Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گونگی محبت

مرزا ادیب

گونگی محبت

مرزا ادیب

MORE BYمرزا ادیب

    کہانی کی کہانی

    ایک گونگی لڑکی کی گونگی محبت کی داستان۔ جیوتی آرٹ کی دلدادہ اندرا کی خادمہ ہے۔ ایک آرٹ کی نمائش کے دوران اندرا کی ملاقات موہن سے ہوتی ہے اور وہ دونوں شادی کر لیتے ہیں۔ ایک روز جب اندرا کو پتہ چلتا ہے کہ اس کی خادمہ جیوتی بھی موہن سے محبت کرتی ہے تو وہ اسے چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔

    وہ دونوں جوان تھیں اور ظاہر ہے کہ جوانی کی بہار آفرینی ہر نسوانی پیکر کے خدوخال میں ایک خاص شگفتگی اور ایک خاص دلآویزی پیدا کردیتی ہے۔۔۔ چنانچہ وہ دونوں حسین بھی تھیں۔ دونوں کے قد بھی قریباً قریباً یکساں تھے۔ دونوں کی عمروں میں بھی کوئی خاص فرق نہ تھا۔ ایک کی عمر سولہ سال کے قریب ہوگی اور دوسری کی سترہ یا اٹھارہ کے لگ بھگ۔ مگر ان چیزوں کے باوجود دونوں میں بہت بڑا فرق تھا۔ ایک کو فطرۃ حق حاصل تھا کہ وہ خوف ہنسے اور ہر وقت ہنستی رہے اور دوسری دنیا میں صرف اس غرض سے پیدا ہوئی تھی کہ وہ خواہ ہنسے یا روئے لیکن دوسروں کو ضرور ہنسائے۔ ایک اشاروں میں احکام صادر کرتی تھی اور دوسری ان احکام کی بے چون و چرا تعمیل کردیتی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ ایک کی زبان اس کے منہ میں تھی اور دوسری کی زبان اس کے ہاتھوں کے اشاروں میں!

    ایک کا نام تھا اندرا۔۔۔ کاغذ کی ایک مشہور فرم کے واحد مالک سیٹھ بدری پرشاد کی اکلوتی بیٹی۔۔۔ دوسری کا نام تھا جیوتی۔۔۔ لیکن یہ نام ایک شخص بھی نہ جانتا تھا۔ آخر ایک گونگی لڑکی کانام معلوم کرنے کی ضرورت بھی کیا ہے؟ جس طرح ہر شخص گونگی کے نام سے واقف تھا۔ اسی طرح وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کس خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے والدین کون تھے۔ اندرا نے دو ایک بار اس کے خاندانی حالات معلوم کرنے کی معمولی کوشش کی۔ مگر جب دیکھا کہ اس سلسلے میں ہر کوشش فضول ہے۔ تو اس نے جانچ پڑتال کرنے کا ارادہ ہی دل سے نکال دیا۔

    کوئی عورت بھی خاص طور پر اپنی خادمہ کے خاندانی حالات معلوم کرنے کے لیے زیادہ تگ و دو نہیں کرتی۔ پھر اندرا کو کیا پڑی تھی کہ وہ اپنی گونگی خادمہ کے حالات دریافت کرتی؟ اس کے لیے یہی کافی تھا کہ اس کے گھر میں ایک گونگی لڑکی زندگی کے دن گزار رہی ہے جو اس کی خادمہ بھی ہے اور ذریعہ تفریح بھی۔

    دونوں کی پہلی ملاقات عجیب انداز میں ہوئی تھی۔۔۔!

