ADVERTISEMENT

افسانے پرمزاح

برقعے

سعادت حسن منٹو

کہانی میں برقعے کی وجہ سے پیدا ہونے والی مضحکہ خیز صورت حال کو بیان کیا گیا ہے۔ ظہیر نامی نوجوان کو اپنے پڑوس میں رہنے والی لڑکی سے عشق ہو جاتا ہے۔ لیکن اس گھر میں تین لڑکیاں ہیں اور تینوں برقعہ پہنتی ہیں۔ ظہیر خط کسی اور کو لکھتا ہے اور ہاتھ کسی اور کا پکڑتا ہے۔ اسی چکر میں اس کی ایک دن پٹائی ہو جاتی ہے اور پٹائی کے فوراً بعد اسے ایک رقعہ ملتا ہے کہ تم اپنی ماں کو میرے گھر کیوں نہیں بھیجتے۔ آج تین بجے سنیما میں ملنا۔

بابو گوپی ناتھ

سعادت حسن منٹو

طوائفوں اور ان کے ماحول کی عکاسی کرتی ہوئی اس کہانی میں منٹو نے ان کرداروں کے ظاہر و باطن کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے جن کی وجہ سے یہ ماحول پنپتا ہے۔ لیکن اس ظلمت میں بھی منٹو انسانیت اور ایثار کی ہلکی سی کرن ڈھونڈ لیتا ہے۔ بابو گوپی ناتھ ایک رئیس آدمی ہے جو زینت کو ’اپنے پیروں پر کھڑا کرنے‘ کے لیے مختلف جتن کرتا ہے اور آخر میں جب اس کی شادی ہو جاتی ہے تو وہ انتہائی خوش ہوتا ہے اور ایک سرپرست کا کردار ادا کرتا ہے۔

جسم اور روح

سعادت حسن منٹو

بادشاہت کا خاتمہ

سعادت حسن منٹو

حسن و دلکشی کے خواہش مند ایک ایسے بے روزگار نوجوان کی کہانی ہے جس کی زندگی کا بیشتر حصہ فٹ پاتھ پر رات بسر کرتے ہوئے گزرا تھا۔ اتفاقیہ طور پر وہ ایک دوست کے آفس میں چند دنوں کے لیے ٹھہرتا ہے جہاں ایک لڑکی کا فون آتا ہے اور ان کی گفتگو مسلسل ہونے لگتی ہے۔ موہن کو لڑکی کی آواز سے عشق ہے اس لیے اس نے کبھی اس کا نام پتہ یا فون نمبر جاننے کی زحمت نہیں کی۔ دفتر چھوٹ جانے کی وجہ سے اس کی جو ’بادشاہت‘ ختم ہونے والی تھی اس کا خیال اسے صدمہ میں مبتلا کر دیتا ہے اور ایک دن جب شام کے وقت ٹیلیفون کی گھنٹی بجتی ہے تو اس کے منہ سے خون کے بلبلے پھوٹ رہے ہوتے ہیں۔

ADVERTISEMENT

اُلو کا پٹھا

سعادت حسن منٹو

قاسم ایک دن صبح سو کر اٹھتا ہے تو اس کے اندر یہ شدید خواہش جاگتی ہے کہ وہ کسی کو الو کا پٹھا کہے۔ بہت سے طریقے اور مواقع سوچنے کے بعد بھی وہ کسی کو الو کا پٹھا نہیں کہہ پاتا اور پھر دفتر کے لئے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ راستے میں ایک لڑکی کی ساڑی سائکل کے پہیے میں پھنس جاتی ہے، جسے وہ نکالنے کی کوشش کرتا ہے لیکن لڑکی کو ناگوار گزرتا ہے اور وہ اسے ’’الو کا پٹھا‘‘ کہہ کر چلی چاتی ہے۔

