ADVERTISEMENT

افسانے پرتاریخ

بلاؤز

سعادت حسن منٹو

آغاز شباب میں ہونے والی تبدیلیوں کا عمدہ بیان ہے۔ مومن ایک ایسے گھر میں ملازم ہے جس میں شکیلہ اور رضیہ دو روشن خیال بہنیں رہتی ہیں۔ شکیلہ مومن کے سامنے ہی بلاؤز ناپتی، سلتی اور پہن کر دیکھتی ہے جس کے نتیجے میں مومن کے دماغ میں مختلف قسم کے خیالات کا ہجوم رہنے لگتا ہے اور پھر ایک دن وہ نئی لذت سے آشنا ہوتا ہے۔

قرض کی پیتے تھے۔۔۔

سعادت حسن منٹو

مرزا غالب کی مے خواری اور قرض کی عدم ادائیگی کی باعث معاملہ عدالت میں پہنچ جاتا ہے۔ وہاں مفتی صدر الدین آزردہ کرسی عدالت پر براجمان ہوتے ہیں۔ مرزا غالب کی غلطی ثابت ہو جانے کے بعد مفتی صدر الدین جرمانہ کی سزا بھی دیتے ہیں اور اپنی جیب خاص سے جرمانہ ادا بھی کر دیتے ہیں۔

ADVERTISEMENT

آوارہ گرد

قرۃ العین حیدر

دنیا کی سیر پر نکلے ایک جرمن لڑکے کی کہانی۔ وہ پاکستان سے ہندوستان آتا ہے اور بمبئی میں ایک سفارشی میزبان کے یہاں قیام کرتا ہے۔ رات کو کھانے کی میز پر وہ اپنے میزبان سے جرمنی، دوسری عالمی جنگ، نازی اور اپنے ماضی کے بارے میں باتیں کرتا ہے۔ ہندوستان سے وہ شری لنکا جاتا ہے، دوران سفر ایک سنگھلی بودھ اس کا دوست بن جاتا ہے۔ وہ دوست اسے ندی میں نہانے کی دعوت دیتا ہے اور خود ڈوب کر مر جاتا ہے۔ لنکا سے ہوتا ہوا وہ سیلانی لڑکا ویتنام جاتا ہے۔ ویتنام میں جنگ جاری ہے اور جنگ کی ایک گولی اس یوروپی آوارہ گرد نوجوان کا خاتمہ کر دیتی ہے۔

شیر آیا شیر آیا دوڑنا

سعادت حسن منٹو

بچپن میں اسکول میں پڑھائی جانی والی جھوٹے گڑریے کی کہانی کو ایک نئے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کہانی میں گڑریے کے شیر کے نہ آنے کے باوجود چلاّنے کے مقصد کو بتایا گیا ہے۔ گڑریا شیر نہ ہونے کے باوجود چلاتا ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ لوگ شیر کے آنے سے پہلے ہی خود کو تیار رکھیں۔ اگر اچانک شیر آ گیا تو کسی کو بھی بچنے کا موقع نہیں ملے گا۔

ADVERTISEMENT

روشنی کی رفتار

قرۃ العین حیدر

کہانی ’روشنی کی رفتار‘ قرۃالعین حیدر کی بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ کہانی میں حال سے ماضی کے سفر کی داستان ہے۔ صدیوں کے فاصلوں کو لانگھ کر کبھی ماضی کو حال میں لاکر اور کبھی حال کو ماضی کے اندر بہت اندر لے جا کر انسانی زندگی کے اسرار و رموز کو دیکھنے، سمجھنے اور اسکے حدود و امکانات کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

گھر تک

ممتاز شیریں

اپنے گاؤں کو جاتے ہوئے ایک ایسے شخص کی کہانی جو راستہ بھٹک گیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک معاون بھی ہے جسے وہ راستے میں کہانی سناتا ہے۔ راستہ تلاش کرتے شام ہو جاتی ہے تو انھیں دور سے مشعل جلنے اور عورتوں کے رونے کی آواز آتی ہے۔ قریب جانے پر پتہ چلتا ہے کہ رونے والی اس کی ماں اور بہن ہیں۔ وہ دونوں اس کے چھوٹے بھائی کے قبر کے پاس رو رہی ہیں، جس کے لیے وہ شہر سے کھلونے اور کپڑے لے کر آیا تھا۔

مونا لسا

قرۃ العین حیدر

اس کہانی میں واقعات کو کم، ذہنی کیفیت اور دلی احساسات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ان احساسات میں ملن ہے، محبت اور جدائی ہے۔ وقت کی مناسبت سے کئی کردار ابھرتے اور ماند پڑ جاتے ہیں۔ ہر کسی کی اپنی کہانی ہے، مگر جو کہانی کہتا ہے، اس کی خود کی کہانی کہیں دھندلی پڑ جاتی ہے۔

اودھ کی شام

قرۃ العین حیدر

افسانے میں اودھ یعنی لکھنؤ کی ایک شام کا ذکر ہے جس میں ایک انگریز لڑکا ایک ہندوستانی لڑکی کو ساتھ ناچنے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ لڑکی اس کے ساتھ رقص کرتی ہے اور تحریک آزادی، اودھ کی سلطنت اور اسکے رسم و رواج اور رونق کی داستان بیان کرتی ہے۔

ADVERTISEMENT

جلاوطن

قرۃ العین حیدر

یہ مشترکہ تہذیب کے بکھرنے کی کہانی ہے۔ اس مشترکہ تہذیب کی جسے برصغیر میں رہنے بسنے والوں کی صدیوں کے میل جول اور یکجہتی کا نمونہ مانا جاتا ہے۔ اس کہانی میں رشتوں کے ٹوٹنے، خاندانوں کے بکھرنے اور ماضی کے بہترین انسانی قدروں کے پامال ہونے کی ٹریجڈی کو پیش کیا گیا ہے۔

ساسان پنجم

نیر مسعود

یہ افسانہ فرض ناشناس اقوام کے زوال کا نوحہ ہے۔ ساسان پنجم کے زمانے کی عمارت پر کندہ عبارت پڑھنے اور اسے سمجھنے کے لیے آثار قدیمہ کے ماہرین بلاے جاتے ہیں وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود عبارت پڑھنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ تحقیق کے بعد یہ ثابت کر دیا جاتا ہے کہ ساسان پنجم کا وجود فرضی ہے۔

ADVERTISEMENT

ملفوظات حاجی گل بابا بیکتاشی

قرۃ العین حیدر

یہ ایک تجرباتی کہانی ہے۔ اس کہانی میں سینٹرل ایشیا کی روایات، رسم و رواج اور مذہبی عقائد کو مرکزی خیال بنایا گیا ہے۔ کہانی بیک وقت حال سے ماضی میں اور ماضی سے حال میں چلتی ہے۔ یہ دور عثمانیہ کے کئی واقعات کو بیان کرتی ہے، جن میں پیر و مرشد ہیں اور ان کے مرید ہیں، فقیر ہیں اور ان کا خدا اور رسول سے روحانی رشتہ ہے۔ ایک اہم خاتون کردار جس کا شوہر لاپتہ ہو گیا ہے، اس کی تلاش کے لیے ایک ایسے ہی بابا سے ملنے ایک عورت کا خط لے کر جاتی ہے۔ وہ اس بابا کی روحانی کرشموں سے روبرو ہوتی ہے جنہیں عام طور پر انسان نظر انداز کر دیتا ہے۔