنے لگا، ’’لو پیاس لگی ہے۔ تو یہ پی لو بڑا اچھا خون ہے مسلمان کا خون ہے۔‘‘

    دادی پیچھے ہٹ گئی بچہ رونے لگا ۔دادی نے بچے کو اپنے پیلے دوپٹے سے ڈھک لیا اور اکالی رضاکار ہنستا ہوا آگے چلا گیا۔

    دادی سوچنے لگی کب یہ گاڑی چلے گی میرے اللہ پاکستان کب آئے گا؟

    ایک ہندو پانی کا گلاس لے کر آیا ’’لو پانی پلا دو اسے‘‘

    لڑکے نے اپنی بانہیں آگے بڑھائیں اس کے ہونٹ کانپ رہ تھے اس کی آنکھیں باہر نکلی پڑی تھیں۔ اس کے جسم کارواں رواں پانی مانگ رہا تھا۔ ہندو نے گلاس ذرا پیچھے سرکا لیا۔ بولا، ’’اس پانی کی قیمت ہے مسلمان بچے کو پانی مفت نہیں ملتا۔ اس گلاس کی قیمت پچاس روپے ہے۔‘‘

    ’’پچاس روپے‘‘ دادی نے عاجزی سے کہا۔ ’’بیٹا میرے پاس تو چاندی کا ایک چھلا بھی نہیں ہے میں پچاس روپے کہاں سے دوں گی۔‘‘

    ’’پانی، پانی، پانی تو پانی مجھے دو، پانی کا گلاس مجھے دے دو، دادی اماں دیکھو یہ ہمیں پانی پینے نہیں دیتا۔‘‘

    ’’مجھے دو، مجھے دو‘‘ ایک دوسرے مسافر نے کہا ’’لو میرے پاس پچاس روپے ہیں ۔‘‘

    ہندو ہنسنے لگا، ’’یہ پچاس روپے تو بچے کے لئے تھے، تمہارے لئے اس گلاس کی قیمت سو روپے ہے سو روپے دو اور یہ پانی کا گلاس پی لو۔‘‘

    ’’اچھا یہ سو روپیہ ہی لے لو، یہ لو‘‘ دوسرے مسلمان مسافر نے سو روپیہ ادا کر کے گلاس لے لیا۔ اور اسے غٹا غٹ پینے لگا۔

    بچہ اسے دیکھ کر اور بھی چلانے لگا ’’پانی، پانی، پانی دادی اماں پانی۔ ‘‘

    ’’ایک گھونٹ اسے بھی دے دو، خدا اور رسول کے لئے‘‘

    مسلمان کافر نے گلاس خالی کر کے اپنی آنکھیں بند کر لیں، گلاس اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا گرا اور پانی کی چند بوندیں فرش پر بکھر گئیں۔ بچہ گود سے اتر کر فرش پر چلا گیا۔ پہلے اس نے خالی گلاس کو چاٹنے کی کوشش کی، پھر فرش پر گری چند بوندوں کو، پھر زور زور سے چلانے لگا، ’’دادی اماں پانی، پانی‘‘

    پانی موجود تھا اور پانی نہیں تھا۔ ہندو پناہ گزیں پانی پی رہے تھے اور مسلمان پناہ گزیں پیاسے تھے۔ پانی موجود تھا اور مٹکوں کی قطاریں اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر سجی ہوئی تھیں اور پانی کے نل کھلے تھے اور بھنگی آب دست کے لئے پانی ہندو مسافروں کو دے رہے تھے۔ لیکن پانی نہیں تھا تو مسلمان مہاجرین کے لئے کیونکہ پنجاب کے نقشے پر ایک کالی موت کی لکیر کھینچ گئی تھی اور کل کا بھائی آج دشمن ہو گیا تھا اور کل جس کو ہم نے بہن کہا تھا آج وہ ہمارے لئے طوائف سے بھی بدتر تھی اور کل جو ماں تھی آج بیٹے نے اس کو ڈائن سمجھ کر اس کے گلے پر چھری پھیر دی تھی۔

    پانی ہندوستان میں تھا اور پانی پاکستان میں بھی تھا۔ لیکن پانی کہیں نہیں تھا کیونکہ آنکھوں کا پانی مر گیا تھا اور یہ دونوں ملک نفرت کے صحرا بن گئے تھے اور ان کی تپتی ہوئی ریت پر چلتے ہوئے کارواں بادِ سموم کی بربادیوں کے شکار ہو گئے تھے۔ پانی تھا مگر سراب تھا۔ جس دیس میں لسی اور دودھ پانی کی طرح بہتے تھے، وہاں آج پانی نہیں تھا اور اس کے بیٹے پیاس سے بلک بلک کر مر رہے تھے لیکن دل کے دریا سوکھ گئے تھے اس لئے پانی تھا اور نہیں بھی تھا۔