ایکٹریس کی آنکھ

سعادت حسن منٹو

یہ نیم مزاحیہ افسانہ ہے۔ دیوی نام کی ایکٹریس جو خوبصورت تو نہیں ہے لیکن بہت پرکشش ہے۔ ایک مرتبہ وہ آنکھ میں غبار پڑ جانے کی وجہ سے ڈرامائی انداز میں چلاتی ہے۔ اس کی ہائے ہائے سے سیٹ پر موجود ہر شخص غبار نکالنے کی اپنی سی کوشش کرتا ہے لیکن ناکام رہتا ہے۔ ایک صاحب باہر سے آتے ہیں اور نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ افاقہ ہوتے ہی ایکٹریس تمام لوگوں کو نظر انداز کر کے سیٹھ کے پاس چلی جاتی ہے اور سب للچائی نظروں سے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ 

عقل داڑھ

سعادت حسن منٹو

میاں بیوی کی نوک جھونک پر مبنی مزاحیہ کہانی ہے۔ شوہر کے دانتوں میں زبردست درد ہو رہا ہے لیکن بیوی اپنا راگ الگ ہی الاپے جا رہی ہے۔ تنگ آ کر شوہر کہتا ہے کہ میری عقل داڑھ نکل رہی ہے۔ تو بیوی کہتی ہے کہ خدا کا شکر ہے اب تم کو کچھ عقل آ جائے گی۔

شکوہ شکایت

پریم چند
ADVERTISEMENT

عشق حقیقی

سعادت حسن منٹو

اخلاق نامی نوجوان کو سنیما ہال میں پروین نامی ایک ایسی لڑکی سے عشق ہو جاتا ہے جس کے گھر میں سخت پابندیوں کا پہرا ہے۔ اخلاق ہمت نہیں ہارتا اور بالآخر ان دونوں میں خط و کتابت شروع ہو جاتی ہے اور پھر ایک دن پروین اخلاق کے ساتھ چلی آتی ہے۔ پروین کے گال کے تل پر بوسہ لینے کے لئے جب اخلاق آگے بڑھتا ہے تو بدبو کا ایک تیز بھبھکا اخلاق کے نتھنوں سے ٹکراتا ہے اور تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ پروین کے مسوڑھوں میں گوشت خورہ ہے۔ اخلاق اسے چھوڑ کر اپنے دوست کے یہاں لائل پور چلا جاتا ہے۔ دوست کے غیرت دلانے پر واپس آتا ہے تو پروین کو موجود نہیں پاتا۔

جھوٹی کہانی

سعادت حسن منٹو

اس کہانی میں ایک مفروضہ بدمعاشوں کی انجمن کی وساطت سے سیاست دانوں پر گہرا طنز کیا گیا ہے۔ بدمعاشوں کی انجمن قائم ہوتی ہے اور بدمعاش اخباروں کے ذریعہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کی روک تھام کے لیے ایک بڑے ہال میں جلسہ کیا جاتا ہے جس میں سیاست داں اور عمائدین شہر بدمعاشوں کی انجمن کے خلاف تقریریں کرتے ہیں۔ اخیر میں پچھلی صف سے انجمن کا ایک نمائندہ کھڑا ہوتا ہے اور غالب کے اشعار کی مدد سے اپنی دلچسپ تقریر سے سیاست دانوں پر طنز کرتا ہے اور ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان قائم کرتا ہے۔

ترقی پسند

سعادت حسن منٹو

طنز و مزاح کے پیرایہ میں لکھا گیا یہ افسانہ ترقی پسند افسانہ نگاروں پر بھی چوٹ کرتا ہے۔ جوگندر سنگھ ایک ترقی پسند افسانہ نگار ہے جس کے یہاں ہریندر سنگھ آکر پڑاؤ ڈال دیتا ہے اور مسلسل اپنے افسانے سنا کر بو رکرتا رہتا ہے۔ ایک دن اچانک جوگندر سنگھ کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی حق تلفی کر رہا ہے۔ اسی خیال کے تحت وہ ہریندر سے باہر جانے کا بہانہ کرکے بیوی سے رات بارہ بجے آنے کا وعدہ کرتا ہے۔ لیکن جب رات میں جوگندر اپنے گھر کے دروازہ پر دستک دیتا ہے تو اس کی بیوی کے بجائے ہریندر دروزہ کھولتا ہے اور کہتا ہے جلدی آ گئے، آو، ابھی ایک افسانہ مکمل کیا ہے، اسے سنو۔

