فلم پر اقوال

میں ادب اور فلم کو ایک ایسا میخانہ سمجھتا ہوں، جس کی بوتلوں پر کوئی لیبل نہیں ہوتا۔

سعادت حسن منٹو

پبلک ایسی فلمیں چاہتی ہے جن کا تعلق براہ راست ان کے دل سے ہو۔ جسمانی حسیات سے متعلق چیزیں زیادہ دیرپا نہیں ہوتیں مگر جن چیزوں کا تعلق روح سے ہوتا ہے، دیر تک قائم رہتی ہیں۔

سعادت حسن منٹو

جو بات مہینوں میں خشک تقریروں سے نہیں سمجھائی جا سکتی، چٹکیوں میں ایک فلم کے ذریعے سے ذہن نشین کرائی جا سکتی ہے۔

سعادت حسن منٹو

فلموں کو کامیاب بنانے اور ستارے پیدا کرنے کے لئے ہمیں ستارہ شناس نگاہوں کی ضرورت ہے۔

سعادت حسن منٹو

اگر ڈائریکٹروں کا اپنا اپنا اسٹائل نہ ہوگا تو فلم متحرک تصاویر کے یک آہنگ فیتے بن کر رہ جائیں گے۔

سعادت حسن منٹو

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے