پاس تھا زر تو کوئی عیب نہ تھا
سب عیوب آئے بے زری کے ساتھ
-
موضوع : عیب
دولت سے کہاں جڑتے ہیں ٹوٹے ہوئے رشتے
شیشے کو کبھی گوند سے جوڑا نہیں جاتا
فکر مالی کی بڑھنے والی ہے
پیڑ پھل دار ہونے والے ہیں