بدتمیزی

سعادت حسن منٹو

ازدواجی زندگی میں ہونے والی نوک جھونک پر مبنی یہ ایک مزاحیہ کہانی ہے۔ جس میں بیوی اپنے شوہر سے کافی دیر تک نوک جھونک کرنے کے بعد کہتی ہے کہ آپ پتلون کے بٹن بالکنی میں کھڑے ہو کر نہ بند کیا کریں، ہمسایوں کو سخت اعتراض ہے اور یہ بہت بڑی بد تمیزی ہے۔

ADVERTISEMENT

حجامت

سعادت حسن منٹو

میاں بیوی کی نوک جھونک پر مبنی مزاحیہ افسانہ ہے، جس میں بیوی کو شوہر کے بڑے بالوں سے وحشت ہوتی ہے لیکن اس بات کو ظاہر کرنے سے پہلے ہزار قسم کے گلے شکوے کرتی ہے۔ شوہر کہتا ہے کہ بس اتنی سی بات کو تم نے بتنگڑ بنا دیا، میں جا رہا ہوں۔ بیوی کہتی ہے کہ خدا کے لیے بتا دیجیے کہاں جا رہے ہیں ورنہ میں خود کشی کر لوں گی۔ شوہر جواب دیتا ہے نصرت ہیئر کٹنگ سیلون۔

پشاور سے لاہور تک

سعادت حسن منٹو

جاوید پشاور سے ہی ٹرین کے زنانہ ڈبے میں ایک عورت کو دیکھتا چلا آرہا تھا اور اس کے حسن پر نثار ہو رہا تھا۔ راولپنڈی  اسٹیشن کے بعد اس نے راہ و رسم پیدا کی اور پھر لاہور تک پہنچتے پہنچتے اس نے سیکڑوں قسم کے منصوبے ذہن میں ترتیب دے ڈالے۔ لیکن لاہور پہنچ کر جب اسے معلوم ہوا کہ وہ ایک طوائف ہے تو وہ الٹے پاؤں راولپنڈی واپس ہو گیا۔

تین موٹی عورتیں

سعادت حسن منٹو

طبقۂ اشرافیہ کی عورتوں کی دلچسپیوں، ان کے مشاغل اور ان کی مصروفیات کا عمدہ تذکرہ پر مبنی عمدہ کہانی ہے۔ اس کہانی میں تین ایسی عورتیں ایک ساتھ جمع ہیں جن کی باہمی دوستی کی وجہ صرف ان کا موٹاپا ہے۔ وہ سال میں ایک مہینے کے لیے موٹاپا کم کرنے کی غرض سے کربساد جاتی ہیں لیکن وہاں بھی وہ ایک دوسرے کی حرص میں مرغن غذاؤں سے پرہیز نہیں کرتیں اور برسہا برس گزر جانے کے بعد بھی ان کے موٹاپے میں کوئی فرق نہیں آتا۔

پھولوں کی سازش

سعادت حسن منٹو

مختلف حیلوں اور بہانوں سے اتحاد و اتفاق کو پارہ پارہ کرنے والے عناصر کی نشاندہی تمثیلی پیرایہ میں کی گئی ہے۔ ایک دن گلاب مالی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہے اور سارے پھولوں کو اپنی آزادی اور حقوق کی طرف متوجہ کرتا ہے لیکن چنبیلی اپنی نرم و نازک باتوں سے گلاب کو اپنی طرف ملتفت کرکے اصل مقصد سے غافل کر دیتی ہے۔ صبح مالی آکر دونوں کو توڑ لیتا ہے۔