    ایک دن اندرا کالج سے واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ گلی کے ایک حصے میں چند عورتیں اور بچے کھڑے ہنس رہے ہیں۔ وہ وہاں پہنچی تو معلوم ہوا کہ ایک گونگی بھکارن ہجوم میں کھڑی گھبرا رہی ہے۔ جب اندرا نے گونگی کے متعلق کچھ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اس کے والدین بچپن میں فوت ہوگئے تھے اور اب وہ اپنے دور کے ایک رشتہ دار کے ساتھ بھیک مانگ مانگ کر اپنا پیٹ پالتی ہے۔۔۔ یہ دور کا رشتہ دار ایک بوڑھا تھا جو اس کے ساتھ ہی کھڑا تھا۔

    اندرا نے بوڑھے سے کہا کہ وہ کسی دن گونگی کواس کے مکان پر لائے۔ وہ ’’گونگی‘‘ سے ’’باتیں‘‘ کرنا چاہتی ہے۔

    بوڑھا پاگل تھا۔ جو اس زریں موقعے سے فائدہ نہ اٹھاتا؟ وہ دوسرے ہی دن گونگی کو سیٹھ بدری پرشاد کے عالیشان مکان پر لے آیا۔

    چند لمحوں کے بعد گھر کے لوگ اس کے ارد گرد کھڑے تھے۔

    اب گونگی ہے کہ کمرے کی ہر چیز کو بڑی حیرت سے دیکھ رہی ہے اور لوگ ہیں کہ اس کی ہر حرکت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ اندرا تو اس کی حرکات سے اس قدر محظوظ ہوئی کہ اس نے بوڑھے سے کہہ دیا،

    ’’اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو گونگی کو یہیں رہنے دو۔ اس کے تمام اخراجات کی ذمہ داری ہم پر عاید ہوگی۔ تمہارے گزارے کے لیے بھی کچھ نہ کچھ ماہانہ دے دیا کریں گے۔‘‘

    بوڑھے نے یہ بات بخوشی مان لی اور گونگی اندرا کے یہاں رہنے لگی۔

    اسے وہاں رہتے ابھی چند ہی ماہ گزرے ہوں گے کہ وہ گھر کی فضا سے پوری طرح مانوس ہوگئی۔ اب نہ تو اسے اشاروں کے ذریعے اپنا مافی الضمیر بتانے میں کوئی دقت محسوس ہوتی تھی اور نہ گھر والو ں کو اس کے اشاروں کا مفہوم سمجھنے میں کسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

    گونگی میں جہاں اور خوبیاں تھیں۔ وہایہ خوبی بھی تھی کہ وہ گھر کہ ہرفرد کا دل و جان سے احترام کرتی تھی۔ یہ خوبی کسی اور خادمہ میں ہوتی تو گھر کے لوگ اس کی بہت قدر کرتے مگر نہ معلوم کیا بات تھی کہ ان تمام خوبیوں کے باوجود گونگی کو۔۔۔ صرف گونگی ہی سمجھا جاتا تھا اور گونگی سمجھتے وقت سمجھنے والوں کی نگاہوں کے سامنے اس کی ’’مضحکہ خیز حرکات‘‘ ہوتی تھیں، خوبیاں نہیں۔

    اندرا اس کی خوبیوں سے کافی متاثر تھی اور جب وہ اس سے باتیں کرتی تو سب کچھ بھول کر اسے محض ایک ذریعہ تفریح سمجھنے لگتی۔ تاہم گونگی کو اس کی کوئی شکایت نہ تھی۔۔۔ کوئی شکوہ نہ تھا۔

    (۲)

    عام تعلیم یافتہ اور روشن خیال امیرزادیوں کی طرح اندرا کو بھی فنون لطیفہ سے دلچسپی تھی۔ بالخصوص فن مصوری میں تو اس کی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ کسی اعلیٰ پایہ کی تصویر کے حصوں میں اگر اسے بڑی سے بڑی رقم بھی صرف کرنا پڑتی تھی تو وہ بے دریغ صرف کردیتی تھی۔ چنانچہ یہی وجہ تھی کہ جب اس نے اخبارات میں ایک شاندار نمائش کا اعلان پڑھا تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔۔۔ اخبارات میں جواعلان شائع ہوا تھا۔ اس میں درج تھا کہ نمائش گاہ میں جاں مرحوم مصوروں کی تصویریں دکھائی جائیں گی وہاں پبلک کو ملک