تو جس کے دم پر بھی بولتا ہے
مرے خدا سے بڑا نہیں ہے
میں محبت میں بہت سوں کو خدا مانتا ہوں
تم کسی ایک کا پوچھو گے تو ماں بولوں گا
شعر کہہ کے گزار سکتے ہیں
زندگی ہو یا ماں کا دن کاشفؔ
جبینوں پر نشاں سجدوں کے ہیں ہاتھوں میں شمشیریں
عقیدے نے تشدد کے بدن کو اوڑھ رکھا ہے
-
موضوع : طنز
اپنا سر وہ کیسے جھکائے اس ساگر کی چوکھٹ پر
گنگا جی کے تٹ پر یارو جس جوگی کا ٹھکانہ ہے
-
موضوع : گنگا ندی
آپ کی بھکتی نہ جب تک ہو تو کیا حاصل مجھے
قید دنیا سے اگر ہو جاؤں میں آزاد بھی
تمہاری بھی حفاظت ہم کریں گے
تمہارے پھر خدا ہونے کا مطلب
تیری مرضی کے مطابق تجھے چاہے کاشفؔ
جھنگ کے لوگ محبت میں خدا ہوتے ہیں
خود دار ہوں خود سر ہوں میں خود مست ہوں لیکن
تو سامنے آ جائے تو سر آج بھی خم ہے
-
موضوع : خودداری