ADVERTISEMENT

غسل خانہ

سعادت حسن منٹو

گلگت خان

سعادت حسن منٹو

یہ ہوٹل میں کام کرنے والے ایک بیحد بدصورت نوکر کی کہانی ہے۔ اس کی بدصورتی کی وجہ سے اس کا مالک اسے پسند کرتا ہے اور نہ ہی وہاں آنے والے گاہک۔ اپنی محنت اور اخلاق سے وہ سبھی کا عزیز بن جاتا ہے۔ اپنے اکیلے پن کو دور کرنے کے لیے وہ مالک کی ناپسندیدگی کے باوجود ایک کتے کا پلا پال لیتا ہے۔ بڑا ہونے پر کتے کو پیٹ کی کوئی بیماری ہو جاتی ہے، تو اسے ٹھیک کرنے کے لیے گلگت خان چوری سے اپنے مالک کا بٹیر مارکر کتے کو کھلا دیتا ہے۔

چور

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک قرضدار شرابی شخص کی کہانی ہے۔ وہ شراب کے نشہ میں ہوتا ہے، جب اسے اپنے قرض اور ان کے وصول کرنے والوں کا خیال آتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اسے اگر کہیں سے پیسے مل جایں تو وہ اپنا قرض اتار دے۔ حالانکہ ایک زمانہ میں وہ اعلیٰ قسم کا تکنیشین تھا اور اب وہ قرضدار تھا۔ جب قرض اتارنے کی اسے کوئی صورت نظر نہیں آئی تو اس نے چوری کرنے کی سوچی۔ چوری کے ارادے سے وہ دو گھروں میں گیا بھی، مگر وہاں بھی اس کے ساتھ کچھ ایسا حادثہ ہوا کہ وہ چاہ کر بھی چوری نہیں کر سکا۔ پھر ایک دن اسے ایک شخص پچاس ہزار روپیے دے گیا۔ ان روپیوں سے جب اس نے اپنے ایک قرضدار کو کچھ روپیے دینے چاہے تو تکیے کے نیچے سے روپیوں کا لفافہ غائب تھا۔‘‘

صاحب کرامات

سعادت حسن منٹو

صاحب کرامات سادہ دل افراد کو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر دھوکہ دینے اور بیوقوف بنانے کی کہانی ہے۔ ایک عیار آدمی پیر بن کر موجو کا استحصال کرتا ہے۔ شراب کے نشے میں دھت اس پیر کو  کراماتی بزرگ سمجھ کر موجو کی بیٹی اور بیوی اس کی ہوس کا نشانہ بنتی ہیں۔ موجو کے جہالت کی حد یہ ہے کہ اس پیر کی مصنوعی داڑھی تکیہ کے نیچے ملنے کے بعد اس کی چالبازی کو سمجھنے کے بجائے اسے کرامت سمجھتا ہے۔

ADVERTISEMENT

چغد

سعادت حسن منٹو

جنسی خواہش ایک حیوانی جبلت ہے اور اس کے لیے کسی اسکیم اور پلاننگ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی بنیادی نکتہ پر بنی گئی اس کہانی میں ایک ایسے نوجوان کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو ایک پہاڑی دوشیزہ کو راغب کرنے کے لیے ہفتوں پلان بناتا رہتا ہے پھر بھی کامیاب نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس ایک لاری ڈرائیور چند منٹوں میں ہی اس لڑکی کو رام کرکے اپنی خواہش پوری کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

نفسیات شناس

سعادت حسن منٹو

’’یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو اپنے گھریلو خادم کا نفسیاتی مطالعہ کرتا ہے۔ اس کے یہاں پہلے دو سگے بھائی نوکر ہوا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک بہت چست تھا تو دوسرا بہت سست۔ اس نے سست نوکر کو ہٹاکر اس کی جگہ ایک نیا نوکر رکھ لیا۔ وہ بہت ہوشیار اور پہلے والے سے بھی زیادہ چست اور تیز تھا۔ اس کی چستی اتنی زیادہ تھی کہ کبھی کبھی وہ اس کے کام کرنے کی تیزی کو دیکھ کر جھنجھلا جاتا تھا۔ اس کا ایک دوست اس نوکر کی بہت تعریف کیا کرتا تھا۔ اس سے متاثر ہو کر ایک روز اس نے نوکر کی حرکتوں کا نفسیاتی مطالعہ کرنے کا ارداہ کیا اور ۔۔۔ پھر‘‘

