جبر پر شاعری

جبر ایک صورتحال ہے جس کا اختیار سے تضاد کا رشتہ ہے ۔ دنیا میں انسان جس قدر خود مختار ہے اور اس کے اعمال وافعال اس کی مرضی کے مطابق ہیں اسی قدر وہ مجبور بھی ہے ۔ بعض لوگوں کے نزدیک تو اختیار کی تمام صورتیں بھی جبر ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں ۔ جو کچھ ہم سوچتے ہیں اور کرتے ہیں وہ بھی دراصل ایک مخفی جبر ہے جسے ہم اختیار کا نام دے دیتے ہیں ۔ یہ جبر خود ہمارے داخل کا پیدا کیا ہوا بھی ہوتا ہے اور سماجی، سیاسی، تاریخی، مذہبی اور تہذیبی صورتوں کا بھی ۔ یہ شاعری جبر کی انہیں تمام صورتوں کا تخلیقی بیان ہے ۔

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

مظفر رزمی

زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں

ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں

فانی بدایونی

میں ہوں بھی اور نہیں بھی عجیب بات ہے یہ

یہ کیسا جبر ہے میں جس کے اختیار میں ہوں

منیر نیازی