Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مسجد پر اشعار

ایک پرندہ چیخ رہا ہے مسجد کے مینارے پر

دور کہیں گنگا کے کنارے آس کا سورج ڈھلتا ہے

نور بجنوری

یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر

یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں طنز کے ذریعے عبادت کی بے سمتی دکھائی گئی ہے۔ محراب پر لکھی بات نے یہ حقیقت کھول دی کہ کچھ لوگ سمجھ بوجھ کے بغیر رسم نبھاتے ہیں۔ نماز کے جس مقام پر قیام ہونا چاہیے وہاں سجدہ کر دینا ان کی نادانی اور اندھی تقلید کی علامت ہے۔ پیغام یہ ہے کہ عبادت شعور اور درست سمجھ کے ساتھ ہونی چاہیے، محض عادت کے طور پر نہیں۔

علامہ اقبال

پختہ کر لے اے زاہد اپنا ایماں

مسجد سے پہلے مے خانہ پڑتا ہے

عبدالوقار
بولیے