یہ پری چہرہ لوگ

غلام عباس

ہر انسان اپنے مزاج اور کردار سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ سخت مزاج بیگم بلقیس طراب علی ایک دن مالی سے بغیچے کی صفائی کرا رہی تھیں کہ وہ مہترانی اور اس کی بیٹی کی بات چیت سن لیتی ہیں۔ بات چیت میں ماں بیٹی بیگموں کے اصل نام نہ لے کر انھیں مختلف ناموں سے بلاتی ہیں۔ یہ سن کر بلقیس بانو ان دونوں کو اپنے پاس بلاتی ہیں۔ وہ ان ناموں کے اصلی نام پوچھتی ہیں اور جاننا چاہتی ہیں کہ انھوں نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ مہترانی ان کے سامنے تو منع کر دیتی ہے لیکن اس نے بیگم بلقیس کا جو نام رکھا ہوتا ہے،وہ اپنے شوپر کے سامنے لے دیتی ہے۔

کبوتروں والا سائیں

سعادت حسن منٹو

افسانہ انسانی عقائد اور توہمات پر مبنی ہے۔ مائی جیواں کے نیم پاگل بیٹے کو صاحب کرامات سمجھنا، سندر جاٹ ڈاکو جس کا وجود تک مشکوک ہے اس سے گاؤں والوں کا خوف زدہ رہنا، نیتی کے غائب ہونے کو سندرجاٹ سے وابستہ کرنا ایسے مفروضے ہیں جن کی تصدیق کے کوئی دلائل نہیں۔

ADVERTISEMENT

پری

سعادت حسن منٹو

افشائے راز

سعادت حسن منٹو

’’یہ افسانہ میاں بیوی کے درمیان پنجابی زبان کے ایک گیت کو لیکر ہوئے نوک جھونک پر مبنی ہے۔ میاں ایک روز نہاتے ہوئے پنجابی کا کوئی گیت گانے لگا تو بیوی نے اسے ٹوک دیا، کیونکہ اسے پنجابی زبان سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ اس پر شوہر نے اسے کئی طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی۔ مگر بات نہیں بنی۔ تبھی نوکر ڈاک لیکر آ گیا۔ بیوی نے شوہر کی اجازت کے بغیر ڈاک کھولی تو وہ ایک خاتون کا خط تھا، جس میں اسی گیت کی کچھ سطریں لکھی ہوئی تھیں، جو اس کا شوہر کچھ دیر پہلے گنگنا رہا تھا۔‘‘

نکی

سعادت حسن منٹو

’’یہ افسانہ ایک ایسی عورت کی داستان بیان کرتا ہے جس کا شوہر ہر وقت اسے مارا پیٹا کرتا تھا۔ بالآخر شوہر نے ایک طوائف کے کہنے پر اسے طلاق دے دی۔ شوہر کی مار اور ذلیل و خوار ہونےکے بعد اس عورت میں جو غصہ اور نفرت جمع ہو گئی تھی وہ نئے محلے میں آکر باہر آنے لگی۔ وہ بات بات پر پڑوسیوں سے الجھنے لگی، ان سے لڑنے لگی تھی۔ اب اس عورت نے لڑنے جھگڑنے کو ہی اپنا پیشہ بنا لیا اور اپنے لڑنے کی فیس طے کر دی۔ جھگڑنا اس کے مزاج کا ایسا حصہ بن گیا کہ اسے دورے پڑنے لگے اور پڑوسیوں کو گالی بکتے ہوئے ہی اس کی موت ہوگئی۔‘‘

