ADVERTISEMENT

افسانے پرانصاف

انار کلی

سعادت حسن منٹو

یہ افسانہ روایتی خیالات رکھنے والے والدین کی انتہا پسندی پر مبنی ہے۔ سلیم کالج کی ایک لڑکی سے یہ سوچ کر محبت کا اظہار کرتا ہے کہ حسب سابق یہ بھی دوسری لڑکیوں کی طرح راضی ہو جائے گی۔ لیکن سیما اس کی پیش کش رد کر دیتی ہے۔ وہ انتقام لینا چاہتا ہے لیکن اسے رفتہ رفتہ محبت ہو جاتی ہے۔ اسی درمیان اس کے والدین اسے شادی کے لیے کہتے ہیں۔ یہ اپنا مدعا رکھتا ہے تو بتاتے ہیں کہ اتفاق سے یہ وہی لڑکی ہے جس سے تم محبت کرتے ہو۔ سلیم خوشی سے خیالوں کی دنیا میں خود کو شہزادہ سلیم اور سیما کو انار کلی کے روپ میں دیکھتا ہے۔ لیکن شادی کی رات جب وہ اپنی بیوی کا گھونگھٹ اٹھاتا ہے تو وہ سیما نہیں بلکہ کوئی اور لڑکی ہوتی ہے۔

قرض کی پیتے تھے۔۔۔

سعادت حسن منٹو

مرزا غالب کی مے خواری اور قرض کی عدم ادائیگی کی باعث معاملہ عدالت میں پہنچ جاتا ہے۔ وہاں مفتی صدر الدین آزردہ کرسی عدالت پر براجمان ہوتے ہیں۔ مرزا غالب کی غلطی ثابت ہو جانے کے بعد مفتی صدر الدین جرمانہ کی سزا بھی دیتے ہیں اور اپنی جیب خاص سے جرمانہ ادا بھی کر دیتے ہیں۔

جھوٹی کہانی

سعادت حسن منٹو

اس کہانی میں ایک مفروضہ بدمعاشوں کی انجمن کی وساطت سے سیاست دانوں پر گہرا طنز کیا گیا ہے۔ بدمعاشوں کی انجمن قائم ہوتی ہے اور بدمعاش اخباروں کے ذریعہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کی روک تھام کے لیے ایک بڑے ہال میں جلسہ کیا جاتا ہے جس میں سیاست داں اور عمائدین شہر بدمعاشوں کی انجمن کے خلاف تقریریں کرتے ہیں۔ اخیر میں پچھلی صف سے انجمن کا ایک نمائندہ کھڑا ہوتا ہے اور غالب کے اشعار کی مدد سے اپنی دلچسپ تقریر سے سیاست دانوں پر طنز کرتا ہے اور ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان قائم کرتا ہے۔

ADVERTISEMENT