    پھر آزادی کی رات آئی۔ دیوالی پر بھی ایسا چراغاں نہیں ہوتا کیونکہ دیوالی پر تو صرف دئیے جلتے ہیں۔ یہاں گھروں کے گھر جل رہے تھے۔ دیوالی پر آتش بازی ہوتی ہے، پٹاخے پھوٹتے ہیں۔ یہاں بمب پھٹ رہے تھے اور مشین گنیں چل رہی تھیں۔ انگریزوں کے راج میں ایک پستول بھی بھولے سے کہیں نہیں ملتا تھا اور آزادی کی رات نہ جانے کہاں سے اتنے سارے بمب، ہینڈ گری نیڈ مشین گن، اسٹین گن، برین گن ٹپک پڑے۔ یہ اسلحہ جات برطانوی اور امریکی کمپنیوں کے بنائے ہوئے تھے اور آج آزادی کی رات ہندوستان اور پاکستانیوں کے دل چھید رہے تھے۔ لڑے جاؤ بہادرو، مرے جاؤ بہادرو، ہم اسلحہ جات تیار کریں گے تم لوگ لڑو گے شاباش بہادرو، دیکھنا کہیں ہمارے گولہ بارود کے کارخانوں کا منافع کم نہ ہو جائے۔

    گھمسان کارن رہے تو مزا ہے۔ چین والے لڑتے ہیں تو ہندوستان اور پاکستان والے کیوں نہ لڑیں۔ وہ بھی ایشیائی ہیں، تم بھی ایشیائی ہو۔ ایشیا کی عزت برقرار رکھو۔ لڑے جاؤ بہادرو، تم نے لڑنا بند کیا تو ایشیا کا رخ دوسری طرف پلٹ جائے گا اور پھر ہمارے کارخانوں کے منافع اور حصے اور ہماری سامراجی خوش حالی خطرے میں پڑ جائے گی۔ لڑے جاؤ بہادرو۔ پہلے تم ہمارے ملکوں سے کپڑا اور شیشے کا سامان اور عطریات منگاتے تھے، اب ہم تمہیں اسلحہ جات بھیجیں گے اور بمب اور ہوائی جہاز اور کارتوس۔ کیونکہ اب تم آزاد ہو گئے ہو۔ مسلح ہندو اور سکھ رضا کار مسلمانوں کے گھروں کو آگ لگا رہے تھے اور جئے ہند کے نعرے گونج رہے تھے۔ مسلمان اپنے گھروں کی کمیں گاہوں میں چھپ کر حملہ آوروں پر مشین گنوں سے حملہ کر رہے تھے اور ہنڈ گری نیڈ پھینکتے تھے۔

    آزادی کی رات اور اس کے تین چار روز بعد تک اس طرح مقابلہ رہا۔ پھر سکھوں اور ہندوؤں کی مدد کے لئے آس پاس کی ریاستوں سے رضا کار پہنچ گئے اور مسلمانوں نے اپنے گھر خالی کرنے شروع کئے۔ گھر، محلے، بازار جل رہے تھے۔ ہندوؤں کے گھر اور مسلمانوں کے گھر اور سکھوں کے گھر۔

    لیکن آخر میں مسلمانوں کے گھر سب سے زیادہ جلے اور آخر ہزاروں کی تعداد میں مسلمان اکٹھے ہو کر شہر سے بھاگنے لگے۔ اس موقع پر جو کچھ ہوا اسے تاریخ میں ’’امرتسر کا قتل عام‘‘ کہا جائے گا۔ لیکن ملٹری نے حالات پر جلد قابو پا لیا۔ قتل عام بند ہوا اور ہندو اور مسلمان دو مختلف کیمپوں میں بند ہو کر پناہ گزین کہلانے لگے۔ ہندو شرنارتھی کہلاتے تھے اور مسلمان پناہ گزین مہاجرین۔ گو مصیبت دونوں پر ایک ہی تھی، لیکن ان کے نام الگ الگ کر دیئے تھے تاکہ مصیبت میں بھی یہ لوگ اکٹھے نہ ملیں۔ دونوں کیمپوں پر نہ چھت تھی نہ روشنی کا انتظام تھا نہ سونے کے لیے بستر تھے نہ پائخانے۔ لیکن ایک کیمپ ہندو اور سکھ شرنارتھیوں کا کیمپ کہلاتا تھا دوسرا مسلمان مہاجرین کا۔