ٹوٹو

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

بچنی

سعادت حسن منٹو

رتی، ماشہ، تولہ

سعادت حسن منٹو

یہ ایک رومانی کہانی ہے۔ جمال نام کے لڑکے کو ایک لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے۔ لڑکی بھی اس سے محبت کرتی ہے، لیکن اس کی محبت بہت نپی تلی ہوتی ہے۔ اس کا سبب اس کی زندگی کا معمول (ٹائم ٹیبل) ہوتا ہے، جسکے مطابق وہ ہر کام وقت پر اور نپے تلے انداز میں کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ دوسرے کاموں کی طرح ہی وہ محبت کو بھی وقت اور اس کے کئے جانے کی مقدار میں کرنے پر ہی راضی ہوتی ہے۔ لیکن جب جمال اس سے اپنی جیسی چاہت کی مانگ کرتا ہے، تو ان کی شادی طلاق کے لیے کورٹ تک پہنچ جاتی ہے۔

مس ٹین والا

سعادت حسن منٹو

یہ ایک نفسیاتی مریض کی ذہنی الجھنوں اور پریشانیوں پر مبنی کہانی ہے۔ زیدی صاحب ایک تعلیم یافتہ شخص ہیں اور بمبئی میں رہتے ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں سے وہ ایک بلے کی اپنے گھر میں آمد ورفت سے پریشان ہیں۔ وہ بلا اتنا ڈھیٹ ہے کہ ڈرانے، دھمکانے یا پھر مارنے کے بعد بھی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ کھانے کے بعد بھی وہ اسی طرح اکڑ کے ساتھ زیدی صاحب کو گھورتا ہوا گھر سے باہر چلا جاتا ہے۔ اس کے اس رویئے سے زیدی صاحب اتنے پریشان ہوتے ہیں کہ وہ اپنے مصنف دوست سے ملنے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے دوست کی اپنی کیفیت اور اس بلے کی شرارتوں کی پوری داستان سناتے ہیں تو پھر دوست کے یاد دلانے پر انہیں یاد آتا ہے کہ بچپن میں اسکول کے باہر مس ٹین والا آیا کرتا تھا، جو مسٹر زیدی پر عاشق تھا۔ وہ بھی اس بلے کی ہی طرح ضدی، اکڑ والا اور ہر طرح کے زد و کوب سے بے اثر رہا کرتا تھا۔

شادی

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

قبض

سعادت حسن منٹو

تصویر

سعادت حسن منٹو

شراب

سعادت حسن منٹو

خط اور اس کا جواب

سعادت حسن منٹو

مسز ڈی سلوا

سعادت حسن منٹو

بجلی پہلوان

سعادت حسن منٹو

امرتسر کے اپنے وقت کے ایک نامی پہلوان کی کہانی ہے۔ بجلی پہلوان کی شہرت سارے شہر میں تھی۔ حالانکہ دیکھنے میں وہ موٹا اور تھل تھل آدمی تھا جو ہر قسم کے دو نمبری کام کیا کرتا تھا۔ پھر بھی اسے پولس پکڑ نہیں پاتی تھی۔ ایک بار اسے سولہ سترہ سال کی ایک لڑکی سے محبت ہو گئی اور اس نے اس سے شادی کر لی۔ شادی کے چھہ مہینے گزر جانے کے بعد بھی پہلوان نے اسے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ ایک دن جب وہ اپنی بیوی کے لیے تحفے لیکر گھر پہنچا تو وہ اس کے بڑے بیٹے کے ساتھ ایک کمرے میں بند کھلکھلا رہی تھی۔ اس سے ناراض بجلی پہلوان نے اسے ہمیشہ کے لیے اپنے بیٹے کے حوالے کر دیا۔

چوہے دان

سعادت حسن منٹو

چند مکالمے

سعادت حسن منٹو

حافظ حسین دین

سعادت حسن منٹو

یہ تعویز غنڈے کے سہارے لوگوں کو ٹھگنے والے ایک فرضی پیر کی کہانی ہے۔ حافظ حسین دین آنکھوں سے اندھا تھا اور ظفر شاہ کے یہاں آیا ہوا تھا۔ ظفر سے اس کا تعلق ایک جاننے والے کے ذریعے ہوا تھا۔ ظفر پیر اولیا پر بہت یقین رکھتا تھا۔ اسی وجہ سے حسین دین نے اسے مالی طور پر خوب لوٹا اور آخر میں اس کی منگیتر کو ہی لیکر فرار ہو گیا۔