    ہندو شرنارتھیوں کے کیمپ میں آزادی کی رات کو شدید بخار میں لرزتی ہوئی ایک ماں اپنے بیمار بیٹے کے سامنے دم توڑ رہی تھی۔ یہ لوگ مغربی پنجاب سے آئے پندرہ آدمیوں کا خاندان تھا۔ پاکستان سے ہندوستان آتے صرف دو افراد رہ گئے تھے اور اب ان میں بھی ایک بیمار تھا۔ دوسرا دم توڑ رہا تھا۔

    جب یہ پندرہ افراد کا قافلہ گھر سے چلا تھا تو ان کے پاس بستر تھے۔ سامان خورد و نوش تھا، کپڑوں سے بھرے ہوئے ٹرنک تھے، روپیوں کی پوٹلیاں تھیں اور عورتوں کے جسموں پر زیور تھے۔ لڑکے کے پاس ایک بائیسکل تھی اور یہ سب پندرہ آدمی تھے۔ گوجرانوالہ تک پہنچتے پہنچتے دس آدمی رہ گئے۔ پہلے روپیہ گیا، پھر زیور، پھر عورتوں کے جسم۔ لاہور آتے آتے چھ آدمی رہ گئے۔ کپڑوں کے ٹرنک گئے اور بستر بھی۔ اور لڑکے کو اپنی بائیسکل کے چھن جانے کا بڑا افسوس تھا۔ اور جب مغلپورہ سے آگے بڑھے تو صرف دو رہ گئے۔ ماں اور ایک بیٹا اور ایک لحاف جو دم توڑتی ہوئی عورت لرزے کے بخار میں اس وقت اوڑھے ہوئے تھی۔ اس وقت آدھی رات کے وقت، آزادی کی پہلی رات کو وہ عورت مر رہی تھی اور اس کا بیٹا چپ چاپ، اس کے سرہانے بیٹھا ہوا بخار سے کانپ رہا تھا اور اس کی کٹ کٹی بندھی ہوئی تھی اور آنسو ایک مدت ہوئی ختم ہو چکے تھے۔ اور جب اس کی ماں مر گئی تو اس نے آہستہ سے لحاف کو اس کے جسم سے الگ کیا اور اسے اوڑھ کر کیمپ کے دوسرے کونے میں چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک رضاکار اس کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا، ’’وہ، ادھر۔۔۔ تمہاری ماں تھی، جو مر گئی ہے؟‘‘

    ’’نہیں نہیں مجھے کچھ معلوم نہیں۔ وہ کون تھی۔ ‘‘

    لڑکے نے خوفزدہ ہو کر کہا۔ اور زور سے لحاف کو اپنے گرد لپیٹتے ہوئے بولا۔ ’’وہ میری ماں نہیں تھی۔ یہ لحاف میرا ہے۔ یہ لحاف میرا ہے۔ میں یہ لحاف نہیں دوں گا۔ یہ لحاف میرا ہے۔ ‘‘وہ زور زور سے چیخنے لگا۔ ’’’وہ میری ماں نہیں تھی۔ یہ لحاف میرا ہے۔ میں اسے کسی کو نہ دوں گا۔ یہ لحاف میں ساتھ لایا ہوں، نہیں دوں گا، نہیں۔۔۔ایک لحاف، ایک ماں، ایک مردہ انسانیت ،کسے معلوم تھا کہ ایک دن اس نئی تثلیث کی کہانی بھی مجھے آپ کو سنانی پڑے گی۔

    جب مسلمان بھاگے تو ان کے گھر لٹنے شروع ہو گئے۔ شاید ہی کوئی شریف آدمی رہا ہو جس نے اس لوٹ میں حصہ نہ لیا ہو۔ آزادی کے تیسرے دن کی بات ہے میں اپنی گائے کو گلی کے باہر نل پر پانی پلانے لے جا رہا تھا۔ بالٹی میرے ہاتھ میں تھی۔ دوسرے ہاتھ میں گائے کے گلے سے بندھی ہوئی رسی تھی۔ گلی کے موڑ پر پہنچ کر میں نے میونسپلٹی کے لمپ وانے کھمبے سے گائے کو باندھ دیا اور نل کی جانب بالٹی لیے مڑ گیا کہ بالٹی میں پانی بھر لاؤں۔ تھوڑی دیر کے بعد جب بالٹی بھر کے لایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ گائے