پھوجا حرام دا

سعادت حسن منٹو

سبز سینڈل

سعادت حسن منٹو

سگریٹ اور فاؤنٹین پن

سعادت حسن منٹو

رحمت خداوندی کے پھول

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسے شرابی شخص کی کہانی ہے جو جتنا بڑا شرابی ہے، اتنا ہی بڑا کنجوس بھی ہے۔ وہ دوستوں کے ساتھ شراب پینے سے بچتا ہے، کیونکہ اس سے اسے زیادہ روپیے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ وہ گھر پر بھی نہیں پی سکتا، کیونکہ اس سے بیوی کے ناراض ہو جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ اس مشکل کا حل وہ کچھ اس طرح نکالتا ہے کہ پیٹ کے درد کا بہانہ کرکے دوائی کی بوتل میں شراب لے آتا ہے اور بیوی سے ہر پندرہ منٹ کے بعد ایک خوراک دینے کے لیے کہتا ہے۔ اس سے اس کی یہ مشکل تو آسان ہو جاتی ہے۔ مگر ایک دوسری مشکل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک روز اس کی بیوی پیٹ کے درد کی وجہ سے اسی بوتل سے تین پیگ پی لیتی ہے۔

تین میں نہ تیرہ میں

سعادت حسن منٹو

افسانہ میاں بیوی کے درمیان ہونے والی نوک جھونک پر مبنی ہے۔ بیوی اپنے شوہر سے ناراض ہے اور اس کے ساتھ جھگڑتے ہوئے محاوروں کا استعمال کرتی ہے۔ شوہر اس کے ہر محاورے کا جواب دیتا ہے اور وہ دونوں جھگڑتے ہوئے عورت مرد کے تعلقات، شادی اور خانگی امور کے بارے میں بڑی دلچسپ گفتگو کرتے جاتے ہیں۔

گرم سوٹ

سعادت حسن منٹو

شکاری عورتیں

سعادت حسن منٹو

’’یہ افسانہ مردوں کے شکار پر نکلی عورتوں پر مبنی ہے۔ اس میں بمبئی اور لاہور کی ان عورتوں کے قصہ بیان کئے گئے ہیں، جو بنا کسی وجہ کے راہ چلتے مردوں کے ساتھ ہو لیتی ہیں۔ یہ عورتیں ان مردوں کے ساتھ اپنا وقت گزارتی ہیں، یا پھر ان سے پیسے اینٹھتی ہیں۔‘‘

میرا ہم سفر

سعادت حسن منٹو

’’علیگڑھ سے امرتسر لوٹتے ہوئے ایک ایسے طالب علم کی کہانی ہے جو ٹرین میں سوار ہوا تو اسے الوداع کہنے آئے اس کے ایک ساتھی نے اس سے کوئی ایسی بات کہی کہ اس نے اسے پاگل کہہ کر جھٹک دیا۔ ٹرین میں اس کے ساتھ سفر کر رہے نوجوان نے سوچا کہ وہ اسے پاگل کہہ رہا ہے۔ بات کرنے پر پتہ چلا کہ وہ نوجوان اپنے گھر سے صرف اس لیے نکل آیا ہے کیونکہ اس کا یہودی باپ اسے پاگل کہتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کی بیوی بھی اسے چھوڑکر اپنے مائکے چلی جاتی ہے۔‘‘

بیمار

سعادت حسن منٹو

یہ ایک تجسس آمیز رومانی کہانی ہے جس میں ایک عورت مصنف کو مسلسل خط لکھ کر اس کے افسانوں کی تعریف کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی بیماری کا ذکر بھی کرتی جاتی ہے جو مسلسل شدید ہوتی جا رہی ہے۔ ایک دن وہ عورت مصنف کے گھر آ جاتی ہے۔ مصنف اس کے حسن پر فریفتہ ہو جاتا ہے اور تبھی اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی ہے جس سے ڈیڑھ برس پہلے اس نے نکاح کیا تھا۔